olympic 808x454

کورونا کے سائے میں ٹوکیو اولمپکس آخر کتنے محفوظ

147 views

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو  میں اس وقت  جوش و خروش پایا جاتا ہے ، جہاں کھیلوں کے عالمی مقابلوں  ٹوکیو  اولمپکس افتتاحی تقریب میں 85،000 افراد بشمول ایتھلیٹس ، عہدیدار اور نامہ نگار شامل ہوئے جو کھیلوں کی دنیا کے حوالے سے تو خوش آئند خبرہے   ۔

لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت پوری  دنیا کورونا وائرس کی  کی گرفت میں ہے اور ایسے میں  اولمپکس کا  میزبان شہر ٹوکیو بڑے پیمانے پر سپر اسپریڈر ایونٹ  بن سکتا ہے  جس  سے جاپان میں  صحت کی دیکھ بھال کا نظام دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے ۔

جبکہ اس وقت ٹوکیو میں  روزانہ  کورونا کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہےقابل غور یہ ہے کہ یہ شرح  چھ مہینوں میں اپنے عروج پر ہے۔

صرف جمعرات کو جاپانی دارالحکومت میں 1،979 نئے انفیکشن کیسز  ریکارڈ ہوئے۔

DD Sports will live broadcast Tokyo Olympics 2021 | Business Standard News

ٹوکیو اولپمکس کے خلاف  خلاف عوامی مخالفت اتنی شدید ہے کہ ٹیوٹا نے اولمپک تھیم  والے اشتہارات کو جاپانی ٹیلی ویژن سے آف ائیر کردیا ہے  ، جبکہ سیاستدانوں اور کاروباری رہنماؤں کی بڑی  تعداد سمر گیمز کی افتتاحی تقریب سے دور رہ رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹوکیو اولمپکس کے لیے نئے قواعد و ضوابط کا اعلان

تاہم ، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے اصرار کیا ہے کہ کھیلوں  کے یہ مقابلے جہاں مقامی اور غیر ملکی تمام تماشائیوں پر پابندی عائد ہے  وہ  بے حد محفوظ اور ایس او پیز کے ساتھ ہونگے ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) اگر  ٹوکیو اولمپکس کو  منسوخ کرتی ہے  تو براڈکاسٹ حقوق  کی مد میں تین بلین ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑیگا  ۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی)  کے مطابق  جاپان پہنچنے والے تمام ایتھلیٹس میں سے 85 فیصد ویکسین شدہ ہیں  اور ان کا اصرار ہے کہ ان کی جانب سے کیے جانے والے  حفاظتی اقدامات کا مطلب ہے کہ کھلاڑی “شاید دنیا میں کہیں بھی اس وقت کے سب سے زیادہ محفوظ شدہ آبادی ہیں۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی)   کی  کووڈ 19پلے بکس میں کھلاڑیوں کے لیے دی گئی ہدایات میں واضح ہے کہ  اولمپئینز کے جاپان پہنچنے سے 96 گھنٹے قبل ٹیسٹ کا نتیجہ منفی ہونا چاہیئے  جبکہ لینڈنگ کے بعد دوسرے ٹیسٹ کا نتیجہ بھی منفی ہونا چاہئے۔

 جبکہ اولمپئینز کو  اپنے فون پر رابطہ ٹریسنگ ایپس کو بھی ڈاؤن لوڈ کرنا چاہئے اور جاپان  میں رہتے ہوئے ان کی نقل و حرکت کو مخصوص Olympics Bubblesتک محدود رکھنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹوکیو اولمپک کے میچز کب ہونگے،،اعلان ہوگیا

ٹوکیو کے اولمپک ولیج میں ، جو لگ بھگ 11،000 افراد کی میزبانی کررہا ہے ، کھلاڑی کمرہ شئیر  رہے ہیں ، تاہم روزانہ کورونا  وائرس ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں اور انہیں ہر وقت چہرے کے ماسک پہننے کے لئے کہا جاتا ہے –

Tokyo Olympics: Ugandan tests positive for Covid in Japan - BBC News

سوائے اس کے کہ جب وہ سو رہے ہوں ، کھا رہے ہوں یا مقابلہ کر رہے ہوں۔

 سونے ، چاندی یا کانسی کا تمغہ جیتنے والے ایتھلیٹوں سے بھی کہا جائے گا کہ وہ اپنے میڈلز اپنے گریبان میں رکھیں اور جو لوگ اپنے ایونٹس کو مکمل کرتے ہیں ان کو آخری ایونٹ کے دو دن کے اندر ہی ملک چھوڑنا پڑیگا

وہیں اولمپکس ولیج میں کووڈ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے، مجموعی طور پر 87 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن افراد میں کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ان میں 12 ایتھلیٹس بھی شامل ہیں۔

جاپان کے ممتاز ماہر صحت کینجی شیبیا کا کہنا ہے کہ  اولپمکس کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی IOC کا Olympics Bubbles کا نظام کمزور لگ رہا ہے  کیونکہ  کھلاڑی اور  بڑی تعداد میں شائیقین ان سے ملنے کی کوشش میں  کورونا ایس او پیز نہیں فالو کررہے ہیں اور یہ بہت بڑا خطرہ ۔

مزید پڑھیں: کورونا کے بڑھتے کیسز: اولمپکس 2021 کا انعقاد ہوگا؟؟؟

کنگز کالج لندن میں انسٹی ٹیوٹ برائے پاپولیشن ہیلتھ کے سابق ڈائریکٹر  کا کہنا ہے کہ  ٹوکیو کے اولمپک ولیج میں  موجود ایک بڑی تعداد وضع کردو  اصولوں پر عمل نہیں کررہی  ہے ۔ آئی او سی کی جانب سے نااہلی  جاپان میں کورونا  کے منتقلی ڈیلٹا ویرینٹ کے پھیلاو کا ممکنہ سبب بن سکتا ہے ۔

The Tokyo 2020 Olympics officially began with the opening ceremony on Friday [Marko Djurica/Reuters]

ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی سطح پر ، ڈیلٹا ویرینٹ کےمختلف ویرینٹ تیزی سے پھیل رہے  ہیں  اور جاپان سمیت متعدد ممالک میں ویکسین کا مدافعتی  رول محدود  اور  کمزور ہے۔ ظاہر ہے کہ اولمپکس کے انعقاد کے لئے یہ مناسب وقت نہیں ہے۔

سینٹ کے ماؤنٹین میں واقع یوکنا اسکول آف میڈیسن میں ہیلتھ سائنس اور پالیسی کے اسسٹنٹ پروفیسر اینی سپرو نے کہا کہ آئی او سی اگر ماہرین کے مشوروں پر کان دیتی تو وہ ٹوکیو اولمپکس  کی وجہ سے  کورونا کے ڈیلٹا ویرینٹ کے پھیلاؤ کا ممکنہ خدشہ ٹالا جاسکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹوکیو2020 کو دوبارہ ملتوی کرنا ممکن نہیں ہوگا

 انہوں نے مزید کہا ، “لوگوں کی زندگیاں  خطرے کی لائن پر ہیں۔ اور ایک میزبان ملک کی حیثیت سے ، ہماری پوری ذمہ داری لوگوں کی جانوں کی حفاظت کرنا ہے۔ اس مقام پر ، ہم سب سے بہتر یہ ہے کہ جلد از جلد اس اولمپکس کو منسوخ کردیں یا پھر اس کو جلد از جلد ختم کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ د نیا بھر سے تقریبا ساڑھے 11 ہزار ایتھلیٹس ایونٹ میں شرکت کررہے ہیں جہاں  33 کھیلوں کے 50 ڈسپلن میں 339 ایونٹس ہوں گے۔

پاکستان کی جانب سے نمائندگی کرنے والے 22 رکنی دستے میں 10 ایتھلیٹس اور 12 آفیشلز شامل ہیں۔

Source: Al Jazeera

Content: Fahmidah Yousfi

مصنف کے بارے میں
Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *