نیگلیریا  گھروں  فیکٹریوں اسپتالوں میں آلودہ پانی  ہماری ذمہ داری نہیں واٹر بورڈ

نیگلیریا  گھروں  فیکٹریوں اسپتالوں میں آلودہ پانی  ہماری ذمہ داری نہیں واٹر بورڈ

149 views

 کراچی والوں کے لیے ایک  طرف تو کورونا کی چوتھی لہر خطرناک ثابت ہورہی ہے اور کووڈ کی شرح میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے تو دوسری جانب ایک بار پھر دماغ خور جراثیم نیگلیریا فاؤلری سے ہونے والی اموات رپورٹ ہورہی ہیں ۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق   رواں سال اموات کی تعداد اب تک 5ہوگئی ہے۔

فہمیدہ یوسفی

جراثیم نیگلیریا فاؤلری  کی علامات کے  بارے میں بات کرتے ہوئے سیکریٹری پی ایم اے ڈاکٹر قیصر سجاد  نے بتایا  کہ نیگلیریا دماغ خور جرثومہ ہےنیگلیریا سے انسان ابتداء میں معمولی بخار ہوتاہے بعد ازاں بخار میں شدت آجاتی ہےشدید سر درد، الٹی، موشن ہوتے ہیں ۔ انہوں نے بھی تصدیق کی کہ کراچی میں مئی سے اب تک پانچ افراد انتقال کرچکے ہیں۔ جبکہ ایک کیس بلوچستان کا  بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  آلودہ پانی سے ہر سال تیس لاکھ افراد مختلف بیماریوں سے انتقال کرتے ہیں۔پاکستان میں کہیں بھی صاف پانی مہیا نہیں ہوتا۔

نیگلیریا بھی آلودہ میٹھے پانی سے ہوتا ہے نہاتے ہوئے ناک کے پانی سے دماغ میں داخل ہوتا ہے۔

گھروں  کو سپلائی ہونے والا پانی، سوئمنگ پولز اور ٹینکرز میں آلودہ پانی فراہم ہو رہا ہے۔

Naegleria fowleri: Brain-eating amoeba kills at least 10 in Pakistan | The World from PRX

یہ چھے اموات ریکارڈ پر ہیں کئی ریکارڈ پر نہیں ہونگی. انہوں نے مزید کہا کہ انڈرگراؤنڈ واٹر ٹینکس کو سال میں دو بار صاف کریں کلورین  کی ٹیبلیٹ ہزار گیلن پانی میں ایک ملائیں۔بلیچ پاؤڈر دو چمچے کھانے کے ایک ہزار 1500 گیلن پانی میں ملا لیں

مزید پڑھیں: احتیاط بھارتی ڈیلٹا وائرس آگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے

نیگلیریا فاؤلری  کے حوالے سے ماہر متعدی امراض ڈاکٹر ثمرین سرفراز نے بتایا کہ دنیا میں 235 کیسز اب تک رپورٹ ہوئے ہیں95 فیصد اموات ہوئیں جبکہ آج تک دنیا میں پانچ افراد بچے تین مفلوج ہیں صرف دو نارمل زندگی گزار رہے۔وقت پر علاج شروع بھی ہوجائے بہت تیزی سے دماغ کو متاثر کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فریش واٹر میں یہ جرثومہ رہتا ہے۔

گرمیوں میں اس کی افزائش تیز ہوجاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم 2011 سے ہر سال ایک آؤٹ بریک دیکھ رہے ہیں دنیا بھر میں یہ سوئمنگ سے ہوتا ہے۔

Brain eating amoeba' claims life of 14-year-old in Karachi - Pakistan - DAWN.COM

تاہم ہمارے ہاں سوئمنگ کی ہسٹری نہیں ہوتی نارمل گھر میں پانی کے استعمال سے ہوتی ہے۔حکومتی ذرائع کے  مطابق 95 فیصد پانی ناقابل استعمال ہے۔

 جبکہ کراچی میں پینے کا پانی آلودہ ہے اس سوال کے جواب میں  واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر اسد اللہ خاں کا کہنا ہے کہ  واٹر بورڈ کا فراہم کردہ پانی حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہے، کراچی کے صارفین آب یہ پانی بلاخوف پانی استعمال کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق  نیگلیریا نامی بیماری کوئی نئی نہیں ہے اس کے بارے میں گزشتہ 5 سال سے سنا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس :فاصلہ رکھیں، ہاتھ دھوئیں اور اپنا خیال رکھیں

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ادارہ فراہمی و نکاسی آب شہر میں پانی میں کلورین ضرورت کے مطابق حل کرتا ہے ادارے کے کیمسٹ یومیہ بنیادوں پر پانی کی جانچ کرتے ہیں اور ہر فلٹر پلانٹ پر فلٹریشن کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے۔

Here's how you can protect yourself from Naegleria - SAMAA

ایم ڈی واٹر بورڈ کا کہنا تھا کہ واٹر بورڈ کی ذمے داری گھروں تک لائن یا ٹینکروں کے ذریعے پانی پہنچانا ہے، گھروں میں موجود زیر زمین اور بالائی ٹینکوں کی صفائی ستھرائی بورڈ کی ذمے داری نہیں ہے اگر گھروں فیکٹریوں یا اسپتالوں کا پانی آلودہ ہے تو اس کا ذمے دار واٹر بورڈ نہیں ہے۔ اس لیے صارفین کو اس پانی کو استعمال کرنے سے پہلے احتیاط کرنی چاہیے۔

 نیگلیریا سے بچاؤ، محکمہ صحت سندھ کا  فوکل گروپ

 محکمہ صحت سندھ کے فوکل پرسن برائے نیگلیریا فاؤلری ڈاکٹر شکیل احمد  کے مطابق فوکل  گروپ میڈیا کو نیگلیریا سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے  تاکہ غلط اطلاعات سے بچا جاسکے ۔ ان کے مطابق جب بھی  شہر قائد  میں کوئی نیگلیریا فاؤلری کیس رپورٹ ہوتا ہے تو فوکل گروپ  اس علاقے  کا دورہ  کرتی ہے جبکہ علاقے کے رہائشیوں  کو نیگلیریا فاؤلری سے متعلق آگاہی فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: احتیاط کریں اور اپنا دامن صاف کریں

نیگلیریا فاؤلری کیا ہے

نگلیریا ایک ایسا جرثوما ہے، جو پانی کے ذریعے انسانی دماغ تک رسائی حاصل کرکے اُسے متاثر کردیتا ہے۔ اس جرثومے کو طبّی اصطلاح میں”Naegleria Fowleri”کہاجاتا ہے، جو اصل میں امیبا کی ایک قسم ہے گلیریا‘ ایک ایسا امیبا ہے جو اگر ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہوجائے تو دماغ کو پوری طرح چاٹ جاتا ہےجس سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے، یہ عموماً گرم پانی میں تیزی سے پرورش پاتا ہے۔

Naegleria fowleri - an overview | ScienceDirect Topics

یہ وائرس عمومآ سوئمنگ پولز ،تالاب سمیت ٹینکوں میں موجود ایسے پانی میں پیدا ہوتا ہے، جس میں کلورین کی مقدار کم ہوتی ہے ۔ شدید گرمی بھی نگلیریا کی افزائش کا سبب بنتی ہے۔

نگلیریاکی علامات

سرمیں تیز درد ، الٹیاں یا متلی آنا ، گردن اکڑ جانا اور جسم میں جھٹکے لگنا نگلیریا کی واضح علامات ہیں۔ اس مرض کے ایک سے دوسرے فرد کو لاحق ہونے کے امکانات نہ ہونے کےبرابرہیں اور بیماری کے شکار زیادہ تر شیرخوار بچّے اور نوجوان ہوتے ہیں

یہ بھی پڑھیں: کچرے کا ڈھیر بنے کراچی میں بیماریاں سر اٹھا رہی ہیں

نگلیریا سے بچاؤ کیسے ممکن ہے

ماہرین کے مطابق گھروں میں موجود ٹینکوں کو سال میں کم سے کم دو بار صاف کیا جائے جبکہ گھروں میں سپلائی ہونے والے پانی کی فلٹریشن اور کلورینیشن ضرور کی جائے۔

٭ پینے اور وضو کیلئے پانی کو سو ڈگری سینٹی گریڈ پر ابالنا چاہیے

٭ تیراکی اور وضو کے دوران ناک میں پانی نہ جانے پائے

 نگلیریا موت ہے

نگلیریا  کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے  کہ اس دماغی جرثومے کا نشانہ بننے والوں  کے بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ننانوے فی صد مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: روشنیوں کے شہر کراچی کو کون کھا گیا ۔۔

کراچی واٹر بورڈ کے دعوی کے برعکس یہ تلخ حقیقت ہے کہ کراچی کو فراہم  کیے جانے والے پانی کو  مناسب فلٹریشن  یا کلورین سے صاف کرنے کے لیے کوئی  معقول انتظام موجود نہیں ۔ شہر قائد میں پینے کا پانی اگر میسر ہوجائے تو اس صاف پانی میں گٹر کا آلودہ پانی شامل ہونے کی خبریں موصول ہوتی ہیں ۔

Naegleria fowleri amoeba or brain eating amoeba infection and treatment

نگلیریا  عدم آگاہی اور حکومتی سطح پر اس سے متعلق درست معلومات کا فراہم نہ ہونا جبکہ متعلقہ اداروں کا حساس نہ ہونا بھی ایک بہت بڑا چیلینج ہے

طبی ماہرین کے مطابق نگلیریا فاؤلری کے خلاف ہر ممکن احتیاط  ہی صرف اس سے بچنے کا واحد حل ہے۔

Source: Pakistan Medical Association
Content:Fahmida Yousfi

مصنف کے بارے میں
Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *