2 3 808x454

کامیڈی کنگ عمر شریف کا سفر واپسی، تدفین کی تیاریاں مکمل۔

60 views

پاکستان کے لیجنڈری اداکار و کامیڈین اور کامیڈی کے ‘بے تاج بادشاہ’ کہلائے جانے والے عمر شریف کی میت یورپی ملک جرمنی سے استنبول کے راستے کراچی پہنچ گئی ہے آج دوپہر کو ان کی تدفین  حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں کی جائے گی  ۔

صبحین عماد

ہنسی کے بے تاج بادشاہ لیجنڈ اداکار اور کامیڈین عمر شریف جنہوں نے اپنے منفرد انداز اور مزاحیہ اداکااری سے پوریدنیا کو اپناگرویدہ بنا لیا تھا لیکن آج ہمیشہ مسکراہٹیں بکھیرنے والے عمر شریف نے جاتے جاتے ہر ایک دل کو اداس کردیا ہے اپنی باتوں سے روتوں کو ہسانے والے باکمال فنکار عمر شریف ہم میں نہیں رہے ہیں اور ان کے آخری سفر کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔

لیجنڈ فنکار عمرشریف کے و جسد خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹ کر کراچی ائیرپورٹ سےسہراب گوٹھ  ایدھی سردخانہ منتقل کردیا گیا ہے عمرشریف کاجسدخاکی صبح پانچ بج کر  پینتیس منٹ پر کراچی ائیرپورٹ پہنچا ہے جبکہ عمرشریف کی میت دوپہر بارہ بجے گلشن اقبال ان کی رہاٸش گاہ منتقل کی جائے گی

جسد خاکی کو دو بجے نماز جنازہ کے لئے کلفٹن عمر شریف پارک پہنچایا جائے گا جبکہ تین بجے نماز جنازہ ادا کی جائے گی

ان کی آخری خواہش کے مطابق عمر شریف کی تدفین حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں کی جائے گی۔

عمر شریف اسٹیج ڈراموں کے بے تاج بادشاہ، ستر سے زائد ڈراموں کے اسکرپٹ رائٹر ، فلموں میں کام کیا، اداکاری کی ہدایتکاری کی اور پوری دنیا میں نام کمایا، قسط وار اسٹیج ڈرامہ بڈھا گھر پر ہے، نے تو دنیا میں دھوم مچائی تھی، چار سو سے زیادہ بہروپوں میں نظر آئے، کمپیئرنگ کی اور اینکر بھی رہے یہ تعارف اور کارکردگی ہے ہم سے بچھڑجانے والے عمر شریف کی جن کی پرفارمنس لکھنے بیٹھیں تو کتابیں بھی کم پڑجائیں

 یہ پڑھیں : کامیڈی کا روشن ستارہ ڈوب گیا:عمر شریف کا گلیوں سے اسٹیج تک کا سفر۔

چودہ سال کی عمر میں اسٹیج پر جادو جگانے والے عمر شریف ابتدائی زندگی میں محلے میں مشہور تھےان کی بذلہ سنجی، جملے بازی اور لطیفہ گوئی پورے علاقے میں مشہور تھی۔ اسکول کے بعد عمر شریف جب گلی محلے میں نکلتے تو ان کے ارد گرد لڑکوں کا ہجوم ہوتا۔ ’بہروپیا‘ وہ کھیل تھا جس میں عمر شریف کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور پھر ’بڈھا گھر پہ ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پہ‘ نے انھیں پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی وہ مقبولیت عطا کی کہ عمر شریف برصغیر کے پسندیدہ مزاحیہ فنکار بن گئے۔

 اسٹیج ڈراموں کے ساتھ ساتھ عمر شریف نے مسٹر چار سو بیس، مسٹر چارلی اور چاند بابو جیسی فلمیں بھی بنائیں۔ مسٹر چار سو بیس کے لیے انھیں دو نیشنل اور چار نگار ایوارڈز بھی ملے جو پاکستان میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں حساب، کندن، بہروپیا، پیدا گیر، خاندان اور لاٹ صاحب شامل ہیں۔

 مزید پڑھیں : عمر شریف کی طبیعت بگڑ گئی،48 گھنٹے اہم قرار

خیال رہے کہ عمر شریف 2 اکتوبر کی دو پہر کو جرمنی کے شہر نیورمبرگ کے ہسپتال میں دوران علاج زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

انہیں 28 ستمبر کو کراچی سے ایئر ایمبولینس کے ذریعے امریکا منتقل کیا جا رہا تھا کہ ان کی طبیعت جرمنی میں بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں وہاں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

 آج عمرشریف کے جانے سے یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ آج ہنسی کا ایک اور دور تمام ہوگیا الوداع مسکراہٹوں کے بادشاہ ۔

source: media reports
content: sabheen ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *