imran khan 6 808x454

خواتین کے لباس سے متعلق متنازع بیان پر وزیراعظم کی وضاحت

25 views

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جو انسان زیادتی کا مرتکب ہوا ہے وہی اس کا ذمہ دار ہے ، مظلوم اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔

غانیہ نورین

خواتین کے لباس سے متعلق متنازع بیان پر وزیراعظم عمران خان نے تمام ابہام کو دور کردیا اور اپنے بیان میں واضح کردیا کہ خواتین جو مرضی پہنیں زیادتی کرنے والا ہی اس کا ذمہ دار ہوتا ہے اسے مظلوم نہیں ٹھرایا جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے پردے کا لفظ استعمال کیا، پردے کا مطلب صرف لباس نہیں، پردہ صرف خواتین کے لیے ہی نہیں ہے، مردوں کے لیے بھی ہے، اسلام خواتین کو عزت و احترام دیتا ہے۔ اسلام میں پردے کا مقصد بگاڑ کو روکنا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستانی معاشرے میں جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جنسی جرائم کو صرف خواتین سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ صرف خواتین نہیں بچے بھی جنسی جرائم کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں زیادتی کے واقعات کا موازنہ مغرب سے کیا جاتا ہے، پاکستان میں زیادتی کے واقعات مغرب کے مقابلے میں کم ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا ریپ صرف لباس کی وجہ سے ہوتا ہے ؟

انکا کہنا تھا کہ میں یہ بات واضح طور پر کرنا چاہتا ہوں کہ میری بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور ایسا جان بوجھ کر کیا گیا، کیونکہ میں نے بہت سے انٹرویو دئیے میں نے کبھی ایسی بے وقوفانہ بات نہیں کی ۔ جہاں پر زیادتی کا شکار ہونے والا ہی اس کا ذمہ دار ہو، ہمیشہ یہ زیادتی کرنے والا ہوتا ہے جو ذمہ دار ہوتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ دیکھو جوڈی ! جو بھی زیادتی کرتا ہے ، صرف اور صرف وہی شخص اس کا ذمہ دار ہے۔ اس بارے واضح ہو جانا چاہئے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی خاتون کیسے کسی کے جذبات ابھار رہی ہےاور اس نے کیا پہن رکھا ہے جو انسان زیادتی کا مرتکب ہوا ہے وہی اس کا ذمہ دار ہے ، مظلوم اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، خواتین کے علاوہ بہت سے بچے بھی زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں، پردہ مردوں پر بھی لاگو ہوتا ہے ، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں سے اشتعال کا خاتمہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: خواتین سے متعلق لباس پر وزیراعظم کی سابق اہلیہ نے خاموشی توڑ دی

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل وزیراعظم عمران خان نے انگلش نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو سوائے روبوٹ کے مردوں پر اثر تو پڑے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ میں نے کبھی نہیں کہا عورتیں برقعہ پہنیں، عورت کے پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی سے بچا جائے۔

وزیراعظم کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا سائٹس پر تبصروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جہاں کچھ صارفین نے وزیراعظم عمران خان کی سخت مخالفت کی تو بعض عمران خان کے حمایت میں بھی نظر آئے۔

مزید پڑھیں:خواتین کے لباس پر وزیراعظم کا بیان، سوشل میڈیا پر نئی بحث

Source: Media Reports
Content : Ghania Naureen

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *