احتیاط بھارتی ڈیلٹا وائرس آگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے

احتیاط بھارتی ڈیلٹا وائرس آگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے

262 views

بھارتی ڈیلٹا اور ڈیلٹا پلس وائرس سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہے، یہ آگ کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔وزیراعظم ٹاسک فورس برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر عطاءالرحمان

فہمیدہ یوسفی

 نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے 21 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 22 ہزار 618 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 9 لاکھ 76 ہزار 867 ہوگئی۔  جبکہ پاکستان  بھر میں کورونا کی چوتھی لہرمیں شدت دیکھی جارہی ہے اور چوبیس گھنٹےمیں مثبت کیسزکی شرح تین اعشاریہ چھ  تین ہوگئی ہے ۔

Coronavirus third wave: NCOC bans indoor wedding functions from April 5 onwards

کورونا وائرس کی چوتھی لہر میں  کورونا  وائرس کی سب سے زیادہ خطرناک قسم “ڈیلٹا”  اپنی پوری ہولناکیوں کے ساتھ سامنے آئی ہے ۔  طبی ماہرین کے مطابق  بھارت سے شروع ہونے والے ا س مہلک ترین وائرس کی ہولناکیاں آگ سے بھی  زیادہ خطرناک ہیں  یہ وائرس متعدی  ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے پنجے گاڑ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں لاک ڈاؤن ، ہزاروں افراد ڈھاکہ میں پھنس گئے

 بدقسمتی سے  اس وائرس سے متاثر کیسز پاکستان میں بھی رپورٹ ہورہے ہیں  اطلاعات کے مطابق  کراچی میں بھارتی کورونا کی خطرناک قسم ڈیلٹا سے ایک ہی گھر کے 9 افراد متاثر ہوگئے ہیں۔

تمام متاثرہ افراد کو لیاری جنرل ہسپتال کے کورونا ایچ ڈی یو میں داخل کیا گیا ہے۔ انچارج کورونا آئی سی یووارڈ پروفیسر انجم رحمان کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد میں میاں، بیوی، بچے اور دیگر افرد شامل ہیں، جن کی عمریں دس سے 55 سال کے درمیان ہیں۔ متاثرہ فیملی ملیر کی رہائشی ہے۔ تمام افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، عملے کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت سندھ نے کراچی میں ڈیلٹا ویرینٹ (انڈین ویرینٹ) کے 35 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جولائی سے اب تک ڈیلٹا ویرینٹ کے 35 کیسز سامنے آ چکے ہیں ۔ جبکہ محکمہ صحت سندھ کے مطابق ر واں ماہ ڈیلٹا ویرینٹ کے 18 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم ٹاسک فورس برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر عطاءالرحمان  نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ  بھارتی ڈیلٹا اور ڈیلٹا پلس وائرس سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہے، یہ آگ کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے شرح اموات کی تعداد بھی زیادہ ہے، اگلے تین سے چار ہفتے بہت اہم ہیں، اس وقت وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہی واحد حل ہے۔

Coronavirus situation will exacerbate if govt doesn't intensify testing: Dr Atta-ur-Rahman

  ڈاکٹر عطاءالرحمان  کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی بے احتیاطی کی وجہ سے کیسز کی شرح دوبارہ بڑھ رہی ہے، ایک ساتھ ملک کی پوری آبادی کو ویکسی نیشن کرنا نا ممکن ہے اس میں ابھی وقت لگے گا اسلئے عوام کو چاہیے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں، ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ رکھیں، کثرت کے ساتھ ہاتھ دھوئیں اور ہجوم میں جانے سے گریز کریں، اگر وائرس پھیل گیا تو صحت کے نظام پر شدید دباؤ آنے کا خدشہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وائرس سے بلیک فنگس کا بھی خطرہ ہے، بھارت میں بھی سینکڑوں لوگ فنگس کا شکار ہوئے اسلئے اگر کسی کو آنکھوں میں کوئی مسئلہ ہو تو اسے چاہیے کہ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرے۔

مزید پڑھیں: عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کی اقسام کو کونسے نئے نام دیئے ہیں؟

ڈیلٹا وائرس کے بارے میں بات کرتے  ہوئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کےسیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصرسجاد  نے کہا کہ  پاکستان میں بھارتی ڈیلٹاوائرس پھیلنےکاخدشہ ہے ملک میں کوروناایس اوپیز کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔

جبکہ  انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ایس اوپیزپرعملدرآمد نہ کرنے والے بازاروں،مویشی منڈیوں، شادی ہالز کو بند کیا جائے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کرے، ویکسینیشن کروائیں اوروائرس سےمحفوظ رہیں۔

کورونا کی قسم ڈیلٹا وئرینٹ بی B.1.617.2  آخر ہے  کیا؟

کورونا وائرس کی سامنے آنے والی سب سے خطرنا ک ٹائپDelta  جسے B.1.617.2 کہا جاتا ہے ، اکتوبر  2020 میں بھارت میں سامنے آئی۔اس وئیرینٹ  اس کا پھیلاؤ  نہ صرف بھارت میں بلکہ دنیا بھر میں اب تک اسی سے زائد مملاک جس میں پاکستان بھی شامل ہے  اس کی نشاندہی کی جاچکی ہے

Deltacoronavirus ~ ViralZone

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے ویریئنٹ  B.1.617.2 کو قابل  تشویش قرار دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ڈبلیو ایچ او نے ڈیلٹا کے علاوہ ایلفا، بِیٹا اور گیما ویریئنٹس کو بھی قابلِ تشویش قرار دے رکھا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا کی نئی قسم،تیسری لہر پہلے سے بھی خطرناک

واضح رہے کہ عالمی ادارہٴ صحت ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے ویریئنٹس کی شناخت یونانی حروف تہجی سے کرانے کا نظام متعارف کیا ہے ۔اس نظام کے تحت  ایک حرف تہجی میں ایک ہی جیسی خاصیتوں کے حامل ویریئنٹس رکھے گئے ہیں۔ اس نظام کے تحت کورونا وائرس کے برطانوی، جنوبی افریقی اور بھارتی ویریئنٹس کو ایلفا، بِیٹا اور گیما کے نام دیے گئے ہیں۔ ایسے نام رکھنے کی وجہ ان کے بہت مشکل اور پیچیدہ سائنسی نام ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے ڈیلٹا کے علاوہ ایلفا، بِیٹا اور گیما ویریئنٹس کو بھی قابلِ تشویش قرار دے رکھا ہے۔

 ڈیلٹاوئرینٹ B.1.617.2 کی ذیلی قسم ڈیلٹا ویریئنٹ پلس

رپورٹس کے مطابق  ڈیلٹا ویریئنٹ کی ایک ذیلی قسم بھی پیدا ہو گئی ہے۔ اس کو ڈیلٹا پلس یا AY.1 کا نام دیا گیا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کی ہیئت میں تبدیلی جاری ہے جس کی وجہ سے اس  ویریئنٹ  کی کئی میوٹیشنز سامنے آ چکی ہیں

ڈیلٹاوئرینٹ اتنا خطرناک اور مہلک کیوں ہے

 ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت  80 ممالک میں ڈیلٹا ویریئنٹ کی نشاندہی یا موجودگی کی تصدیق کی جاچکی ہے ۔ جبکہ صرف برطانیہ میں اس ویریئنٹ کی تشخیص ہزاروں مریضوں میں ہو چکی ہے۔ جبکہ 50 سال سے کم عمر افراد اس وئییرینٹسے ڈھائی گنا زیادہ بیمار ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کی بھارتی قسم کا پہلا کیس رپورٹ

برطانوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کی تشخیص بیالیس ہزار مریضوں میں ہو چکی ہے

US COVID cases rising rapidly as Delta dominates

گیوی ویکسین الائنس کے مطابق سر درد ، گلے کی سوجن ، ناک بہنا اور بخار اس وائرس کی بنیادی علامات ہوسکتی ہیں  تاہم  دوسری جانب  ڈیلٹا ویریئنٹ کی ہیئت میں تبدیلی جاری ہے جس کی وجہ سے اس  ویریئنٹ  کی علامات  بھی مختلف ہیں  معدے میں درد، قے، متلی، کھانے کی اشتہا ختم ہونا، سننے کی حس سے محرومی اور جوڑوں میں درد   بھی وائرس کی علامات میں شامل ہیں  جبکہ  پڑوسی ملک بھارت میں ڈیلٹا وئییرینٹ سے متاثر افراد میں بلیگ فنگس کے کیسز بھی سامنے آرہے ہہیں

کیا موجودہ ویکسین ڈیلٹا وئرینٹ کے خلاف موثر ہیں؟

اگرچہ پاکستان سے متعلق سرکاری طور پر اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں ، لیکن متحدہ عرب امارات ، جہاں  ویکسین پاکستان سے ملتی جلتی ہے کے مطابق  کہ انتہائی نگہداشت میں داخل ہونے والے 92فیصد  اور مرنے والوں میں سے 94٪فیصد کو  ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حفاظتی ٹیکے کم از کم انفیکشن کی شدت کو کم کرنے میں موثر ہیں ، اگر اسے پوری طرح سے روک  نہیں سکتے 

اب تک ، پاکستان نے چار ویکسینوں کی منظوری دے دی ہے۔ جن میں Sinopharm AstraZeneca, CanSino Bio Sputnik V. شامل ہیں 

114 cases of Covid-19 Delta variant traced in southwest France

سائنو فارم اور کین سائنو :  چینی مرکز برائے امراض کںٹرول اور روک تھام کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر فینگ زیجیان کے مطابق ، چینی ویکسین سائنو فارم اور کین سائنوں کے ذریعہ تیار کردہ اینٹی باڈیز ڈیلٹا کے خلاف کم مؤثر ہیں۔

اسٹرا زینیکا: انگلینڈ کی پبلک ہیلتھ اتھارٹی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کووڈ 19 ویکسین ایسٹرا زینیکا  ڈیلٹا وائرس کے   خلاف 92فیصد موثر ہیں

سپوتنک V: ویکسین تیار کرنے والے گامالیہ انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ، ڈینس لوگوونوف  کے مطابق   روسی ویکسین کورونا وائرس کے اس مہلک ترین وئیرینٹ  ڈیلٹا  کے خلاف 90 فیصد مؤثر ہے۔ ویکسین بنانے والوں کے  دعوے  کے مطابق مطابق ، سپوتنک V  وائرس  کی مختف ذیلی اقسام کے خلاف بہترین آپشنزمیں سے ایک ثابت ہورا ہے 

کورونا کی قسم ڈیلٹا وئرینٹ بی B.1.617.2   سے محفوظ کیسے رہا جائے

 پاکستان میں کورونا کی چوتھے لہر کے باعث متاثرہ کیسز میں اضافہ جبکہ  ڈیلٹا وئرینٹ کی موجودگی  تشویش کا باعث ہے ۔ ڈیلٹا وئرینٹ کی نشاندہی کو کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ وئرینٹ کورونا کی سابقہ اقسام سے 43 سے 90 فیصد تک زیادہ متعدی ہے۔  جبکہ عالمی  ادارہ صحت کی چیف سائنسدان ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ  ڈیلٹا  جلد دنیا بھر میں کورونا کی سب سے خطرناک  قسم بن سکتی ہے  جو  ایک بار پھر دنیا کو اپنی لپیٹ   میں لے سکتی ہے ۔ماہرین کے  مطابق  بچاؤ  کے لیے جلد از جلد مکمل ویکسینیشن  ضروری ہے ۔ 

15 delta variant cases detected in Rawalpindi - Pakistan - DAWN.COM

یاد رکھیں  کہ حفاظتی ویکسینشن کے بعد بھی ، آپ کو ایس او پیز  پر عمل در آمد  کرنا چاہئے۔گھر سے باہر ماسک کا استعمال لازمی کریں ۔باقاعدگی سے ہاتھ دھوتے  رہیں ۔ پرہجوم جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں ، اور سماجی  فاصلے  کو یقینی بنائیں۔ جہاں تک ممکن ہو ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کی کوشش کریں ۔ عوامی مقامات پرکھانے پینے سے گریز کریں  

یاد رکھیں کورونا کی خطرنا ک وبا کے اس مہلک ترین وئرینٹ کے  خلاف صرف حفاظتی تدابیر ہی  مؤثر ہیں یہ   متعدی  وئیرینٹ بے حد مہلک  اور موذی  ہے

Source: World Health Organization, NCOC ,World Media Reports

مصنف کے بارے میں
Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *