6 2 808x454

جوکر والی لڑکی کی مدد کرو ٹوئٹر ٹرینڈ بن گیا

549 views

کہتے ہیں انسان کو کوئی چیز جب تک نہیں ہرا سکتی جب تک وہ خود ہارنہ مان لے لیکن کبھی کبھی انسان کی زندگی میں ایسے موڑ بھی آجاتے ہیں جب زندگی خود ایک امتحان بن جائے تو اس امتحان سے لڑنا ہی لازم ہوجاتا ہے ایسی ہی ایک با ہمت لڑکی کی کہانی نے اپنی محنت ہمت اور بلند حوصلے سے مثال قائم کردی ہے

 

تحریر:ثناءاللہ ہاشمانی
ترتیب و تدوین: صبحین عماد

والد اور دو بھائیوں کے دنیا چھوڑ جانے کے بعد باہمت خاتون صائمہ سرور گھر کی ذمہ داری نباہنے اور بیمار والدہ کی کفالت کے لئے تپتی گرمی میں جوکر کا لباس زیبِ تن کر کے اپنی مظلومیت بیان کر رہی ہیں صائمہ سرور میڈیکل کی طلبہ بھی ہیں۔

سوشل میڈیا پر  صائمہ سرور کی داستان وائرل ہونے کے بعد حکومت پنجاب کی جانب سے صائمہ سرور کی  مالی مدد اور نوکری کا اعلان کیا گیا تاہم صائمہ سرور کے مطابق میرے ساتھ کیئے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے کہا جاتا ہے حکومت نے صائمہ کو گھر بھی دے دیا تین لاکھ روپے بھی دیے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے مجھے حکومت کی جانب سے کچھ بھی نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر لاہور نے 30 اگست 2021 کو اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر سڑکوں پر جوکر بن کر ماں کا علاج کروانے والی میڈیکل کی طالبہ صائمہ کے گھر کا دورہ کیا۔ مالی امداد کے چیک کے ساتھ سِول ڈیفنس میں نوکری کا لیٹر بھی دیا۔ اس موقع پر صائمہ سے گفتگو میں نیک تمناؤں کے ساتھ بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

جس کے بعد سوشل میڈیا پر صائمہ سرور کی امداد نہ ہونے  پر پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

سوشل میڈیا صارف محمد اسلم نے لکھا کہ یہ کام آسان نہیں ہے اسے سڑکوں پر مردوں نے تھپڑ مارے اور کئی ناموں سے پکارا، جن میں سے کچھ کے خیال میں وہ ماسک کے پیچھے ایک مرد یا خواجہ سرا ہے وہ روزانہ 700 سے 800 روپے کماتی ہے

دوسرے صارف حماد اصغر شاد لکھتے ہیں لاہور میں عورت سڑکوں پر بھیک مانگنے سے بچنے کے لیے روز مرہ کا لباس پہنتی ہے۔ صائمہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ لاہور کی سڑکوں پر مسخرے کی حیثیت سے کام کرے گی۔

شمسہ بتول کہتی ہیں قوم کی بیٹی کے لیے آواز اٹھائیں۔

شہباز علی نامی صارف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بیٹی کو مدد کی ضرورت ہے۔ اس نے ہراسانی کی وجہ سے نوکری چھوڑ دی۔

اب وہ جوکر کی نوکری کر رہی ہیں۔ برائے مہربانی اس کی مدد کریں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وقت اور مخیر حضرات قوم کی اس باہمت بیٹی  کی مدد کر کے اپنا فرض ادا کریں ۔

پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے خواب دیکھنے اور دکھانے  والوں نے قوم کی بیٹی کے خوابوں کو تو سڑکوں پر روند دیا لیکن ہاں حسب عادت حکومت نے اپنے جھوٹے دعوے اور وعدے کیے جو ہمارے ملک کے حالات کی طرح کبھی وفا نہ ہوسکے اور ایک بار پھر پنجاب حکومت کی جانب انہی کے کیے دعوے ان پر سوال بن کر کھڑے ہیں آخر کب تک قوم کی بیٹیاں اپنے خوابوں کو حالات کی چکی میں پیستی رہیں گی اخر کب تک

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *