afghan 808x454

مودی سرکار جاگو  افغانستان تو امریکہ سے بھی فتح نہیں ہوا

124 views

بیس سال کا طویل انتظار  دو دہائیوں پر  محیط  جنگ  2 لاکھ 41 ہزار افراد ہلاک اور 22 کھرب سے زائد اخراجات اور حاصل کچھ بھی نہیں۔

فہمیدہ یوسفی

افغانستان میں امریکہ کی طاقت کا ٘محور  سمجھے جانے والے بگرام ائیر بیس  کی بجھی  بتیاں اس بات کا اشارہ کررہی ہیں ہر عروج کو زوال ہے۔ جبکہ اگر  افغان طالبان بگرام ائیر بیس   پر  کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں ، تو ویسے بھی  کابل کا قبضہ ان کے لیے بے حد آسان ہوگا ۔

اس وقت طالبان افغانستان کے پچاسی فی صد حصّے پر قابض ہیں امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد افغان حکومت کے کنٹرول میں رہنے والے علاقے بھی طالبان کے قبضے میں جا رہے ہیں۔ درجنوں اضلاع پر طالبان نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور افغان فورسز کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔

مزید پڑھیں: بگرام ائیربیس:بھارتی اہلکار بھی خاموشی سے بھاگ نکلے ۔۔

یہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد  کی بات ہے جب سات اکتوبر 2001 سے افغانستان میں  امریکی تاریخ کی بیرون ملک جاری رہنے والی طویل ترین اور کبھی ختم نہ ہونے والی جنگ کا آغاز ہوا تھا ۔

رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں امریکہ کو ملک سے باہر اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ افغان جنگ کے آغاز سے اب تک 2400 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور 20 ہزار 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

An Afghan security personnel stands guard at the site of a car bomb attack in Kandahar on July 6, 2021.

تاہم  اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا  ہے کہ  اربوں ڈالزر کے خرچے کے باوجود  امریکی فوج کو رات کے اندھیروں میں انخلا کا یہ سفر طے کرنا پڑرہا ہے ۔

افغانستان  میں لمحہ لمحہ بدلتی صورتحال نے  امریکی اتحادیوں کے ہوش اڑادیے ہیں اور وہاں زیادہ ترموجود ممالک اپنے قونصل خانے بند کرنے پر مجبور ہیں جس میں بھارت بھی شامل ہے ۔

بھارتی میڈیا رپورٹس  نے بھی تصدیق کی ہے کہ   طالبان کی بڑھتی پیش قدمی  کے باعث  بھارت  نے افغانستان کے شہر قندھار میں اپنے قونصل خانے کو بند کرنے  کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان امن مذاکرات :کیا ترکی طالبان کو منانے میں کامیاب ہوگا؟

جبکہ  غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے  کہ مودی سرکار نے قندھار کے قونصل خانے سے اپنے سفارتی اور سکیورٹی عملے کو عارضی طور پر وہاں سے نکالا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ  جنوبی افغانستان میں جاری پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے بھارتی عملے کے تقریباﹰ پچاس اہلکار وہاں سے نکال لیے گئے ہیں۔

 بھارت کی پریشانی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے پاکستان میں انارکی کے لیے افغانستان کا انتخاب کیا اور وہاں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ۔

تاہم لگتا یوں ہے کہ مودی سرکار نے روس اور امریکہ سے کوئی سبق نہیں سیکھنا ۔

ایک طرف تو  بھارتی کابینہ میں ڈوبتی معیشت کرپشن اور کورونا کے بدترین حالات کی وجہ سے  بڑے پیمانے میں اکھاڑ پچھاڑ  کی گئی ہے تو وہیں دوسری جانب مودی سرکار کے لیے خارضہ پالیسی کے محاذ پر سب سے بڑا چیلینج  افغانستان میں طالبان کا بڑھتا اثرو رسوخ ہے ۔

رپورٹس کے مطابق بھارت بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے افغان طالبان سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن وہ بھارت ہی کیا جو سازشوں سے باز آجائے   تازہ ترین اطلاعات  کے مطابق  بھارت سفارتی اہلکاروں کی نقل و حرکت کے بہانے خصوصی طیاروں سے افغان فوج کیلئے اسلحہ فراہم کررہا ہے کابل اور قندھار ایئرپورٹ پر بھارتی فضائیہ کے سی17 کارگو طیاروں کی تصاویر بھی سامنے آگئیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان سے فوجی انخلا:امریکہ ، برطانیہ اور نیٹو کا اہم فیصلہ

ان تصاویر میں کابل اور قندھار ایئرپورٹ پر بھارتی جہازوں سے سامان اتارتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

دنیا میرے آگے:-افغانستان، خانہ جنگی کی بھارتی سازش بے نقاب، ایک طرف طالبان سے خفیہ مذاکرات دوسری جانب حکومت کو بھاری اسلحے اور گولہ بارود کی فراہمی

مودی سرکار کو اس وقت  اندرونی طور پر بھی  کورونا معیشت اور کرپشن اور اپنی ساکھ بچانے جیسے چیلینجز کا سامنا ہے  جبکہ اس کی افواج میں بھی آپس کی لڑائیاں اب تو میڈیا رپورٹس کا حصہ بن رہی ہیں اس صورتحال میں مودی سرکار   کو  پاکستان کے خلاف سازشوں کے لیے اب افغانستان کو اپنا بیس کیمپ  بناکر استعمال کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی  ساتھ ہی  کابل   میں اپنی کٹھ پتلی حکومت لانے کا خواب بھی بھولنا ہوگا  کیونکہ افغانستان کی سرزمین تو  روس اور پھر امریکہ  کی افواج کے لیے زندہ قبرستان بن گئی ہے ۔

تو مودی سرکار  اب جاگنے کا وقت آگیا ہے  یاد رکھنے کا وقت آگیا ہے کہ کابل کا میدان تو دنیا کی واحد سپر پاور  سے فتح نہیں ہوسکا تو یہ معرکہ ہندوستان کے بس کا نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں
Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *