maham 808x454

ننھی ماہم درندگی کا شکار،قتل کے دوران گردن بھی توڑی گئی

148 views

شہرقائد میں انسانیت ہار گئی اور حیوانیت جیت گئی، 6 سالہ بچی کو درندہ صفت انسان نے اپنی حوس کا نشانہ بناڈالا، درندگی کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے ننھی گڑیا کو گردن مڑوڑ کر قتل بھی کردیا۔

غانیہ نورین

کب تلک آنکھ نہ کھولے گا زمانے کا ضمیر، ظلم اور جبر کی یہ ریت چلے گی کب تک

کراچی میں پیش آیا انسانیت سوز واقعہ جس کی تفصیلات نے سب کو حیرت میں متبلا کردیا، کہنے کو الفاظ ختم ہوگئے کان سننے سے قاصر ہوگئے، آنکھوں نے سچ دیکھنے سے انکار کردیا۔

شہرقائد کے علاقے کورنگی زمان ٹاؤن میں ننھی گڑیا نرم و ملائم بستر پر ہونے کے بجائے تعفن اٹھتے کچرے کے ڈھیر میں پائی گئی، نازو سے پلی 6 سالہ ماہم درندگی کی بھیانک داستان بیان کررہی تھی۔

نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کورنگی سے ملنے والی 6 سالہ ماہم کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا ، جس میں لیڈی ایم ایل او ڈاکٹر ثمیہ نے بچی ماہم سے زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بچی سے پہلے زیادتی کی گئی اس کےبعد قتل کیا گیا۔

ایم ایل او نے ابتدائی رپورٹ اور ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ماہم کوناک اور منہ بند کرکے قتل کیا گیا اور قتل کےدوران ہی زور لگانے سےگردن کی ہڈی ٹوٹی۔

مزید پڑھیں: نور مقدم قتل کیس: یہاں انسانوں کے روپ میں حیوان بستے ہیں

لیڈی ایم ایل او کا کہنا تھا کہ زیادتی کے دوران اسے بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، ڈی این اے سمیت دیگر تمام نمونےحاصل کرلیے ہیں، رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگا کہ کتنے افراد نے زیادتی کی، ہم نے اپنی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے۔

دوسری جانب پولیس کے تفتیشی افسر نے ماہم سے زیادتی کے بعد قتل کیس میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ قتل اور زیادتی کرنے والا کوئی قریبی تھا اور بچی شناخت نہ کرلے اسے لیے قتل کیا گیا۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ڈی این اے آنے کے بعد مزید صورتحال واضح ہوگی، واقع میں ملوث عناصر کو گرفتارکرلیں گے۔

مزید پڑھیں: کمسن بچوں سے جنسی اور جسمانی  تشدد المیہ یا بے حسی

گورنرسندھ نے کورنگی سے6 سالہ بچی کی تشددزدہ لاش ملنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رپورٹ طلب کرلی اور ملوث افراد کو جلد گرفتار،قرار واقعی سزا دلانے کا حکم دیتے ہوئے کہا مہذب معاشرے میں ایسے واقعات نا قابل برداشت ہیں۔

ایک اور دن ، ایک اور ہیش ٹیگ #JusticeForMaham سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہواہے، ہیش ٹیگز بنتے ہیں آوازیں اٹھتی ہے ملزم پکڑا جاتا ہے مگر معاشرے سے ایسے واقعات کم نہیں ہوتے۔۔۔۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان میں بنت حوا درندگی اور حیوانیت کی بھینٹ چڑھتی جارہی ہے، نور مقدم ، قراۃ العین ، نسیم بی بی ، بشریٰ ، صائمہ ، 6 سالہ ماہم ظلم و بربریت کی دردناک داستان بن گئیں اور آگے اب بھی بہت لمبی قطار لگی ہیں جو اپنی باری کی منتظر دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ یہ جنگل کا قانون ہے یہاں کبوتر بلی دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں ، خطرے کی بھنک پڑنے پر کچوا اپنے خول میں چلا جاتا ہے جبکہ دوسرے جانور بھی اپنی راہ تک لیتے ہیں مگر کبھی کوئی آگے بڑھ کر مقابلہ نہیں کرتا نظام کوئی تبدیل نہیں کرتا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *