6 5 808x454

عراق: پارلیمانی انتخابات کے لیے انتہائی سیکیورٹی میں پولنگ مکمل

15 views

عراق کے پارلیمانی انتخابات کے لیے انتہائی سخت سیکیورٹی میں اتوار کی شام کو پولنگ مکمل ہوگئی۔عراق میں حکومت مخالف کارکنوں کے وسیع پیمانے پر انتخابی بائیکاٹ کے درمیان ہونے والے الیکشن نے نوجوانوں میں کوئی جوش پیدا نہیں کیا۔ انتخابی نتائج آج شام تک آنے کی توقع ہے۔

صبحین عماد

 پارلیمنٹ کے 329 ارکان کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے، 3 ہزار 240 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ ڈھائی لاکھ سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق الیکشن حکام نے عراق کے پارلیمانی الیکشن میں اب تک کے سب سے کم ٹرن آوٹ کا عندیہ دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے دو عہدیداروں نے روئٹرز کو بتایا کہ دوپہر تک اہل ووٹرز کا ٹرن آوٹ 19 فیصد تھا۔ 2018 کے انتخابات میں مجموعی ٹرن آوٹ 44.5 فیصد رپا تھا اور پولنگ سٹیشن شام پانچ بجے بند ہوئے تھے۔

اتوار کو پولنگ صبح مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی اور شام چھ بجے تک جاری رہی۔

یاد رہے کہ عراق میں سیکیورٹی اہلکاروں نے پارلیمانی انتخابات سے دو دن قبل جمعے کو اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

’ خصوصی پولنگ‘ کا مقصد پولیس اور فوجیوں کو فری کرنا تھا تاکہ وہ پارلیمانی انتخابات کے دن سیکیورٹی فراہم کرسکیں۔

وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے بغداد کے انتہائی سیکیورٹی گرین زون میں واقع ایک سکول میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا اورعراقیوں پر زور دیا کہ وہ ووٹ ڈالنے کےلیے باہر نکلیں۔

بغداد کے ضلع کردہ میں 22 سالہ کار ڈیلرعامر فدل نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ وہی چہرے اور جماعتیں واپس آئیں۔

العربیہ نیٹ کے مطابق پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر ابتدائی نتائج جاری کیے جانے کی توقع ہے تاہم الیکشن کمیشن کے مطابق نتائج کا سرکاری اعلان 10 روز میں ہو گا۔

عراق میں سیاسی افراتفری

پارلیمانی انتخابات سخت ترین سکیورٹی میں کرائے گئے۔ تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار پولنگ مراکز کے لیے ڈھائی لاکھ فورسز کو تعینات کیا گیا تھا۔ ملک میں سیاسی سطح پر فی الوقت اکثریتی شیعہ طبقے کا غلبہ ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اسی فرقے کے معروف عالم دین مقتدی الصدر اور فتح اتحاد کے رہنما ہادی الامیری کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔

فتح اتحاد میں بیشتر وہ جماعتیں اور گروپ شامل ہیں جو کھل کر ایران کے حامی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ مقتدی الصدر بھی ایران سے ہی قریب بتائے جاتے ہیں تاہم عوامی سطح پر وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ ایران کا عراق پر کوئی سیاسی اثر و رسوخ ہے۔

 2003 میں عراق پر امریکی قیادت میں حملے کے بعد صدام کے زوال کے بعد ہونے والے پانچویں پارلیمانی انتخابات ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 24 ملین عراقیوں میں سے 38 ملین سے زیادہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

عراق میں شہری ہوابازی کے حکام نے اسے قبل کہا تھا کہ کہ کردستان ریجن سمیت عراق میں تمام ایئرپورٹس سنیچر شام چھ بجے بند کردیے جائیں گے۔ ایئرپورٹس کو پیر کی صبح چھ بجے دوبارہ کھولا جائے گا۔

source: media reports

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *