پاکستان کرکٹ اوسط درجے کے لوگ چلارہے ہیں راولپنڈی ایکسپریس بھڑک اٹھے

پاکستان کرکٹ اوسط درجے کے لوگ چلارہے ہیں راولپنڈی ایکسپریس بھڑک اٹھے

26 views

پاکستان کرکٹ ٹیم کی خراب پرفارمنس کا سلسلہ تھم نہیں سکا تین ایک روزہ میچز کی سیریز کے آخری میچ میں انگلش ٹیم نے 332 رنز کا ہدف 48 ویں اوور میں 7 وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا اور یوں گرین شرٹس کو 3 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز 0-3 سے اپنے نام کرلی۔

فہمیدہ یوسفی

انگلینڈ کے ہاتھوں وائٹ واش پر راولپنڈی ایکسپریس نے ٹیم مینجمینٹ کو ٓڑے ہاتھوں لے لیا۔

پاکستان کے انگلینڈ کو 0-3 سے وائٹ واش پر شعیب اختر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ’اوسط افراد‘ کے ذریعہ چلائی جارہی ہے اور اوسط لوگوں سے غیر معمولی چیزوں کی توقع کرنا غلط ہے۔

مزید پڑھیں: ون ڈے سیریز: انگلینڈ نے پاکستان کو وائٹ واش کردیا

برمنگھم کے ایجبسٹن میں تیسرا اور آخری ون ڈے بھی ہارنے کے بعد ایک مایوس شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال کو ’ناامید‘ قرار دیدیا اور ‘سنجیدہ’ خود احتسابی کا مطالبہ کیا۔

شعیب اختر نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کی سلیکشن ہی صحیح نہیں، ٹی ٹوئنٹی کی بنیاد پر منتخب کھلاڑیوں کو ون ڈے اور ٹیسٹ میں کھلایا جا رہا ہے، پہلے ہی کہہ دیا تھا انگلینڈ 3 صفر سے سیریز جیتے گا۔

گرین شرٹس کی جانب سے آخری ون ڈے میں 331 رنز اسکور ہونے کے باوجود پاکستان اس ٹوٹل کا دفاع کرنے میں ناکام رہا۔

یہ بھی پڑھیں: شعیب اختر قومی ٹیم کی پرفارمنس سے ناخوش،محمدرضوان پر بھی برہم

اس صورتحال پر شعیب اختر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ’اوسط افراد‘ کے ذریعہ چلائی جارہی ہے اور اوسط لوگوں سے غیر معمولی چیزوں کی توقع کرنا غلط ہے۔

یہ ایک شرمناک کارکردگی ہے۔ ہمارا بورڈ اوسط ہے۔ یہ اوسط افراد لاتا ہے ، مینجمنٹ اوسط ہے اتنا ظاہر ہے کہ ، وہ ایک اوسط ٹیم تشکیل دینے جارہے ہیں۔ آپ اوسط لوگوں سے غیر معمولی چیزوں کی توقع نہیں کرسکتے ہیں۔ آپ کی توقع کرنا غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم میں اس وقت ایک بھی کھلاڑی ایسا نہیں جسے دیکھنے کے لیے تماشائی پیسہ خرچ کرکے اسٹیڈيم آئیں۔

دوسری جانب پاکستان کی اس مایوس کن کارکردگی پر شائقین کرکٹ کی جانب سے بھی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

Source Media Reports

مصنف کے بارے میں
Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *