ali sadpara 808x454

پہاڑوں کی آغوش میں رہنے والے علی سدپارہ کی واپسی

125 views

معروف پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے والد کی لاش ملنے کی تصدیق کردی ہے ۔

غانیہ نورین

تفصیلات کے مطابق قومی ہیرو محمد علی سدپارہ کا جسد خاکی مل گیا، نیپالی شرپاز کی گروپ نے بوتل نیک سے 300 میٹر نیچے دو لاشوں کو دیکھا ہے۔

قومی ہیرو علی سد پارہ کے بیٹے ساجد علی سد پارہ نے بھی لاش ملنے کی تصدیق کر دی۔

بیٹے ساجد سد پارہ کا کہنا تھا کہ مرحوم والد کا جسدِ خاکی بوٹل نک سے 300 میٹر نیچے کھائی میں نظر آرہا ہے، والد کے دیگر ساتھیوں جان سنوری اور جان پابلو کی باڈیز بھی نظر آرہی ہیں، ان دنوں کے ٹو سرچ مشن پر ہیں، ساجد سدپارہ اور ٹیم کیمپ فور پر موجود ہے، والد کے جسدِ خاکی کو نکالنے کی تدبیر پر غور کررہے ہیں، آج رات یا صبح تک ریسکیو کرکے باڈیز کو نکالنے کی کوشش کرینگے، قوم سے مشن کی کامیابی کے لیے دعاوں کی اپیل کرتا ہوں۔

مزید پڑھیں: علی سدپارہ اب پہاڑوں سے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔

دوسری طرف وزیر اطلاعات گلگت بلتستان فتح اللہ خان نے علی سدپرہ کی لاش ملنے کی تصدیق کر دی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات گلگت بلتستان فتح اللہ خان نے کہا ہے کہ کے ٹی بیس کیمپ فور سے علی سد پارہ، جان سنوری کی لاشیں مل گئیں۔ دور بین سے لاشوں کی شناخت کی گئی۔ بیس کیمپ کے قریب لاشوں تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔

پہاڑوں کے بیٹے کی واپسی کاندھوں پر

تقریباً چھ ماہ بعد علی سد پارہ اور دیگر ساتھیوں کے ملنے کی خبر جب سامنے آئی تو سوشل میڈیا ٹائم لائن پر پاکستانی کوہ پیما سے جڑی یادیں ، باتیں اور ان کی پہاڑوں سے محبت کی داستانیں عیاں ہوگئی اور ایک مرتبہ پھر کوہ پیما محمد علی سدپارہ کا نام ٹوئٹر کی ٹرینڈز لسٹ کا حصہ بن گیا۔

تاہم اس مرتبہ ماضی کی طرح ان سے جڑی باتوں میں علی سدپارہ کی واپسی اور بے یقینی نہیں تھیں، بلکہ ان کے دعائے مغفرت اور بیٹے ساجد سدپارہ کی جواں ہمتی کیلئے دات اور نیک خواہشات کا اظہار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: علی ظفر بھی علی سدپارہ کو پہاڑوں کی قسم دے کر بلانے لگے ۔۔

ٹوئٹر پر صارفین نے علی سدپارہ کے جسد خاکی ملنے پر ان کے اہلخانہ کا انتظار ختم ہونے کا شکرادا کیا وہیں قومی ہیرو کی مغفرت کیلئے دعائی کلمات بھی ادا کیے جبکہ کئی صارفین نے علی سدپارہ کے ساتھ بچھڑے غیر ملکی کوہ پیماؤں کا بھی ذکر کیا اور محبت بھرے جذبات کا اظہار بھی کرتے رہے۔

خیال رہے کہ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیما رواں برس 5 فروری کو کے ٹو سر کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔

علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ نے والد کے لاپتہ ہونے کے بعد دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنے والد کو آخری مرتبہ ’بوٹل نیک‘ سے بلندی پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔

ساجد علی نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں علی سدپارہ اور دو ساتھی کے ٹو سر کر کے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کسی حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: اندھیری رات میں بھٹکتا جگنو علی سدپارہ

ملک و قوم کو علی سدپارہ کی واپسی کا بے چینی سے انتظار ہیں وہ واپس آئے گے بھی ۔۔۔ مگر کاندھوں پر ، ان کے جسم پر کوہ پیمائی سوٹ کی جگہ سبز ہلالی پرچم ہوگا، بلند وبالا پہاڑوں کی محبت والی آنکھیں بند ہوگی، پہاڑ سیر کرنے کی صبری اب اطمینان پرسکون ہوگی۔

علی سدپارہ واپس تو آئے گا مگر اپنی محبت اور عشق پہاڑوں کی دامن میں چھوڑتا ہوا آئے گا۔

گفتگو جب محال کی ہوگی
بات اس کی مثال کی ہوگی

Source: Media Reports
Content: Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *