mangrove 808x454

لینڈ مافیا نے سمندر کو بھی نہیں چھوڑا : مینگرووز خطرے میں

477 views

یہ بات تو ہم سب کے علم میں ہے کہ درخت ماحولیاتی زندگی کی آکسیجن ہیں جو نہ صرف ماحول کو کثافت سے پاک کرتے ہیں بلکہ زہریلی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ اپنے اندر جذب کرتے ہیں تاکہ ہم صاف ہوا میں سانس لے سکیں۔

کانٹینٹ :فہمید یوسفی

پاکستان کی ساحلی پٹی پر بھی ایک اہم آبی پودا تیمر جسے عرف عام میں مینگروزکہا جاتا ہے یہ ایک ایسی قدرتی نعمت ہے جسے بے دردی سے بے دریغ ختم کیا جارہا ہے،جبکہ افسوس اس بات کا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں تیمر کے جنگلات کی تعداد انتہائی کم ہیں اور پاکستان میں انڈس ڈیلٹا پر پھیلا تیمر جنگلات کا یہ بیش بہا انمول خزانہ خزانہ ساتویں نمبر پر ہے۔ اس سے پہلے ہم بات آگے بڑھائیں یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر تیمر یا مینگرووز ہیں کیا؟ اور یہ کیوں ضروری ہیں؟

مزید پڑھیں: عمران خان کا ایک اور خواب تعبیر ہونے کے قریب

اس درخت کو اردو اور برصغیر کی دیگر زبانوں میں تمر کہتے ہیں جب کہ انگریزی میں Mangrove مینگرو یا منگروز کہتے ہیں مینگروز کے جنگلا ت ساحل اور سمندر دونوں ہی میں گرمی یا درجہ حرارت میں اضافہ نہیں ہونے دیتے یعنی اس کی جڑیں پانی اور دلدل میں آکسیجن پیدا کرتی ہیں اور ٹہنیاں اور پتے فضا میں آکسیجن پیدا کر کے ساحل کی فضا کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔

Mangroves and their role to ecology | Wall Street International Magazine

پاکستان میں اب مینگرووز کی ایک ہی قسم پائی جاتی ہے تیمر اس کا مقامی نام ہے جبکہ اس کا سائنسی نام Avicennia marina ہے اسے سفید مینگروز چھال کی وجہ سے یا شہد والا مینگروز پھولوں کی خوشبو کی وجہ سے بھی کہا جاتا ہے۔ تیمر یا مینگرووز چھوٹے پتوں پر مشتمل پودے ہیں جن کی جڑیں پانی میں ڈوبی ہوتی ہیں اور کئی فٹ نیچے تک جاتی ہیں۔مینگرووز کی جڑیں نہایت مضبوطی سے زمین کو جکڑے رکھتی ہیں جس کی وجہ سے سمندری کٹاؤ رونما نہیں ہوتا جبکہ سمندر میں آنے والے طوفانوں اور سیلابوں سیبچاو کایہ قدرتی طریقہ ہیں۔ساحلی پٹی پر موجود مینگروز سمندری طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کی صورت میں نہ صرف اس کی شدت میں کمی کرتے ہیں، بلکہ سونامی جیسے ہولناک خطرے کے سامنے بھی حفاظتی پل کا کام کرتے ہیں۔آپ کو یا د ہوگا جب 2004 میں بحیرہ عرب میں آنے والی بے رحم سونامی کے عفریت نے انڈیا سمیت کئی ممالک کو اپنا نشانہ بنایا لیکن پاکستان مینگرووز کے جنگلات کی وجہ سے محفوط رہا۔تیمر جنگلات چھوٹی مچھلیوں جیسے فن فش، شرمپس، شیل فش نایاب قسم کے جھینگوں کی آماجگاہ ہے۔

These Fish Fuel Mangrove Forests With Their Urine

مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کراچی کو خوفناک سمندری طوفانوں اور سیلابوں سے بچائے رکھنے والے یہ مینگرووز اب روایتی بے حسی کا شکار ہیں اور تباہی کی زد میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا صاف ہوا پر بھی کراچی والوں کا حق نہیں

SINDH FOREST | Mangroves

ساحل  پر زمین کے کٹاو اور مٹی کے بہاوکو روکتے دراڑیں پڑنے سے بچاتے مینگرووز ایک جانب ہمیں بے شمار فائدے پہنچا رہے ہیں تو دوسری جانب یہ جنگلات شدید خطرے کابھی شکار ہیں۔

مزید پڑھیں :  فضائی آلودگی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج

مینگرووز کے ایکوسسٹم کو تین مسائل درپیش ہیں۔پہلا مسئلہ ساحلی علاقوں میں مینگرووز کے اندر انسانی بستیوں کی تعمیر ہے۔ دوسرا مسئلہ لوگوں کا روزگار کے لیے ڈیلٹا کے اطراف موجود اپنی جھونپڑیوں کو چھوڑ کر دوسرے علاقہ جات میں منتقلی ہے یہ خاندان اب قریبی شہروں میں لیبر فورس فراہم کررہے ہیں۔

تیسرے مسئلے کا تعلق بائیوڈائیورسٹی سے ہے۔ ایک وقت تھا جب مینگرووز کی ایک درجن یا اس سے زائد اقسام تھیں، لیکن اب ہمارے پاس صرف ایک ہی قسم کے مینگرووز باقی رہ گئے ہیں۔حکومت کی طرف سے مینگرووز کے ختم ہوتے ہوئے ذخائر کو بچانے کے لیے زیادہ کوششیں نہیں کی گئی ہیں، اور بدقسمتی سے ان کوششوں کا مقصد مسئلے کا حل کم اور میڈیا میں تشہیر زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں پانی کا بڑھتا بحران 

چوتھا بڑا مسئلہ لکڑیوں کو بلا ضرورت کاٹا جارہا ہے صنعتوں اور فیکٹریوں کا گندا آلودہ کیمیائی پانی شامل ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف پودے بلکہ آبی مخلوق کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

Ecocide of mangrove swamps bringing catastrophes ashore – Corporate Watch

جولائی سال 2020میں اس وقت کے صوبائی وزیر جنگلات اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ سندھ کے مختلف ساحلی علاقوں میں 2 ارب سے زائد د مینگرو ز کے پودے لگائے جاچکے ہیں جنہیں ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ کمپیوٹرائزڈ کیا گیا جبکہ مینگروز کے پودے لگانے اور انہیں کمپیوٹرائزڈ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جبکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر مینگروز کی شجر کاری حکومت کا اہم اقدام ہے جس سے 10 ارب روپے سے زائد آمدنی ہوگی جو کہ متعلقہ مقا می افرا د و آبا د ی کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جا ئیں گے۔سید ناصر حسین شاہ نییہ بھی بتایا تھا کہ سندھ میں مینگروز کی پیداوار 2008 ء سے تقریبا دوگنا ہو گئی ہے اور سندھ نے سب سے زیادہ شجرکاری کے تین عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں یادرہے کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز کی سب سے زیادہ پائی جانے والی نسل تمر (Avicennia marina) ہے۔۔لیکن اس وقت آنے والی خبریں تو بہت تشویش ناک ہیں جن کے مطابق ہاکس بے میں ماحول دوست مینگرووز کی کٹائی کرکے تعمیرات کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

یہ بات جان لینا بے حد ضروری ہے کہ ساحلی علاقوں میں مینگرووز کی موجودگی وہاں کا قدرتی ماحول برقرار رکھتی ہے جبکہ دوسری جانب یہ سمندر کی بپھری ہوئی لہروں سے بھی ساحلوں کے لیے محافظ ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ مینگرووز کے پودے دیگر پودوں کے مقابلے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی 18 فیصد زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کو ماحول دوست کہا جاتا ہے۔ کراچی کی ساحلی پٹی کے لیے یہ بہت ضروری ہیں کیونکہ بدقسمتی سے کراچی کو جہاں دیگر مسائل کا سامنا ہے وہیں ماحولیاتی آلودگی کے خطرات کے چیلینجز سے بھی لڑنا ہے ۔مینگرووز کا دایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ زمین کے کٹاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جبکہ سمندر کی تیز لہروں کے خلاف natural resistence ہیں۔

The coast is clear: The vanishing mangrove forest of Karachi - Iris - Herald

اب چلتے ہیں خبر کی طرف جو کچھ یوں ہے کہ قبضہ مافیا نے سمندر کو بھی نہیں چھوڑا اور کراچی کی ساحلی پٹی پر موجود مینگرووز کی کٹائی کا عمل تیزی سے جاری ہے جبکہ غیر قانونی پلاٹنگ کا سلسلہ پورے عروج پر ہے جبکہ سمندر میں ملبہ بھی ڈالا جارہا ہے اور اس غیر قانونی پلاٹنگ کے نتیجے میں نہ صرف تمر کے جنگلات خطرے میں بلکہ قومی تنصیبات کے قریب بھی یہ آبادیاں پھیلتی جارہی ہیں جب پر فوری طور ایکشن لینے کی ضرورت ہے حیران کن بات یہ ہے کہ اس غیر قانونی پلاٹنگ کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے جبکہ معاملات ڈرف کاغزی کاروائیوں تک ہی محدود ہیں۔ اس سلسلے میں جس بھی ادارے سے بات کرنے کی کوشش میں صرف متعلقہ اداروں کی جانب سے صرف خدشات کا اظہار ہی کیا جارہا ہے۔ بہت سارے گوٹھوں میں جعلی کاغذات پر پلاٹنگ کا عمل جارہی ہے جبکہ فاریسٹ کی زمین بھی اس کی زد میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: طوفانی بارشوں کو ہفتوں گزرگئے،نیاناظم آباد کے اب بھی درد ناک مناظر

یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اداروں کے درمیان اپنے اپنے مفادات کے لیے ٹکراؤ کوئی نئی بات نہیں ہے، وہاں مینگرووز پر ان مفادات کے ٹکراؤ کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے کیونکہ درخت محکمہ جنگلات کی ملکیت میں ہیں جبکہ زمین محکمہ ریوینیو کی۔ لہٰذا ان کے درمیان کسی بھی قسم کے عدم اتفاق کا نقصان بالآخر ماحولیات کو اٹھانا پڑتا ہے۔اور اس وقت کراچی کی ساحلی پٹی پر موجود مینگرووز کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ قوانین کو تبدیل کیا جائے تاکہ مینگرووز کا بچایا جاسکے جبکہ فاریسٹ کی زمین کو کمرشل مقاصد کے لیے ہرگز بھی استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ کراچی کی ساحلی پٹی پر موجود مینگرووز کے جنگلات کو بچانے کے لییایمرجینسی کی ضرورت ہے جس میں انڈس ڈیلٹا کو صاف پانی کی دوبارہ فراہمی، بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج کے پانی کو سمندر میں پھینکنے پر پابندی، رہائشی اسکیموں کی تعمیر اور دیگر کمرشل ضروریات کے لیے جنگلات کے کٹاؤ کی روک تھام اور عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *