ڈرامہ لکھنے والے ساس بہو کی سازشوں کو معافی دے دیں۔انور مقصود۔

ڈرامہ لکھنے والے ساس بہو کی سازشوں کو معافی دے دیں۔انور مقصود۔

49 views

لیجنڈری ڈرامہ نگار ،مصنف ،انور مقصود طویل عرصے سے ڈراموں سے دور کیوں ہیں وجہ بتا دی

صبحین عماد

آنگن ٹیڑھا، ستارہ اور مہرالنسا، نادان نادیہ جیسے مشہور ڈرامے لکھنے والے پاکستان کے معروف مصنف، ڈرامہ نگار اور مزاح نگار انور مقصود ایک عرصے سے ڈرامہ انڈسٹری سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں اور اسکی وجہ کیا ہے انور صاحب نے بتا دیا ۔

یہ تو ہر کسی کو ہی یاد ہے انور مقصود کے معین اختر کے ساتھ مزاح پر مبنی پروگرام ’لوز ٹاک‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے۔ ان کے تحریر کردہ تھیٹر پلے تو سامنے آتے رہتے ہیں لیکن ایک طویل عرصے سے پاکستانی ڈرامے کے لیے ان کا قلم خاموش ہے لیکن اس خاموشی کی وجہ کیا ہے یہ بھی راز فاش ہوگیا ہے ۔

راوا نیوز کے مطابق انور مقصود نے ڈرامہ نہ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں خود پیچھے ہٹ گیا ہوں کیونکہ ابھی جو کچھ ٹی وی پر چل رہا ہے اس کے مطابق میری جگہ بن نہیں سکتی۔

انور مقصود کہتے ہیں کہ ’اب ریٹنگ کا چکر آ گیا ہے، ڈائریکٹر پروڈیوسر ہر معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ سب کچھ طے کرتا ہے کہ کون سا اداکار چاہیے کون سا نہیں۔‘

انور مقصود سے جب پوچھا گیا کہ انہیں آج کل کے ڈرامے ماضی میں لکھے گئے ڈراموں سے کس طرح مختلف لگتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’شروع میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، منو بھائی ،ثریا بجیا نے ڈرامے لکھے۔ نورالہدی شاہ نے بھی بہت اچھے ڈرامے لکھے اوراپنی جگہ بنائی۔‘

’پھر یہ ہوا کہ انڈیا کے ڈرامے جب آئے تو ہمیں لگا کہ وہ ہمارے ڈراموں سے کچھ سیکھیں گے لیکن الٹا ہی ہو گیا ہمارے لکھنے والوں نے ان سے ہی سیکھنا شروع کر دیا بس یہیں سے ہمارے ڈرامے کی تباہی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ’ڈائجسٹ لکھنے والوں کی اینٹری ہوئی، ہمارے ملک کی چونکہ 70 فیصد آبادی پڑھی لکھی نہیں ہے اس لیے انہوں نے ساس بہو کے جھگڑوں کو پسند کیا اور ایسا لکھنا ٹرینڈ بن گیا۔ پھر کہیں دیور بھابھی تو کہیں بڑی بہن کے منگیتر سے چھوٹی بہن کا عشق نظر آیا اب لوگ اگر یہ پسند کررہے ہیں تو کیا کہا جائے۔‘

انور مقصود کے بقول اچھا لکھنے والے تو ایسا لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے وہ ڈرامے سے دور ہو گئے۔

میں تو آج کے ڈرامے کو اچھا برا کہتا ہی نہیں ہوں میں سمجھتا ہوں کہ آج ڈرامہ ہے ہی نہیں یہ کیا چیز ہے بس آپ سوچیں۔

آج کے ڈرامے کی سب سے بڑی خامی کیا ہے اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’آج جلدی جلدی لکھا جا رہا ہے، لکھنے والوں پر پریشر ہے ایک ڈرامے میں جو باتیں لکھی جا رہی ہیں وہی اگلے میں بھی دہرائی جا رہی ہیں۔ یکسانیت اس قدر ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہر چینل پر ایک ہی ڈرامہ چل رہا ہے۔

انور مقصود کہتے ہیں کہ ’آج کل جو ڈرامہ لکھنے والے ہیں ایسا لگتا ہے شاید ان کے گھر میں کوئی کتاب ہی نہیں ہے۔ ڈرامہ لکھنے والے ساس بہو کے جھگڑوں اور سازشوں کو معافی دے دیں۔‘

مزاح نگاری کے حوالے سے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ ’مزاح لکھنا آسان نہیں ہے، یہ تو تلوار کی دھار پر چلنے کا نام ہے، سمجھ لیں آگ کا دریا ہے جسے پار کرنا ہے۔ کسی کی تضحیک بھی نہیں ہونی چاہیے اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر لکھا جانا چاہیے ورنہ بیہودہ مزاح لکھنا تو بہت آسان ہے، تین دن میں 20 ڈرامے لکھے جا سکتے ہیں

انور مقصود پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے لانگ پلے ’مہمان‘ کے ہیرو بھی تھے جو سنہ 1968 میں نشر ہوا تھا۔ انہوں نے اداکاری کرنے کا خیال کیوں ترک کیا اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اداکاری کی طرف زیادہ دھیان نہیں تھا اس لیے کم ہی کام کیا۔ ’میرا خیال ہے کہ جو لکھتا ہو اسے اداکاری نہیں کرنی چاہیے۔‘

انور مقصود کی تخلیقی صلاحیتیں صرف ادب تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ ایک بہت اچھے آرٹسٹ بھی ہیں اور ان کی بنائی ہوئی پینٹنگز کو خاصا پسند کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سنہ 1958 سے پینٹنگ کر رہے ہیں۔

جب ان سے محبت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’میرا دل ایک بار ٹوٹا اس کے بعد بائی پاس ہوگیا۔‘

source:social media
content: Sabheen Ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *