taliban2 808x454

کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کے لئے امریکا ترکی معاہدہ منظور نہیں: طالبان

109 views

افغان طالبان نے کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کے لیے امریکا اور ترکی کے درمیان معاہدے کی مخالفت کردی۔

ترتیب و تدوین:غانیہ نورین

طالبان نے ترکی کو کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کے لیے افغانستان میں اپنے کچھ فوجی اہلکار رکھنے کے فیصلے پر خبردار کیا ہے کہ جو ملک بھی ایسا کرے گا اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جیسا ایک ’قابض‘ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق نیٹو کے رکن ترکی کے افغانستان میں 500 سے زائد فوجی اہلکار موجود ہیں جن میں سے کچھ سکیورٹی فورسز کو تربیت دے رہے ہیں جبکہ دیگر حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ترجمان طالبان کا کہنا ہے طالبان ڈیڈلائن کے بعد کسی بھی غیر ملکی فوج کی افغانستان میں موجودگی کے خلاف ہیں۔

مزید پڑھیں: مودی سرکار جاگو  افغانستان تو امریکہ سے بھی فتح نہیں ہوا

دوسری طرف جمعے کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ انقرہ کا واشنگٹن کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت نیٹو کے انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کے لیے ترکی کے کچھ فوجی اہلکار افغانستان میں تعینات رہیں گے۔

اردوغان نے 9 جولائی کو بتایا تھا کہ ’ہمارے وزیر خارجہ کی اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات ہوئی اور ہماری امریکہ اور نیٹو کے ساتھ حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مستقبل پر بات چیت ہوئی۔‘

مزید پڑھیں: افغانستان سے فوجی انخلا:امریکہ ، برطانیہ اور نیٹو کا اہم فیصلہ

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انھوں نے افغانستان کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

دوسری جانب افغانستان کے شہر قندھار پر قبضے کے لیے طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: بگرام ائیربیس:بھارتی اہلکار بھی خاموشی سے بھاگ نکلے ۔۔

افغانستان سے موصول ہونے والی خبریں طالبان کی مسلسل پیشقدمی کی حکایت کرتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صوبے غور کے دو اضلاع تائیوارا اور پسابند بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔

ادھر قندھار میں واقع ہندوستان کے قونصل کی عمارت میں طالبان کے داخل ہوجانے کی خبریں بھی گشت کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان امن مذاکرات :کیا ترکی طالبان کو منانے میں کامیاب ہوگا؟

source: international media

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *