4 12 808x454

کورونا وائرس: کیا فائزرکی ویکسین آسٹرازینیکا سے کم موثر ہے ؟

39 views

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے کہا ہے کہ فائزر-بائیو ٹیک کی دو خوراکیں نئے کووڈ انفیکشن کے خلاف زیادہ ابتدائی تاثیر رکھتی ہیں۔

صبحین عماد

عالمی وبا کورونا نے پوری دنیا کو ہی اپنی لپیٹ میں ایسا لیا کہ جس کے وار سے جہاں مضبوط معیشتوں کو متاثر کیا وہیں ترقی پذیرممالک کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ اس وبا نے پوری دنیا کو ہی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، پاکستان میں بھی کورونا کے کیسسز میں بہتر حکمت عملی کے پیش نظر کمی دیکھنے میں آئی تو دوسری جانب حکومت نے کورونا سے احتیاط کے لیے ویکیسین کا عمل بھی تیزی سے شروع کردیا ہے لیکن ہرایک کے ذہن میں یہی ایک سوال زیر گردش ہے کہ کون سی ویکسین کتنی کارآمد ہے اور کس ویکسین کا اثر کتنے عرصے تک جسم میں رہے گا ۔

دنیا بھر میں اب تک کی سب سے زیادہ موثر سمجھی جانے والی ویکسین فائزراور آسٹرازینیکا ہیں جس کے حوالے سے ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے 19 اگست کو شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق ، COVID-19 کے خلاف فائزر-بائیو ٹیک ویکسین کی تاثیر آسٹرازینیکا کی نسبت تیزی سے کم ہوتی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے کہا ہے کہ “فائزر-بائیو ٹیک کی دو خوراکیں نئے کووڈ انفیکشن کے خلاف زیادہ ابتدائی تاثیر رکھتی ہیں، لیکن یہ ایسٹرا زینیکا کی دو خوراکوں کے مقابلے میں تیزی سے کم ہوتی ہے۔”

یہ مطالعہ جس کا ابھی مکمل جائزہ نہیں لیا گیا ہے لیکن برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات کے ایک سروے کے نتائج پر مبنی ہے جس نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک مہینے تک کچھ  منتخب گھرانوں پر پی سی آر ٹیسٹ کیے۔

 یہ پڑھیں : کیا آپ بھی پریشان ہیں؟؟بیرون ملک سفر کرنے والے کون سی ویکسین لگوائیں۔۔؟

 یونیورسٹی کے نفلیڈ ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ “دوسری خوراکوں کے بعد دونوں کی immunity کے درمیان نمایاں طور پرفرق دیکھا گیا ہے “۔

پہلے پہل یہ کہا جارہا تھا کہ فائزر ویکسین کی شروع میں تاثیر سب سے زہادہ دیکھنے میں آرہی تھی لیکن فائزر کی دونوں خوراکوں کے بعد کچھ مہینوں میں تیزی سے کمی بھی دیکھنے میں آرہی ہے  ۔

سائنسدانوں نے مزید کہا ہے کہ “اب تک جو نتائج جو سامنے آئے ہیں اس میں چار سے پانچ ماہ کے بعد ان دونوں ویکسینوں کی تاثیر یکساں ہوجاتی ہے ۔

خیال رہے کہ اس مطالعے کے نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل 58 فیصد آبادی کو فائزر جاب کے دو شاٹس دینے کے بعد بوسٹر شاٹس دے رہے ہیں جبکہ فائزر اور موڈرنہ ویکسین کی کم ہونے والی تاثیر پر خدشات کے بعد امریکہ اینٹی باڈی کی سطح کو بڑھانے کے لیے بوسٹر ویکسین بھی پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔

 یہ بھی پڑھیں : فائزر ویکسین سے متعلق این سی او سی کی گائیڈ لائنز جاری

 واضح رہے کہ اب تک کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان لوگوں میں وائرس کے خطرات کم ہوگئے تھے جو پہلے ہی وائرس سے متاثر ہو چکے تھے۔

یاد رہے کہ اس مطالعے میں 18 سال سے زیادہ کے 300،000 سے زائد افراد کے دو گروہوں کا جائزہ لیا گیا تھا، پہلے الفا ویرینٹ کے متاثر افراد جو وائرس  کینٹ ، جنوب مشرقی انگلینڈ میں ابھرا تھا اور دوسرا مئی 2021 کے بعد سے ڈیلٹاویرینٹ جو مختلف قسم کا غلبہ رہا جبکہ قابل غور بات یہ ہے کہ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے بھارت میں سر اٹھانے والا ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف یہ دونوں ہی ویکسین کم موثر ہیں ۔

خیال رہے کہ آسٹرا زینیکا ویکسین برطانیہ میں سب سے زیادہ استعمال کی جارہی ہے، جبکہ 40 سال سے کم عمر کے افراد کو خون جمنے کے خدشات کی وجہ سے فائزر یا موڈرینا کی پیشکش کی جاتی ہے۔

source: first post
content: sabheen ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *