pandora papers 808x454

پنڈورا پیپرز اسکینڈل کیا احتساب کے لیے بھی پنڈوراکھولنے میں حکومت کامیاب ہوگی

43 views

ایک کروڑ انیس لاکھ فائلز پر مشتمل   پنڈورا پیپرز اسکینڈل میں  سات سو پاکستانیوں  کے نام شامل ہیں جن کے اپنے یا ان کے رشتہ داروں یا ایل خانہ کے نام پر آف شور کمپنیاں ہیں ۔ ان پاکستانیو ں میں حکومتی عہدے دار   اپوزیشن  ارکان ریٹائرڈ سول اور فوجی افسران  جبکہ ارب پتی اہلِ ثروت یا ان کے خاندانوں کے افراد بھی شامل ہیں.

راوا اسپیشل

اشرافیہ کی جانب سے بلیک منی کو وائٹ منی کرنا ، ٹیکس چوری کرنا ، لوٹ مار  اور کرپشن کے  ذریعے  جمع کی گئی دولت اور ان کو باہر ممالک کے مختلف اکاؤنٹس میں رکھنے  کی داستانیں کوئی نئی تو ہیں نہیں ۔

  پنڈورا  پیپرز سے پہلے  پانامہ لیکس  اسیکنڈل بھی سامنے آیا تھا  جس نے  پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھدیا تھا ۔ اس وقت امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس پانامہ لیکس  اسیکنڈل میں سامنے آنے والوں کو  کڑے احتساب سے گزرنا پڑیگا  اور شاید لوٹی ہوئی دولت واپس آجائے  اور شاید ملک کی معاشی حالت میں بہتری آجائے ۔

لیکن احتساب صرف  پریس کانفرنسز باتوں  اور  انکوائری کمیشن  تک ہی  محدود رہا ۔ سوائے  چند لوگوں کے  پانامہ اسکینڈل میں آنے والے ناموں کو کبھی بھی  کسی قانونی  کاروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا  اور مٹی پاؤ کے فارمولے  پر عمل کرتے ہوئے  حکومت اور اداروں نے بھلا دیا .   لیکن  جیسے ہی  ایک بار پھر  پنڈورا پیپرز کا پنڈورا  کھلا ہے ایک بار پھر یہ سوال سامنے آیا ہے کہ کیا  طاقتور اشرافیہ  کا احتساب ممکن ہوپائیگا

اس حقیقت سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آف شور کمپنیاں دراصل ٹیکس نیٹ سے بچنے کے لیے اور ناجائز  ذریعہ سے کمائی گئی دولت کو چھپانے کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں ۔ خفیہ آف شور کمپنیاں نہ صرف  ملک کے معاشی عمل کے لیے خطرناک ہیں بلکہ یہ ملک کی عوام کے ساتھ بھی زیادتی ہے ۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان  کی پاکستان تحریک انصاف  کا نعرہ  ہی ملک سے کرپشن کے خاتمے کا تھا ۔ عمران خان کا وعدہ تھا کہ وہ ایسا نظام متعارف کروائینگے جہاں لوگ انصاف پر یقین کرینگے  بدعنوانی کا خاتمہ کرینگے جبکہ پاکستان  کو ریاست مدینہ کا ماڈل بنادینگے  اور ساتھ ہی  ملک میں لوٹی ہوئی دولت کو باہر سے لیکر  واپس آئینگے  جس سے پاکستان کی معاشی اور اقتصادی صورتحال بہتر ہوگی ۔

لیکن بدقسمتی سے تین سال گزرجانے کے باوجود وفاق کی جانب سے احتساب کے عمل میں کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی نہ ہی پانامہ لیکس میں آئے ناموں سے کسی قسم کی خاص باز پرس کی گئی ہے۔ماسوائے  پریس کانفرنسز اور اپوزیشن پر لعن طعن کے اس ایشو کو لیکر کسی قسم کی کوئی خاص پیش رفت  تو ہو نہیں سکی  اور  کرپشن فری پاکستان بننے کا خواب  خواب ہی رہ گیا ہے ۔

پنڈورا پیپرز کو لیکر  جیسا کہ امید تھی کہ وہی روایتی اقدامات اور بیان بازیاں ہونگی  تو  ایسا ہی ہورہا ہے اور وزیراعظم کی جانب سے  تحقیقات کیلئے سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔  پنڈورا لیکس کی تحقیقات قوم کے سامنے رکھی جائیں گی اور اعلیٰ سطح کا سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اینٹی کرپشن تحقیقات کریں گے۔

امید اور توقع تو یہ ہے کہ یہ سیل جلد از جلد تحقیقات کرکے  تفصیلات عوام کے سامنے رکھیگا  تاکہ پتہ چل سکے  ان آف شور کمپنیوں کے مالکان منی لانڈرنگ  میں تو ملوث نہیں تھے اور اگر تھے تو پھر ان کو قرار واقعی سزا ملنا چاہیے

اس اسکینڈل کی تحقیقات حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس ہے اور ریاست مدینہ ماڈل کی مثال جو کپتان عمران خان دیتے ہیں کی جانب  بھی  پہلا قدم ہوگا کیونکہ  ابھی تک  احتساب اور کرپشن فری پاکستان کی جانب تو کسی قسم کے عملی اقدامات  نظر نہیں آرہے ہیں۔

 تاہم  کیا یہ اتنا  آسان ہوگا  یہ دیکھنا  باقی ہے کہ پنڈورا لیکس  کے لیے احتساب  کا پنڈورا کھولنے میں کیا یہ حکومت کام یاب ہوسکےگی

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *