FifthGenereationWarfare HybridWar 808x454

ففتھ جنریشن ہائبرڈ وارفئیر : پاکستان کے خلاف دشمن کا ہتھیار

274 views

کیا کوئی جنگ ایسی بھی ہوتی ہے جسے بغیر لڑے بھی جیتا جاسکتا ہے،جس میں نہ ہتھیار وں کے بجائے لوگوں کے اذہان استعمال ہوں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں لڑی جانے والی اس جنگ کو ففتھ جنریشن وار فئیر یا پھر ہائبرڈ وار فئیر کا نام دیا گیا ہے۔

فہمیدہ یوسفی

اس جنگ کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جنگ، وہ جنگ ہے جسے جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے لڑا ہی نہ جائے۔جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقدہ فوجی اعزازات دینے کی تقریب سے خطاب کے دوران اپنی تقریر میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ ‘میں آپ کی توجہ ایک اور چیلنج کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں اور یہ چیلنج ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار کی صورت میں ہم پر مسلط کی گئی۔ اس کا مقصد ملک اور افواج پاکستان کو بدنام کرکے انتشار پھیلانا ہے“۔

ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار فئیر آخر ہے کیا؟؟

اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وطن عزیز کو کئی برسوں سے ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس میں خیالات، معلومات، پروپیگنڈا، جعلی خبریں اور ظاہری شکل کے کوئی بھی روایتی ہتھیار ہوں، وہ ایک جامع جنگ کا سامنا کرنے کی نشان دہی کرتا ہے، جسے ہم بموں سے لے کر بوٹس تک ہر چیز پر محیط قرار دے سکتے ہیں۔
اب تو یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ، نائن الیون کے موقع پر جس طرح بھارتی میڈیا ہذیان کا شکار تھا، اس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال تھا کہ آخر جھوٹ کی کسی سرحد پر اس کا اختتام بھی ہونا ہے کہ نہیں یا پھر بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑاتے ہی چلے جانا ہے، بھارتی میڈیا کی لاف گزی نے اُن زمینی حقائق پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ آر ایس ایس اپنے مذموم اکھنڈ بھارت کے نام نہاد ایجنڈے پر سازش کرنے سے باز نہیں آرہا۔

پاکستان کو بھارت نے جعلی اور جھوٹی خبریں بنا کر بدنام کیا رپورٹ

اس کو سمجھنے کے لئے جاننا ضروری ہے کہ اس منطق کے ساتھ، ایک مسئلہ یہ ہے کہ کم از کم جہاں تک بین الاقوامی تعلقات یا بین الاقوامی سلامتی کے ماہرین کا تعلق ہے، ” ففتھ جنریشن وار” وسیع پیمانے پر قبول کرنے میں تامل برتتے ہیں۔ پانچ معروف بین الاقوامی تعلقات یا بین الاقوامی سیکورٹی ہم مرتبہ نظرثانی شدہ جریدوں،انٹرنیشنل سیکیورٹی، جرنل آف کنفلیکٹ ریزولوشن، جرنل آف پیس ریسرچ، جرنل آف اسٹریٹجک اسٹڈیز، اور سیکیورٹی اسٹڈیز میں اصطلاح ‘ ففتھ جنریشن وار” نہیں ہے،پچھلے پانچ سالوں میں ظاہر ہوتا ہے، ایک ایسا دور جس میں ان جرائد نے تقریبا 5 50 لاکھ الفاظ چھاپے، اس طرح کے انقلابی تصور کے لیے یہ کوشش ہوئی کہ وہ فیلڈ کے ماہرین کی نظروں میں نہ آئے۔
پاکستان کی نظریاتی اساس اور قومی سلامتی کے ادارے ملکی بقا کے ضامن ہیں۔ یاد رہے کہ یورپی یونین میں فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے ای یو ڈس انفو لیب نے انڈین کرونیکلز میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 750سے زائد ویب سائٹس کو دنیا کے 119ممالک میں پاکستان کیخلاف استعمال ہوئی، لیکن ان ممالک نے منفی پروپیگنڈے کو روکنے کے لئے خاطر خوا اقدامات نہیں کئے، جس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ان ممالک میں بیشتر حکومتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ عالمی برداری میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دلوایا جائے۔،

بھارت کا ٹوئٹر پر نظام قانون پر اثرانداز ہونے کا الزام

نائن الیون کی 20ویں برسی کے موقع پر بھارتی میڈیا کا سرفہرست ایجنڈا یہی سامنے آیا کہ عالمی برداری کو اپنی تجارتی منڈی کے نام پر بلیک میل کیا جائے، بار بار شدت کے ساتھ اس بات پر زور دیا جارہا تھا کہ پاکستان کو ایف اے اٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ڈالا جائے، مملکت کو دہشت گرد ملک قرار دے کر خاکم بدہن پابندیاں عائد کی جائے، سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں، دنیا میں دہشت گردی کی جڑ ہماری ریاست کو قرار دینے کے لئے، جھوٹی رپورٹنگ نے پوری دنیا میں بھارتی میڈیا کی جگ ہنسائی ہوئی

خاص طور پر ایف پندرہ، عامر لیاقت کی ڈرامہ تصویر، ویڈیو گیم کے کلپ یہاں تک کہ وادی پنجشیر کے نام پر ایسی رپورٹنگ کی گئی کہ دنیا پریشان تھی کہ وہ تو کئی برسوں سے بالخصوص پندرہ اگست سے عالمی میڈیا افغانستان میں بیٹھا ہوا ہے،انہیں تو کوئی ڈرون، پاکستانی بٹالین، گوریلا فورس کی خبریں نہیں ملیں، لیکن جو افغانستان کا پڑوسی بھی نہیں، اس کا تما م عملہ اور سہولت کار روتے دھوتے فرار ہوگئے، اب اپنے نیوز چینلز پر بیٹھ کر اپنی ارمانوں کی چتاؤں پر کرائے پر رونے دھونے والوں کو بیٹھا کر کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر افغانستان کی صورت حال کے تناظر میں پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی گئی، جس میں سابقہ افغان حکومتی اہل کار بھی شامل تھے جبکہ بدقسمتی سے پاکستان کی بعض تنظیمیں اور کچھ میڈیا پرسنز بھی اس مہم کا حصہ بن کر پاکستان کے خلاف جاری ففتھ جنریشن وار آلہ کار بن کر سامنے آئے۔

پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارت کی جانب سے جاری اپنے خلاف ففتھ جنریشن وار فئیر کے ناقابل تردید ثبوت سامنے رکھ دیئے ہیں جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارتی اینٹلی جنس ایجنسی اس وقت اپنا سارا فوکس پاکستان کے خلاف جاری ہائبرڈ وار پر صرف کررہی ہیں، تاکہ وہ دنیا کی نظروں میں پاکستان کو ناکام اور دہشت گرد ریاست ثابت کرسکیں اور حیران کن طور پر بعض پاکستانی سیاستدانوں کا یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے تو اس وقت بغیر سوچے سمجھے ملکی سا لمیت کے ذمہ دار اداروں کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرتے ہیں،جن کا فائدہ ملک دشمن سرگرم سازشی عناصر اٹھاتے ہیں

اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 114 چینلز کام کر رہے ہیں جن میں 31 کرنٹ افیئرز اور 42 تفریحی چینلز شامل ہیں، ایف ایم ریڈیوز کی تعداد 258 ہے، ان میں سے 196 کمرشل اور باقی نان کمرشل ہیں۔ انٹرنیٹ ٹی وی کے تقریباً 12 لائسنس ہیں جن میں نیا ٹیل، پی ٹی سی ایل اور ورلڈ کال شامل ہیں۔جبکہ موبائل فونز کنیکشنز کی تعداد تقریباً 18 کروڑ ہے جبکہ کچھ صارفین کے پاس ایک سے زائد سمیں بھی موجود ہیں، یعنی تقریباً 10 سے 12 کروڑ موبائل صارفین ہیں۔ تھری جی اور فور جی صارفین کی تعداد 98 ملین ہے، واٹس ایپ پر تقریباً ساڑھے چھ کروڑ لوگ ہیں، یوب ٹیوب پر پانچ کروڑ 60 لاکھ، فیس بک پر 3 کروڑ 70 لاکھ صارفین موجود ہیں۔ جن کے پاس ہر ہر قسم کی معلومات تک رسائی موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بیانیے کی جنگ کو لڑنے کے لیے اپنے سائبر اسپیس کو نظریاتی طور پر مضبوط بنانا ہوگا جبکہ عوام کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

بھارت کا جعلی نیوز نیٹ ورک پہلے ہی بے نقاب ہو چکا ہے:معید یوسف

اس اَمر کو  سمجھنا ہوگا کہ جب سیکورٹی خطرات کی بات آتی ہے تو، گندم کو بھوسے سے الگ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ صرف اس لئے غلط معلومات کا خطرہ ’جنگ‘ نہیں بلکہ حقیقی اور خطرناک ترین جنگ ہے۔ بھارتی خارجہ پالیسی ہندو انتہا پسندی کی بنا پر تیزی سے غیر مستحکم ہورہی ہے، نئی دہلی کی شدت پسندی کی سوچ نے نام نہاد قوم پرستوں اور دہشت گرد ی کی حمایت کرکے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو بڑھانے میں شرمناک کردار ادا کیا، اس تنگ دائرے میں ہمیں عالمی استعماری قوتوں کی ایما پر بھارتی کارستانیاں بخوبی سمجھ میں آتی ہیں کہ دو برس قبل بھارتی میڈیا کی جنونیت نے دونوں ممالک کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑا کردیا تھا۔

بھارتی میڈیا کا ایک بار پھر مذاق بن گیا

بھارتی میڈیا صرف ریٹنگ کو بڑھا نے کے لئے کشیدہ اوقات میں ایک خصوصی ایجنڈے کے تحت بڑے پیمانے پر بے بنیاد دعوؤں کو بار بار متحرک کرتا اور ایک بھڑکتی ہوئی قوم پرستی کی آگ کو بھڑکتا ہے۔یورپی یونین کی رپورٹ ثابت کرچکی ہے کہ بھارت کا نجی مرکزی دھارے کا میڈیا، کئی طریقوں سے بھارت کے ریاستی بازو کا حصہ ہے، بھارت یورپ تعلقات اس کے جمہوری شناخت یا کسی مثبت تعلقات کی بنا پر نہیں بلکہ دنیا کی بڑی افرادی قوت کی منڈی کے طور پر قائم ہے.

نیوزی لینڈ ٹیم کو بھارت سے دھمکیاں دی گئیں،بھارت کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔

دوسری  پاکستان عالمی برداری کو بار بار باور کرائے کہ یہ آپ کے دادا کا بھارت نہیں یہ بہت خطرناک، نسلی و مذہبی تباہی اور خطے سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی اور ہندو انتہا پسندی کا گڑھ بن چکا ہے۔ خطے کو خطرناک اور ایٹمی جنگ سے بچانا ہے تو بھارتی عوام کو ففتھ جنریشن وار کا حصہ بننے سے خود کو روکنا ہوگا

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *