viralvideo India 808x454

تشدد کی ایک اور وڈیو وائرل مودی سرکار مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے باز نہیں آرہی

31 views

بھارت میں مسلم آبادی کے خلاف مودی سرکار کا امتیازی سلوک جاری سوشل میڈیا پر تشدد کی ایک اور وڈیو وائرل ہونے کے بعد  بھارت میں پھر نریندر مودی کی پالیسیوں پر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔

فہمیدہ یوسفی

کانگریس رہنما راہول گاندھی نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں حکومت کو اس وقت تنقید کا شدید  نشانہ بنایا  جب  بھارتی ریاست آسام میں غیر قانونی قرار دے کر مسلمان آبادی کے خلاف پولیس آپریشن کیا گیا اور احتجاج کرنے والوں پر پولیس نے براہ راست فائرنگ کی۔ بھارتی پولیس کی فائرنگ سے متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔

پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک مسلمان شخص کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کی بےحرمتی کی ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔

اس وڈیو پر  راہول گاندھی نے ٹویٹ کیا بھارتی ریاست آسام میں غیر قانونی قرار دے کر مسلمان آبادی کے خلاف پولیس آپریشن کیا گیا اور احتجاج کرنے والوں پر پولیس نے براہ راست فائرنگ کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی پولیس کی فائرنگ سے متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل اس  ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ پولیس اہلکار ایک نہتے شخص کو شدید تشدد نشانہ بنارہے ہیں  جبکہ ایک کیمرہ مین بھی پولیس محافظوں کی  موجودگی میں اس بے بس  شخص کی لاش پر  تشدد کررہا ہے لیکن پولیس  سفاکی سے یہ نظارہ دیکھ رہی ہے ۔ اس وڈیو کے وائرل ہونے کے بعد  بھارت کی سول سوسائٹی کی جانب سے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا  جارہا ہے  جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس سفاکانہ حرکت پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا جارہا ہے

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم (ہیومن رائٹس واچ) نے22 ستمبر کو امریکی کانگرس کو دی گئی بریفنگ میں کہا ہے کہ مودی حکومت مسلمانوں سے منظم امتیازی سلوک کررہی ہے۔

مودی حکومت نے ایسی پالیسیاں اور قوانین اختیار کیے ہیں جو مکمل طور پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی تصور کیے گئے ہیں۔ اس قسم کی منافقانہ سیاست نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حکومت کی ان منافقانہ پالیسیوں نے آزاد اداروں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیاہے، جس کے تحت پولیس نے ہندو قوم پرست گروپوں کو مسلمانوں بالخصوص اقلیتوں کو دھمکیاں دینے، ہراساں کرنے اور ان پر حملے کرنے کے لئے بااختیار بنا دیا ہے۔

بھارت میں  تسلسل سے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف کیے جانے والے  غیر انسانی سلوک، تشدد اور قتل جیسے  ہولناک واقعات سامنے آتے ہی رہتے ہیں جس پر  ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی عالمی تنظیمیں  اپنی تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔ تاہم مودی سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی

تشویش کی بات یہ ہے کہ نریندر مودی کے دوسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد بھارت  میں موجود اقلیتوں پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تلخ  حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ ہندو مذہبی انتہا پسندوں کو مودی سرکار کی حمایت حاصل ہے۔

مسلمانوں پر مظالم کے خلاف بھارت میں بغاوت کی گونج ۔

حقیقت یہ ہے کہ  بھارت میں اس وقت لاکھوں افراد  بھوک اور غربت کا سامنا کررہے ہیں جبکہ کورونا کے خلاف بھی  مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں کے بعد وہاں کے تجزیہ کار مودی سرکار کی ساکھ  پر سوال اٹھارہے ہیں ۔ اسی لیے  اپنی سیاسی اور معاشی ناکامیوں کو   عوام  کی نظروں سے اوجھل  رکھنے  کے لیے  مودی  سرکار آئے روز بھارت میں  سماجی اور مذہبی مسائل  کے اسباب پیدا  کررہی ہے۔

 کبھی گائے   کو  مذہبی جواز بناکر دلت اور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ہجوم اکٹھا ہوکر اقلیتی افراد کو جان سے  ماردیتا ہے  جبکہ خواتین اور بچوں پر جنسی حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے

کیا بھارتی میڈیا مودی کے ہندوتوا نظریہ کے خلاف ہیں؟

ایک جانب  بھارت جو اپنے  سیکولر ملک ہونے کے دعوے  کرتا تھا، اب ایک  انتہا پسند ریاست  کا روپ  اختیار کر چکا ہے ، جہاں اقلیتوں کے لیے زمین کو تنگ کیا جارہا ہے اور ان کو احساس دلیا جارہا ہے کہ وہ یہاں غیرمحفوط ہیں

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا   بی جے پی کے  اقتدار میں بھارتی معاشرے میں نفرت اور مذہبی منافرت کی آگ نے سب کچھ جلا کر رکھ دیا ہے ۔

بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو آئے روز جبر و ستم یا تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے

 ایک رپورٹ کے مطابق ہندوتوا یا اکھنڈ ہندو مملکت کی علمبردار مودی حکومت کی شہ پر اقلیتوں کو کورونا وائرس کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے ہندو اکثریتی علاقوں سے مار مار کر نکالا جارہا ہے۔ انھیں سبزی، پھل اور کھانے پینے کی دوسری اشیا خریدنے نہیں دی جارہی ہیں اور مسلمان مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔

ہندو انتہا پسند کا بزرگ مسلمان شہری پر تشدد، داڑھی بھی کاٹ دی

 یہ حالیہ وڈیو بھی اسی انتہا پسندی اور مذہب کے نام پر کیے جانے والے امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتی ہے جو مودی سر کار نے  مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے

لیکن مودی سرکار کو یاد رکھنا چاہیے کہ  یہ آگ صرف غیروں کا نہیں اپنوں کا دامن بھی جلادیگی  تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی

Source Indian Media Reports

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *