افغان سفیر کی بیٹی کا اغوا اور پاک افغان تعلقات میں کشیدگی

افغان سفیر کی بیٹی کا اغوا اور پاک افغان تعلقات میں کشیدگی

97 views

افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے انخلا کے عمل کے بعد سے  طالبان کی بڑھتی پیش قدمی نے افغان حکومت کو  اس وقت بوکھلا کر رکھ دیا ہے  ۔

فہمیدہ یوسفی

اطلاعات کے مطابق طالبان نے ملک کے زیادہ تر حصوں پر اپنا تسلط جمالیا ہے۔ ایسی صورتحال میں افغان حکومت شدید کشمکش کا شکار ہے اور اپنی ساری ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے پر مصروف ہے

پہلے افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے ٹوئٹر پر الزام عائد کیا کہ  پاکستانی فضائیہ نے افغان فوج اور افغان فضائیہ کو سرکاری طور پر متنبہ کیا ہے کہ اگر طالبان کو افغان علاقے سپین بولدک سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کوششوں کا جواب پاکستانی فضائیہ دے گی۔ تاہم  پاکستان نے اس  بے بنیاد الزام کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: افغان نائب صدر کے پاکستان ائیر فورس پر الزامات سختی سے  مسترد

اس کے بعد ازبکستان کے شہر تاشقند میں افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر  طالبان کی حمایت الزام عائد کیا اور کہا کہ  دس ہزار جنگجو اس کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں آئے ہیں تاہم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور کانفرنس میں موجود پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے اشرف غنی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔

Imran, Ghani agree on joint efforts for peace, prosperity - Daily Times

عمران خان نے اشرف غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جب پاکستان کہہ رہا تھا کہ طالبان سے بات چیت کریں۔

تو اس وقت ایسا نہیں کیا گیا اوراب جب طالبان فتح کے قریب پہنچ چکے ہیں تو بات چیت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔‘

اب رہی سہی کسر افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے افغان سفیر کی بیٹی کے اسلام آباد میں مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد  اپنے سفارتی عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے افغانستان کی جانب سے اپنے سفیر نجیب اللہ علی خیل سمیت سفارتی عملے کو واپس بلانے کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس پر نظرثانی کی جائے گی۔

افغان سفیر کی بیٹی کا مبینہ اغوا اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش

اب ذرا نظر ڈالتے ہیں کہ افغان سفیر  کی بیٹی  کے مبینہ اغوا  کی تحقیقاتی رپورٹ پر جس کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ  افغان حکومت پاکستان کے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو کس طرح سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہے۔

میرے بھائی کی سالگرہ تھی جس کی شاپنگ کے لیے میں ڈپلومیٹک انکلیو سے باہر نکلی اور ٹیکسی لی اور ٹیکسی لیکر بلیو ایریا مارکیٹ پہنچی جہاں میں نے مارکیٹ سے شاپنگ کی اور اس کے بعد شاپنگ مال سے باہر آکر میں نے دوبارہ گھر جانے کے لیے ٹیکسی لی میں ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر جانے لگی تو 2 افراد میری ٹیکسی میں گھسے انہوں نے مجھ پر تشدد کیا جس کے بعد میں بے ہوش ہوگئی اور پھر جب میری جب آنکھ کھلی تو میں نے خود کو ایک جنگل میں پایا  وہاں راہ گیر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ ایف سیون ہے تو میں ٹیکسی لیکر ایف نایئن پہنچی اور وہاں جاکر سفارت خانے کے ایک ملازم حکمت کو فون کیا۔جس نے مجھے گھر پہنچایا۔۔اغواکاروں نے مجھ سے میرا موبائل چھین لیا۔”

یہ وہ ابتدائی بیان تھا جو افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل نے پولیس کو ریکارڈ کروایا۔

مزید پڑھیں: بگرام ائیربیس:بھارتی اہلکار بھی خاموشی سے بھاگ نکلے ۔۔

پولیس اور سیکورٹی ایجنسیز نے اس پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ سیف سٹی کیمراز کی ویڈیوز کھنگالی گئی شاپنگ مالز کے کیمرے چیک کیے گیئے اور مختلف سڑکوں کی فوٹیجز نکالی گئی تو سیکورٹی ایجنسیز کو دال میں بہت کچھ کالا لگا۔۔اور یوں ایک چھوٹا سا سرا ملنے سے سارا کیس خود ہی حل ہوتا چلا گیا ابھی بھی اس کیس میں ایک لنک مسنگ رہ گیا وہ بھی امید ہے کہ جلد ہی حل کرلیا جائے گا۔

سیکورٹی ایجنسیز کے مطابق واقعہ ویسے پیش نہیں آیا جیسے افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل نے رپورٹ کیا۔۔واقعہ کچھ ایسے پیش آیا۔۔ یہ لڑکی ڈپلومیٹک انکلیو سے پیدل نکلتی ہے اور مارکیٹ تک پیدل ہی پہنچتی ہے۔۔سیف سٹی کیمرے کی فوٹیج سے ثبوت موجود ہیں۔

اس کے بعد یہ بلیو ایریا کی مارکیٹ میں نہیں جاتی بلکہ وہاں سے ایک ٹیکسی لیتی ہے اور ٹیکسی لیکر کھڈا مارکیٹ جاتی ہے۔ اس ٹیکسی ڈرایئور کو بھی سیکورٹی ایجنسیز نے سیف سٹی کیمرے کی مدد سے گرفتار کرلیا۔۔کھڈا مارکیٹ اتر کر یہ لڑکی پھر ایک ٹیکسی روکتی ہے اور اس میں بیٹھ کر اب یہ راولپنڈی جاتی ہے۔۔

اس ٹیکسی ڈرایئو کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔۔اس کے بعد افغان سفیر کی بیٹی راولپنڈی سے ہوتی ہوئی ایک اور ٹیکسی کی مدد سے  دامن کوہ پہنچ جاتی ہے۔۔اور دامن کوہ میں یہ کسی سے ملتی ہے۔ اور دامن کوہ سے یہ پھر اسلام آباد اس جنگل میں پہنچ جاتی ہے جہاں سے یہ کسی راہ گیر سے پوچھتی ہے کہ یہ کونسا علاقہ ہے۔اور پھر آگے ایف نایئن میں پہنچ کر حکمت کو فون کرتی ہے۔۔۔

اب اس سارے پراسس میں سیکورٹی ایجنسیز تقریبا ہر چیز اور ہر بندے کو گرفتار کرچکے ہیں سوائے اس چیز کے کہ یہ لڑکی دامن کوہ کیا کرنے گئی؟ اس پر ابھی تک تحقیقات جاری ہیں اور لڑکی اپنے موبائل فون جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ اس کا فون چھین لیا گیا وہ بھی لڑکی کے پاس سے ہی برآمد ہوا ہے جس کا سارا ڈیٹا، فون نمبرز، کال ہسٹری ہر چیز ڈیلیٹ کرکے سیکورٹی ایجنسیز کو دیا گیا جس کو فارنزک کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔۔

موبائل فون کا سیکورٹی ایجنسیز کو اس طرح پتہ چلا کہ یہ لڑکی کے پاس ہے کہ لڑکی جب واپس آرہی تھی تو موبائل لڑکی کے ہاتھ میں تھا جس کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا گیا سیکورٹی ایجنسیز نے موبائل فون جب مانگا تو لڑکی نے انکار کیا اس کے بعد سیکورٹی ایجنسز نے لڑکی کو موبائل استعمال کرتے ہوئے کی فوٹیج دکھائی تو لڑکی نے موبائل دیا جس کا سارا ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: افغانستان امن مذاکرات :کیا ترکی طالبان کو منانے میں کامیاب ہوگا؟

اتوار کو اپنی پریس کانفرنس میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سفیر کی بیٹی نے تین ٹیکسیوں میں سفر کیا اور تینوں کے ڈرائیوروں کے پاکستان کے وزیر اعظم نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو واقعے کی اولین ترجیح کے طور پر تحقیقات کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی بیان ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔

Sheikh Rasheed Ahmad - Wikipedia

ان تمام واقعات کے تناظر  میں اس نتیجے پر پہنچنا بلکل بھی مشکل نہیں ہے کہ جو طاقتیں  افغانستان سے امریکی فوجی انخلااور طالبان کی  بڑھتی پیش قدمی کو پاکستان کے مفاد میں اور اپنے خلاف سمجھتی ہیں  وہ پاکستان کے لیے اندرونی اور بیرونی چیلینجز  پیدا کرتی رہینگی  اور اپنے مذموم  مقاصد  کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں  ۔ جس میں پیش پیش مودی سرکار ہے جسکو پاکستان کا امن ایک آنکھ نہیں بھاتا جبکہ افغانستان کی بدلتی  صورت حال  مودی سرکار کے لیے سخت مایوس کن ہے ۔ دیکھا جائے تو داسو ڈیم سانحہ اور افغان سفیر کی بیٹی کا مبینہ اغوا  سوائے بیجنگ اور کابل سے پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی اور ناراضگی  پیدا کرنا ہی  تھا۔

پاکستان کے لیے سب سے اہم فغان خانہ جنگی کے  ممکنہ اثرات سے وطن عزیز  کو محفوظ رکھنا ہے  جبکہ افغانستان حکومت طالبان اور دیگر افغان  گروپس کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے اور ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ بند کردیا جائے

Source:Media Reports,MoFA
Content:Fahmida yousfi

مصنف کے بارے میں
Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *