پلاسٹک ری سائیکلنگ کیوں ضروری ہے

پلاسٹک ری سائیکلنگ کیوں ضروری ہے

77 views

پلاسٹک کااستعمال دنیا بھر میں بڑے پیمانے کیا جاتا ہے کیونکہ پلاسٹک  کو ہر شکل میں ڈھالا جاسکتا ہے اور اسے  ہر طرح کے کام میں لایا جاسکتا ہے۔

فہمیدہ یوسفی

تاہم پلاسٹک  کا استعمال ماحول اور جان داروں کے لیے بہت ہی خطرناک  ثابت ہورہا ہے کیونکہ پلاسٹک دہائیوں  کے بعد  بھی پوری طرح تحلیل نہیں ہوتا، یعنی یہ بایو ڈی گریڈ ایبل نہیں ہے اور فطری طریقے سے ماحول کا حصہ نہیں بن پاتا۔

پلاسٹک کا بڑھتا استعمال نہ صرف ماحول، صحت و صفائی بلکہ  جنگلی حیات کے لیے بھی  بہت  بڑا خطرہ ہے۔ ساحلوں پر پھینکی جانے والی پلاسٹک کی بوتلیں اور تھیلیاں سمندر میں چلی جاتی ہیں جس سے سمندری حیات کی بقا کو سخت نقصانات پہنچ رہا ہے۔

اسی  وجہ سے دنیا بھر میں پلاسٹک کو  محفوظ انداز میں  استعمال کرنے  پر بہت  زیادہ توجہ دی جارہی ہے بلکہ  پلاسٹک سے ماحول کو کیسے  محفوظ بنایا جاسکے اس کے لیے  بھی مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔

Environment Oregon: Prevent Plastic Pollution - Ecologue

یہ بھی حقیقت ہے کہ پلاسٹک کا  بے دریغ استعمال  پاکستان کے ماحول اور حیاتیات کے لیے بھی بڑا خطرہ  بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان پلاسٹک مینیوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستانی عوام ہر سال 55 بلین سے بھی زائد کا پلاسٹک استعمال کرتی ہے۔

اگر شہر قائد کی بات کی جائے تو  ہر سمت پلاسٹک کے شاپرز اور پلاسٹک کی بوتلیں نظر آتی ہیں ۔شہر کے پوش علاقوں سے لیکر کچی آبادیوں تک پلاسٹک ہی پلاسٹک نظر آتا ہے۔ نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی سطح پر عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنگلات کے تحفظ کا منصوبہ ،ریڈ پلس۔۔۔اب ہر درخت سرمایہ ہے

اسی سلسلے میں این ای ڈی یونی ورسٹی کی اسمارٹ سٹی لیب کی  ٹیم نے بھی ریورس وینڈنگ مشین بنالی ہے جو پلاسٹک کو ری سائیکل کریگی تاکہ ماحول  کاتحفظ ممکن ہوسکے۔

راوانیوز کی  ٹیم  نے  جب این ای ڈی میں اسمارٹ سٹی لیب کی  ٹیم سے خصوصی ملاقات کی جنہوں نے یہ ریورس وینڈنگ مشین بنائی ہے ۔

راوا نیوز سے بات کرتے ہوئے خرم احمد  BDM NCAI LABS  اور اسمارٹ سٹی  کی ٹیم لیڈ  سندس فاطمہ نے اس پراجیکٹ کے بارے میں آگاہ کیا۔

یہ ریورس وینڈنگ مشین دیکھنے میں بالکل اے ٹی ایم مشین کی طرح ہے تاہم اس کا سائز اے ٹی ایم مشین سے بڑا ہے ۔

ہمارے پوچھنے پر اس پر کام کرنے والی ٹیم نے بتایا کہ یہ ایک  پلاسٹک ری سائیکلنگ مشین ہے جس کے پیچھے ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو ہمارے شہر کا کچرا ہے اس کو صاف کرنے کی یہ ایک کوشش ہے ہم چاہتے ہیں کہ پلاسٹک ری سائیکل طریقے سے ہو اور وہ کہیں کام بھی آجائے  ابھی تو ہم نے پلاسٹک سے شروع کیا ہے ہم آگے سالڈ ویسٹ مینجمینٹ پر بھی جائینگے  ہماری پانچ جگہوں پر بات چیت چل رہی ہے  اور ہمارا ارادہ شہر میں اس کو مختلف جگہ لگانے کا ہے ابھی یہ این ای ڈی میں ہم نے انسٹال کی ہے  ایک اور ہماری تیار ہے اس کو بھی ہم این ای ڈی میں انسٹال کرینگے ۔

ہم نے دو مہینے میں ایک مشین بنالی تھی جبکہ ہم مزید پانچ مشین ہم شہر میں الگ الگ جگہوں پر لگائینگے جبکہ اس کی لائف پانچ سے دس سال ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو موسمیاتی تغیرات کے باعث سالانہ 3.8 بلین ڈالر کا نقصان

یہ مشین بیس کلو تک کا وزن لے سکتی ہے  گورنمنٹ کے ساتھ بھی ہم اپنا پراجیکٹ شئیر کرینگے ۔  بڑی تعداد میں طلبہ اور طالبات اس مشین میں پلاسٹک بوتل ڈال رہے تھے  کیونکہ اس پر ان کو پوائنٹس بھی مل رہے ہیں جس سے وہ کراچی کی مشہور زمانہ فوڈ چین سے اپنی پسندکی ڈیل بھی لے سکتے ہیں۔

اسی سلسلے میں چئیرمین  انوائرمینٹل  انجینیرنگ این ای ڈی  ڈاکٹر  عاطف مصطفی  کا کہا ہے کہ پلاسٹک کا استعمال ساری دنیا میں بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ پلاسٹک چیپ مٹیریل ہے لیکن اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں اس کو ڈی انٹی گریڈ کرنا بہت مشکل ہے  پلاسٹک  کی باقیات بہت خطرناک ہیں  پلاسٹک کی وجہ  سے ایکو سسٹم اور فوڈ چین سپلائی پر سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے ۔

مزید پڑھیں: کیا صاف ہوا پر بھی کراچی والوں کا حق نہیں

اس لیے دنیا بھر کے ماہرین اور پالیسی میکرز اب اس پر آرہے ہیں کہ پلاسٹک کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے جتنا استعمال ہورہا ہے اس کو ری جنریٹ کیا جائے تاکہ اس کے نقصانات سے بچا جاسکے سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ لوگوں کو اس بارے میں آگہی دی جائے  ہر فرد کو اپنی ذمہ داری لینی ہوگی  پلاسٹک  ری سائیکلنگ وینڈنگ مشین کا آئیڈیا  بہت اچھا ہے اور پاکستان کہ ان فارمل سیکٹر میں تو ری سائیکلنگ کافی حد تک کی جاتی ہے  اور یہ پڑھے لکھے لوگوں میں شعور کے لیے اچھا اقدام ہے۔

From Austria to Wales: The five best recycling countries in the world

پلاسٹک آلودگی کے خلاف پڑھے لکھے طبقے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ اس کے بارے میں آگہی اور شعور کی کمی ہے جبکہ بچوں کو بھی شروعات سے اس بارے میں آگہی دینی چاہیے ۔

مصنف کے بارے میں
Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *