پاکستان کا دوٹوک فیصلہ امن میں حصہ دار جنگ میں نہیں۔

پاکستان کا دوٹوک فیصلہ امن میں حصہ دار جنگ میں نہیں۔

84 views

افغان میں امن عمل کےبہت سےپہلوہیں، پاکستان نے خلوص نیت سےامن عمل آگےبڑھانے کی کوشش کی اور اس امن عمل میں سہولت کارکردارکرتارہا، افغانستان نے کیسے آگے بڑھنا ہے فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر

فہمیدہ یوسفی

ہماری افغان پالیسی پاکستان کے مفاد پر ہے، وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ امن میں حصہ دار ہوں گے لیکن جنگ میں نہیں۔ فواد چوہدری

بیس سال بعد افغانستان سے آخر کار امریکی افواج کا حتمی انخلاء ہونے جارہا ہے تاہم جس طرح سے امریکہ نے انخلا کا طریقہ اپنایا ہے اس نے خطے کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے ۔ امریکی انخلا کا یوں تیزی سے ہونا کسی کے لیے متوقع نہیں تھا۔

اس غیر یقینی صورتحال میں سب سے زیادہ اثر ایک بار پھر پاکستان پر ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کا امن پاکستان کے امن کے لیے ضروری ہے

An Afghan security personnel stands guard at the site of a car bomb attack in Kandahar on July 6, 2021.

خطے کی صورتحال میں سب سے اہمیت کا حامل یہ سوال ہے کہ افغانستان میں جاری کشیدگی کے نتائج کیا ہونگے اور اس کے پاکستان پر کس طرح کے اثرات مرتب پوسکتے ہیں۔ اب اگر افغان متحارب گروپس ایک دوسرے کے خلاف صف آرا باہم دست وگریباں ریتے ہیں تو اس کے نتیجے میں چین اور پاکستان کے لیے مشکلات بڑھ جائینگی یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ امریکا اپنی طاقت کے لیے افغان مسلح گروپس پر خرچ کرکے کسی بھی ملک کے خلاف انہیں استعمال کرسکتا ہے، دوسری جانب امریکا پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان میں استحکام لانے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کے تیزی سے انخلا، امن مذاکرات میں تعطل اور بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے پاکستان کی ان کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو اقتدار کی تقسیم کے انتظامات سے متعلق ہیں۔

مزید پڑھیں: مودی سرکار جاگو  افغانستان تو امریکہ سے بھی فتح نہیں ہوا

انٹرنیشنل کرائسز گروپ نامی تھنک ٹینک کی ’’پاکستان: افغان امن عمل کی سپورٹ‘‘ نامی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغان امن عمل تیز تر ہوتا ہے یا پوری طرح سے ناکام ہوجاتا ہے کسی بھی صورت میں اسلام آباد کے کابل اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے، وزیراعظم عمران خان اپنے ایک انٹرویومیں بھی امریکا کو پاکستانی ہوائی اڈے دینے کے بارے میں واضح طور پر انکار کرچکے ہیں۔

ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کو افغانستان سے نکلنے کی جلدی ہے، انھیں نتائج کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ دوحہ معاہدے پر اصرار کیے بغیر افغانستان سے جا رہے ہیں۔ بگرام بیس خالی کرنے سے متعلق اطلاع دینے تک کی زحمت نہیں کی گئی۔ وہ بھی اس حال میں جب وہاں واقع جیل میں ہزاروں طالبان قیدی موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان امن مذاکرات :کیا ترکی طالبان کو منانے میں کامیاب ہوگا؟

چالیس سال سے زائد عرصہ سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں۔ نائن الیون سے قبل اور بعد ازاں غیر ملکی جنگجوؤں کی افغانستان آمد سے پاکستان کو امن وسلامتی کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں جرات مندانہ شرکت کے نتیجے میں پاکستان کو انتہا پسندی، عدم برداشت اور ان سب کے نتیجے میں ہولناک دہشت گردی کاسامنا کرنا پڑا۔ کھیل کے میدان، سیاحتی مقامات، کاروباری وتجارتی مراکز ویران ہو کر رہ گئے۔

Taliban say they now control 85% of Afghanistan's territory

ماضی کی طرح اس بار کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعطل ضرور ہے لیکن دروازے پوری طرح بند نہیں ہیں افغانستان میں بد امنی و انتشار کی صورت حال پر قابو خطے کے امن کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس خطے میں جہاں ایک طرف یہ قیاس آرائیاں بھی جنم لے رہی ہیں کہ ایشیا میں بھارت جاپان اور امریکہ کا طاقت کا نیا بلاک بننے جارہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ترکی چین کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جبکہ پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن سے کوئی بھی اسٹیک ہولڈر انکار نہیں کرسکتا

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے تو یہ بات بلکل واضح اور دوٹوک ہے کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں اس وقت کوئی لچک نہیں لارہا کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے ۔ جبکہ پناہ گزینوں کی آمدو رفت ایک بار پھر پاکستان کے امن کے لیے بڑا چیلینج ثابت ہوسکتی ہے پاکستان نے طور خم بارڈر وقتی طور پر ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کردیا ہے

مزید پڑھیں: کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کے لئے امریکا ترکی معاہدہ منظور نہیں: طالبان

اطلاعات کے مطابق طالبان نے 20 سال بعد افغانستان کی جانب سے باب دوستی کاکنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے، لیویز حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی باب دوستی ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے جس کے باعث تجارت بھی معطل ہے، باب دوستی پر اضافی سکیورٹی تعینات کرکے پاک افغان بارڈر پر ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

 ہوگدیگر ممالک تو اپنے مفادات دیکھیں گے لیکن اصل فیصلہ پاکستان اور افغانستان کی ’’بااثر شخصیات اور گروپوں‘‘ کے مابین ہی ہوگا

پاکستان چار دہائیوں سے افغانستان میں پائیدار امن کے لیے موثر کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔

 

The Taliban close in on Afghan cities, pushing the country to the brink | World News,The Indian Express

سوویت یونین کی فوجی مداخلت، سوویت افواج کا انخلاء اور اس کے بعد پیداہونے والے غیر سنجیدہ حالات، طالبان کی حکومت سازی، نائن الیون سانحہ اور اتحادی افواج کی جار حانہ آمد سمیت کسی بھی قسم کے حالات میں پاکستان نے افغانستان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

افغانستان میں سیاسی استحکام اور بحالی دراصل جنوب مغربی ایشیا ہی نہیں عالمی امن کی بنیادی ضرورت ہے۔ افغانستان کے پر امن ہونے کا دوسرا مطلب وسط ایشیا کے تمام ایشیائی خطوں اور ممالک سے محفوظ تجارتی تعلقات کی بحالی ہے۔

پر امن افغانستان بلوچستان سے ایران اور ترکی جب کہ خیبر پختونخوا اوربلوچستان سے وسط ایشیا، مشرقی یورپ اور ترکی تک پر امن جغرافیائی اتصال کی شکل میں یہاں آباد کروڑوں زندگیوں کو خوش حال اورترقی کی نعمت سے ہمکنار کرنے کاباعث بن سکتا ہے۔

پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کے مسائل اور افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے ملک کو منشیات، ناجائز اسلحے کی بہتات اور امن وامان کے حوالے سے سنگین مسائل نے لپیٹ میں لیے رکھا۔

مزید پڑھیں: بگرام ائیربیس:بھارتی اہلکار بھی خاموشی سے بھاگ نکلے ۔۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کے موقف کو دیارتے ہوئے کہا کہ ہ امریکا نے تو افغانستان سے انخلا کرلیا ہے، اب خطے کے اسٹیک ہولڈرز کو افغانستان کے فریقین کوہی مل بیٹھ کرمسئلے کا حل نکالنا ہوگا، پاکستان کو ہی اس مسئلےمیں موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

Pakistan to respond with full force if country's sovereignty challenged: DG ISPR

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پوری سنجیدگی سے افغان امن عمل آگے بڑھانے کی کوشش کی، کافی عرٖ صےسے کہہ رہے ہیں افغانستان میں حکومت کا فیصلہ وہاں کے عوام نے کرنا ہے اور بالآخرافغان عوام نے طےکرناہوگاکہ وہ کیسی افغان حکومت چاہتےہیں۔

افغانستان میں حالات خراب ہونےپرافغان سرحدسےپناہ گزینوں کی آمدکاخدشہ موجود ہوگا، پناہ گزینوں کی ممکنہ آمدپرتمام اداروں کو مل کرکام کرنےکی ضرورت ہوگی

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ افغان امن کے بغیر خطے کی سلامتی اورپاکستان کے استحکام کوممکن نہیں بنایا جا سکتا۔

وزیراعظم پاکستان کا دوٹوک موقف کہ ہم جنگ کے نہیں امن کے شراکت دار ہیں، افغانستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے موقف کی بالکل درست ترجمانی ہے

Source Media Reports

مصنف کے بارے میں
Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *