خواتین کا جائیداد میں حق: بل 2021 سینیٹ میں منظور ۔۔

خواتین کا جائیداد میں حق: بل 2021 سینیٹ میں منظور ۔۔

8 views

سینیٹ نے نفاذ حقوق جائیداد برائے خواتین ترمیمی بل 2021 اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

صبحین عماد

پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بہت سے قوانین بنائے گئے ہیں اور جائیداد کے حوالے سے بھی گزشتہ برس کچھ قوانین بنائے گئے تھے، جن  میں اب کچھ ترامیم کی گئی ہیں۔

بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں ہوا۔وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے ایوان میں نفاذ حقوق جائیداد برائے خواتین ترمیمی بل 2021ایوان میں پیش کیا ،بل کی سب نے حمایت کی جس پر اتفاق رائے سے بل کو پاس کرلیا گیا۔

خواتین کا حق وراثت کتنا ہے ؟

اسلام نے مرد اور عورت دونوں کا وراثت پر حق تسلیم کرتے ہوئے عورت کو بھی مختلف حیثیتوں میں منقولہ اور غیر منقولہ اموال و جائیداد میں حصے دار ٹھہرایا۔ مرد و عورت، دونوں اپنے ورثا کے لیے مال چھوڑ سکتے ہیں اور دونوں ہی اپنے اقربا کی وراثت سے حصہ پانے کے حق دار ہیں۔ البتہ، جس طرح مختلف رشتے داروں کے لیے وراثت میں حصوں کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، اِسی طرح خاندانی نظام اور معاشرے میں ذمے داریوں کی تفویض کے حوالے سے عورت کے لیے وراثت کا حصہ بھی مردوں سے مختلف ہو سکتا ہے۔ ناقدین اسے خواتین سے امتیازی سلوک سمجھتے ہیں ، حالاں کہ غیر جانب داری سے دیکھا جائے، تو یہ تقسیم انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

قرآنِ حکیم میں وراثت کے بنیادی احکام سورۃ النساء کی آیات 7 تا 14 میں دیے گئے ہیں، جب کہ چند دیگر آیات میں بھی مزید معاملات کی وضاحت کی گئی ہے۔ ان احکامات کے نزول سے قبل سورۂ آلِ عمران میں مورث کی وصیت کے ذریعے جائیداد کی تقسیم کی تاکید کی گئی تھی، لیکن سورۃ النساء میں وراثت کے اصول اور ورثا کے حصے مقرر کردیے گئے۔ البتہ احادیثِ مبارکہ میں ایک تہائی مال کے بارے میں وصیت کی اجازت دی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے، جو ماں با پ اور قریبی رشتے داروں نے چھوڑا ہو۔ اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے، جو ماں باپ اور قریبی رشتے داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت ۔اور یہ حصہ ( اللہ کی طرف سے ) مقرر ہے

خواتین کے کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں، جہاں وہ قریبی ہونے کے باوجود تَرکے کی حق دار نہیں ہوتیں۔ جیسے سوتیلی ماں، سوتیلی بیٹی، ساس، بہو، نند، بھابھی، چچی، ممانی وغیرہ۔ کیوں کہ ان کے درمیان خون کا رشتہ نہیں ہوتا اور ان کا تعلق دوسرے خاندانوں سے ہوتا ہے، جہاں سے وہ تَرکے میں حصہ پاتی ہیں۔ نیز، رضاعت کے رشتے بھی وراثت کے حق دار نہیں۔اِسی طرح منہ بولی بیٹی، بیٹا یا لے پالک بیٹی، بیٹے کا بھی تَرکے میں کوئی حصہ نہیں۔ تاہم، پوتے کے لیے وصیّت میں تہائی حصہ رکھا جا سکتا ہے۔وراثت کی تقسیم کے ان اصولوں کو صنفی امتیاز قرار دینے والے بیٹے اور بیٹی کے درمیان تقسیم کو بنیاد بناتے ہیں اور عورت کو نصف حقوق دینے کا الزام لگاتے ہیں، جب کہ عورت مختلف حیثیتوں میں مختلف حصہ پاتی ہے۔قرآنِ پاک نے حصوں کی تقسیم کچھ یوں فرمائی ہے۔

بیٹی کا حصہ:

 اگر متوفی کی اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں شامل ہوں، تو بیٹیاں، بیٹوں کی نسبت نصف حصہ پائیں گی۔( سورۃ النساء11) یہاں اللہ تعالی نے لڑکیوں کا حصہ طے کیا ہے اور یوں وہ ذوی الفروض میں ( جنہیں حصہ ملنا لازم ہے) شامل ہیں۔ لڑکی کا خاص طور پر ذکر اس کے حقِ وراثت کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔ اگر متوفی کی صرف ایک بیٹی ہو یا بیٹا نہ ہو، تو بیٹی کو نصف حصہ ملے گا اور اگر بیٹیاں دو یا دو سے زائد ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو، تو بیٹوں کے لیے تَرکے کا دو تہائی حصہ ہے۔ باقی تَرکہ دیگر ورثا میں تقسیم ہو گا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *