کورونا کا عفریت ساڑھے 3 کروڑ پاکستانیوں کا روزگار نگل گیا

کورونا کا عفریت ساڑھے 3 کروڑ پاکستانیوں کا روزگار نگل گیا

107 views

کورونا وائرس  کی وبا سے دنیا بھر میں  تباہ کن اثرات مرتب ہوئے  ہیں اس وبا  نے نہ صرف صحت بلکہ  روزگار کے لیے  بھی زہر قاتل ثابت ہوئی ہے، کورونا وائرس  کے عفریت نے پوری دنیا کی معاشی ترقی اور شرح نمود کو بدترین نقصان پہنچایا ۔

فہمیدہ یوسفی

 دنیا بھر کی طرح پاکستان کی معیشت کو  کورونا کی وجہ سے شدید  دھچکا پہنچا۔ اس کورونا وبا سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان کا  محنت کش طبقہ ہوا ہے۔

اس  کورونا لاک ڈاؤن میں محنت کش طبقہ کو  باہر جان کے  خوف نے جبکہ گھر کے اندر بھوک اور افلاس کے  خوف نے اپنے گھیرے میں رکھا  ملک میں  کام کرنے والی 0.47 فیصد آبادی پر  سب سے زیادہ منفی اثرات دیکھنے میں آئے کورونا کا آسیب  ساڑھے تین کروڑ  پاکستانیوں کا روزگار نگل گیا ۔

دوسری جانب پاکستان کے ادارہِ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق کورونا  کی وباء سے پہلے  ملک بھر میں برسر روزگار افراد کی تعداد تقریباً 5 کروڑ 57 لاکھ تھی۔Unemployment in Pakistan

لیکن بدقسمتی سے کو رونا کے باعث لگنے والا لاک ڈاؤن سے بیروزگاری میں مزید 22 فیصد اضافہ  دیکھنے میں آیا  جس سےبرسر روزگار افراد کی تعداد کم ہو کر 3 کروڑ 50 لاکھ کو پہنچ گئی۔

ناصرف یہ بلکہ لاک ڈاؤن کے دوران 37 فیصد یعنی تقریباً 2 کروڑ 6 لاکھ افراد بے روز گار ہوئے جبکہ 12 فیصد یعنی تقریباً 70 لاکھ افراد کو تنخواہوں میں کٹوٹی کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں: کیا نیا مالی سال کا بجٹ عوام کی توقعات کے مطابق ہے ؟؟

غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار لیبر ریسرچ (پائلر) کے مطابق پاکستان  اس وقت روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ اجرت پر کام کرنے کی بنیاد پر موجود  محنت کشوں کی تعداد تقریباﹰ 26 ملین ہے۔ جن میں سے تقریباﹰ پانچ ملین کو اجرت  روز انہ کی بنیاد پر دیجاتی ہے  جبکہ چار ملین کو ہفتے کی بنیاد پر  اجرت دیجاتی ہے ۔

کورونا لاک ڈاؤن نے سب سے زیادہ نقصان روزانہ اجرت  پر کام کرنے والے پانچ ملین  افراد کا کیا۔

پاکستان کے ادارہِ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وبا کا شکار ہوکر ملک بھر میں مالی سال 20۔2021ء میں جاں بحق ہونے والوں کی مستند  تعداد 21 ہزار ایک سو پانچ ہے۔ جبکہ اس سے متاثرہ لوگوں کی کل تعداد 928,588 (9 لاکھ 28 ہزار 588) رہی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کووڈ 19 کی وبا کے نتیجے میں مالی سال 20-2021ء میں 0.47 فیصد کے منفی اثرات پڑے ہیں جن میں، ملازمت کے نقصانات قابل ذکر ہیں۔

Unemployment rate slips to 5.8pc in FY18 - Newspaper - DAWN.COM

سماجی و اقتصادی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کیے گئے خصوصی سروے کے مطابق لوگوں کی اس وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے کام کرنے والی آبادی کا تقریباً نصف حصہ کاروبار کی بندش کی وجہ سے متاثر ہوا۔

لاک ڈاؤن جیسے حفاظتی انتظامات کے نتیجے میں مختلف کاروبار سے منسلک 35 فیصد آبادی بری طرح پریشان ہوئی جس سے 3 کروڑ 50 لاکھ افراد بیروزگار ہوگئے۔ کوروناوائرس سے بچاؤ کے لیے اقدامات سے قبل ملک میں برسرروزگار افراد کی کل تعداد 5 کروڑ 57 لاکھ 50 ہزار تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لوگ ملازمت سے محروم ہوگئے ہیں۔

جبکہ اعداد و شمار کے مطابق  بیروز گاری کا سامنا کرنے والے 74 فیصد افراد کا تعلق ان فارمل سیکٹر سے تھا۔ کورونا کی وجہ سے  لاک ڈاؤن کے باعث  کنسٹرکشن سیکٹر سے منسلک 80 فیصد افراد یا تو بیروزگار ہوئے یا پھر ان کو تنخواہوں میں کٹوٹی کا سامنا کرنا پڑا، اسی طرح مینوفیکچرنگ میں 72 فیصد، ٹرانسپورٹ میں 67 فیصد جبکہ ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر سے منسلک 63 فیصد افراد یا تو بیروزگار ہوئے یا پھر انہیں اپنی تنخواہوں میں کٹوٹی کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: روشن ڈیجٹل اکاؤنٹ پاکستان کے لیے روشنی کی امید حجم ایک ارب ڈالر

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق   پاکستان میں مالیاتی سال 2021میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق  معیشت میں ترقی کی شرح 1.5 فیصد تک رہے گی۔ واضح رہے کہ  عالمی بینک نے بھی موجودہ مالیاتی سال کے لیے 1.3 فیصد ترقی کی پیشگوئی کی ہے ۔

  جبکہ اندازوں کے  مطابق 2020 اور 2021 کے دوران چھوٹے اور درمیانے در جے کے تاجروں کواربوں روپے کا مالی نقصان ہوچکا ہے

IMF urges Pakistan to freeze govt salaries

آئی ایم ایف کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کورونا وباء اور معاشی سست روی کے باعث اب 40 فیصد آبادی کے غربت سے لکیر سے نیچے ہونے کا اندیشہ ہے۔

 اگر آئی ایم ایف کا یہ اندیشہ سچ ثابت ہو گیا تو ملک میں غربت لکیر سے نیچے رہنے والے افراد کی تعداد 8 کروڑ سے تجاوز کرنے کا بھی خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا کی تیسری لہر مگر مستحکم ہوتی پاکستانی معیشت

آئی ایم ایف کے مطابق 2019 میں پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 4.1 فیصد تھی جو 2020 میں 4.5 پر پہنچ گئی، اور اب سال 2021 میں ملکی بیروزگاری کی شرح 5.1 فیصد تک پہنچنے کا اندیشہ ہے جبکہ اب کورونا کی چوتھی لہر کے خدشات کے باعث ایک بار پھر ملک اسمارٹ لاک ڈاؤن کی جانب جاسکتا ہے ۔

 بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری اور ساتھ  ہی کورونا وبا سے بچاؤ کے اقدامات تبدیلی سرکار کے لیے بہت بڑا چیلینج ہیں ۔

Content:Fahmidah Yousfi
Source:Pakistan Economic Survey

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *