8 10 808x454

ڈاکٹر صاحب: برقعہ پہننے والی تو نارمل ہی ہیں، مگر آپکی سوچ۔۔؟

224 views

حجاب پہننا نہ پہننا یہ خواتین کی اپنی ذاتی چوائس ہوتی ہے جیسے مردوں نے خود کے لیے ایک دائرہ کار بنا لیا ہےکہ ان کا جو دل چاہے وہ پہن سکتے ہیں۔

صبحین عماد

 کیونکہ وہ مرد ہیں تو وہ ہر چیز کرنے کا حق رکھتے ہیں تو  ایسے ہی عورتوں کے لیے بھی ہے کہ وہ دل چاہیں تو پردہ کریں نہ چاہے تو نہ کریں،در حقیقت تو یہ مردوں کا مسئلہ ہے نہیں لیکن بولے بغیر رہا کیسے جائے، عورتوں کو پردے کی تلقین کرنے والے اور پھر انہیں ہی جج کرنے والے ان مرد حضرات کی سوچ پر کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ ماتم کیا جائے ۔ ملک میں ریپ کے حادثات ہوں تو کہا جاتا ہے کہ کپڑوں کی وجہ سے ہی ہوا ہوگا جہاں ملک میں ہر چیز کا ذمہ دار عورتوں کے لباس کو بنایا جاتا ہے وہیں اب ایک نیا شوشہ سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے جسے دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ ایک اور خلیل الرحمن سامنے آگئے ہیں کیونکہ وہ بھی ہمیشہ خواتین کے لیے متنازعہ بیانات دیتے ہوئے دکھتے ہیں

The 'Niqab Squad' Wants Women to Be Seen Differently - The New York Times

چند روز قبل ایک پاکستانی پروفیسر پرویز ہود بھائی نے ایک ٹاک شو کے دوران حجاب کرنے والی خواتین کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا ’’سنہ 1973 سے پڑھانا شروع کیا، اُس وقت آپ کو بمشکل ایک لڑکی برقعے میں دکھائی دیتی تھی، اب تو حجاب، برقعہ عام ہو گیا ہے۔ آپ کو ’نارمل لڑکی‘ تو شاز و نادر ہی ادھر نظر آتی ہے۔‘جب وہ کلاس میں بیٹھتیں ہیں برقعے میں حجاب میں لپٹی ہوئی تو ان کی کلاس میں شمولیت بہت گھٹ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کلاس میں ہیں کے نہیں

پروفیسر پرویز ہود بھائی کی حجابی خواتین کے متعلق اس رائے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ صارفین کو جس بات نے سب سے زیادہ ٹھیس پہنچائی وہ دراصل پرویز ہودبھائی کا یہ جملہ تھا کہ ’آپ کو نارمل لڑکی تو شاز و نادر ہی نظر آتی ہے۔‘

لوگ کہہ رہے ہیں کہ حجاب کرنا یا نا کرنا خواتین کی اپنی چوائس ہوتی ہے ۔ صرف لباس کی وجہ سے آپ خواتین کی صلاحیتوں اور ذہانت کو نہیں جانچ سکتے۔

IWD: Empowering Muslim women to participate in team sports - Muslim Engagement and Development

کسی کی قابلیت کا اندازا اس کے لباس سے لگا لینا کہاں کی دانشمندی ہے اور پھر خود سے ہی یہ سوچ لینا کہ حجاب یا برقعہ کی وجہ سے وہ گھٹ جاتی ہیں اب ان کی گھٹی ہوئی سوچ پر ماتم نہ کرے انسان تو کیا کرے جبکہ ہمارے ملک میں اور دنیا بھر میں خواتین حجاب اور برقعہ کے ساتھ بھی قابلیت کی بلندی پر بھی ہیں۔

خاتون اینکر کا برقعہ پہن کا شو

نجی ٹی وی چینل کی اینکر کرن ناز کا نام ٹوئٹر پر اس وقت ٹرینڈ کرنے لگا جب انہوں نے لائیو شو کے دوران حجاب پہن کر کہا کہ حجاب پہننے والی لڑکیاں کسی بھی معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں

پروفیسر  پرویز ہود بھائی کے ان خیالات پر پاکستانی نجی چینل کی اینکر پرسن کرن ناز نے بھی ردعمل کا اظہار کیا اور لائیو شو کے دوران حجاب پہن کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ حجاب کسی بھی طرح خواتین کی صلاحیتوں میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ خواتین کی قابلیت کا ان کے کپڑے سے کیا تعلق ہے؟

کرن ناز نے شو میں حجاب پہن کر حجابی خواتین کے دفاع میں بات کرتے ہوئے کہا حجاب اور برقع پہننے والی خواتین بھی بالکل اسی طرح ’نارمل‘

ہوتی ہیں جیسا کہ حجاب نہ کرنے والی خواتین۔ اسے پہننے کے بعد نہ میرے لفظوں میں کمی آئے گی اور نہ ہی میری سوچ میں کوئی تبدیلی آئے گی۔

کرن ناز نے حجاب کرنے والی کامیاب خواتین کی چند مثالیں دیتے ہوئے کہا کیپٹن پائلٹ شہناز لغاری وہ پہلی خاتون ہیں جو باقاعدہ حجاب کرکے جہاز اڑاتی ہیں۔ پچھلے سال تاریخ رقم کرنے والی فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی سے گریجویٹ 18 گولڈ میڈل حاصل کرنےو الی لڑکی بھی حجاب کرتی ہے

نصرت سحر عباسی جو اب حجاب کرتی ہیں اور سندھ اسمبلی میں لوگوں کے لیے آواز بھی اٹھاتی ہیں۔ کسی طور پر بھی کوئی حجاب کرنے والی خاتون صلاحیتوں میں کسی سے کم تر نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی حجاب کے حق میں آوازیں ۔ 

کرن ناز کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ سراہا جارہا ہے اور لوگ حجاب کے دفاع میں سامنے آتے ہوئے  برقع پہننے والی لڑکیوں کو مکمل ’نارمل‘ قرار دے رہے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر بھی برقعہ پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جبکہ ڈاکٹر پرویز کے بیان کو بھی صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے

مہوش بھٹی نے کہا کہ ایک عام مرد سے لے کر ایسے مرد جو بظاہر بہتر تربیت رکھتے ہیں، یہ تمام ہی خواتین اور ان کے کپڑوں سے لگاؤ رکھتے ہیں

صارف شہلا علی خان نے لکھامیں برقعہ پہن کر لیکچر میں سب سے زیادہ حصہ لینے والی لڑکی تھی۔انسان کی شخصیت پُراعتماد ہو تو وہ ہر لبادے میں بول سکتا ہے۔

ہماری خواتین دوہری ذہنیت رکھنے والے مردوں کے اس معاشرے میں پردے مٰیں بھی سر اٹھا کر چلتی بھی ہیں اور ہر شعبے میں مردوں کے شانہ با شانہ ہر کام بھی سر انجام دے رہی ہیں تو ڈاکٹر صاحب برقعہ والیوں کا تو چھوڑیں ایک بار خود نارمل ہیں یا نہیں ذرا اس پر بھی غور و فکر کریں کہیں یہ نا ہوں کہ یہی جملہ لوگ آپکے لیے بھی کہنے لگیں ۔

source: social media
content: sabheen ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *