لبیک اللھم لبیک کی صداؤں  کے ساتھ مناسک حج کا آغاز

لبیک اللھم لبیک کی صداؤں  کے ساتھ مناسک حج کا آغاز

32 views

عازمین حج کے قافلے پیر نو ذولحجہ کو نماز فجر کے بعد منی سے میدان عرفات پہنچنا شروع ہوگئے۔ حج کا رکنِ اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے۔

غانیہ نورین

لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، انالحمد وان نعمت لک والملک لا شریک لک…لبیک اللہم لبیک۔

حا ضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں!تیرا کوئی شریک نہیں ،تیرے ہی لئے تعریفیں ہیں ،نعمتیں اور بادشاہت تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں…حاضر ہوں میرے اللہ! میں حاضر ہوں۔

رمضان المبارک اور عیدالفطر کے اختتام کے بعد ہی فریضہ حج کی ادائیگی کا اہتمام شروع ہونے لگتا ہے اور حاجی حضرات اپنی روانگی کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے شہریوں اور وہاں مقیم غیرملکی افراد پر مشتمل 60 ہزار عازمین نے  مناسک حج کا آغاز کردیا ہے، اور عازمین احتیاطی تدابیر کے ساتھ  طواف قدوم ادا کرنے کے بعد قافلوں کی صورت  منیٰ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: غلاف کعبہ کسوہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب کا انعقاد

میدان عرفات میں حجاج کی صحت اور سلامتی کے لیے تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ تیاریاں مکمل ہیں۔ عازمین سماجی فاصلے کی پابندی کرتے ہوئے مناسک حج ادا کر رہے ہیں۔

 قبل ازیں عازمین حج کے قافلے طواف قدوم اور سعی ادا کرنے کے بعد مکہ مکرمہ سے منی پہنچے تھے۔ انہوں نے اتوار کو منیٰ میں یوم الترویہ عبادات اور دعاوں میں گزارا۔

سرکاری العریبیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نو ذی الحج کوحجاج کرام رکن اعظم کی ادائی کے لیے میدان عرفات کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔ حجاج کرام آج شام سورج غروب ہونے تک میدان عرفات میں قیام کریں گے۔

مزید پڑھیں: حج کی تیاریاں شروع، غلاف کعبہ کو تین میٹر تک اوپر کردیا گیا

اگرحجاج کرام کو سہولت ہو تو وہ نمرہ میں پڑاؤ کرسکتے ہیں۔ یہ عمل سنت بھی ہے۔ تاہم اور ایسا کرنا مشکل ہو حجاج کرام عرفہ کی حدود میں قیام کرسکتے ہیں۔ وہاں پر حجاج کرام کی رہ نمائی کے لیے کئی مقامات پر رہ نما بورڈ نصب ہیں۔

رکن اعظم کی ادائی کے روز حجاج کرام تلبیہ پڑھتے، ذکر اذکار،تسبیح وتہلیل اور استغفار کرتے ہیں اور اللہ سے رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں۔ یہاں پر اکثر حجاج کرام اپنے اہل عیال اور مسلمانوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

ظہر کے وقت امام خطبہ دیتا ہے جس میں لوگوں کو دینی امور سے متعلق وعظ کی جاتی ہے۔ اس کے بعد حجاج کرام ظہراور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہیں۔ یہاں پر اس سے قبل، دوران یا بعد میں کوئی اورنماز ادا نہیں کی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کا استقبال ،غلاف کعبہ کی صفائی

میدان عرفات میں جمع ہونے والےحاجیوں کو غلطیوں سے بچنے کی تلقین کی جاتی ہے تاکہ ان کا اجرو ثواب ضائع نہ ہو۔

نو ذی الحج کی شام کو غروب آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں جہاں وہ مغرب اور عشا کی قصر نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ اکھٹی ادا کرتے ہیں۔

حج اسلام کا پانحواں رکن ہے9ھ میں حج فرض ہوا۔اور اسی سال رسول اللہ نے اپنا پہلا حج کیا۔ حج اسلام کے5ارکان میں پانچواں رکن گنا جاتا ہے۔ پوری عمر میں صرف ایک بار حج فرض ہے اسکے علاوہ نفل ہے۔

حج کی فرضیت پر ارشاد باری تعالیٰ ہے’ ’’ بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے (عبادت گاہ) بنایا گیا وہ گھر جو مکہ میں ہے وہ برکت والا اور دنیا بھر کیلئے رہنما ہے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں، مقام ابراھیم کے پاس کھڑے ہونے کی جگہ اور جو اسمیں چلا جاتا ہے وہ امن پاتا ہے اور اللہ کیلئے لوگوں پر اس کا حج فرض ہے ان پر جو وہاں پہنچنے کی طاقت رکھتے ہوں جو منکر ہو تو اللہ کو بھی کسی کی کچھ پرواہ نہیں۔‘‘(آلِ عمران79)۔

Image

گزشتہ دو سالوں کے دوران مسلمانوں کا سب سے اولین فریضہ حج بھی جان لیوا وائرس کی نظر ہوچکا ہے، انسانی جانوں کا نگلنے والے کورونا وائرس نے حج کی ادائیگی کو بھی متاثر کیا ہے، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ رب کائنات تمام امت مسلمہ سمیت معصوم جانوں کی اس موذی مرض سے نجات دلائیں اور تاقیامت اپنے گھر کے دروازے ہم مسلمانوں کیلئے کھلا رکھیں۔ آمین

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *