2 5 808x454

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی اعزاز کے ساتھ رخصت

18 views

محسن پاکستان قوم و ملک کے لیے ایک انتہائی اہم اثاثہ جو اب ہم میں نہیں رہے جن کی وفات نے کسی ایک دو کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہی سوگوار کردیا اور اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔

صبحین عماد

ٓڈاکٹرعبدالقدیرخان کواسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں  پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک کردیا گیا ، جسد خاکی کی تدفین سے قبل گارڈ آف آنرز پیش کیا گیا، مسلح افواج و پولیس کے دستوں نے سلامی پیش کی۔

اس سے قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خواہش کے مطابق ان کی نماز جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے پڑھائی ، ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، نماز جنازہ کے دوران بارش بھی ہوتی رہی۔ نمازِ جنازہ میں قائم مقام صدر سینیٹر صادق سنجرانی اور وفاقی وزراء سمیت سیاسی و عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے نماز جنازہ کے حوالے سے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ تیز بارش میں فیصل مسجد اور باہر سڑکوں پر لاتعداد لوگوں کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت کے لئے آتے دیکھ کر پتہ چل رہا ہے کہ یہ قوم اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی۔ مسجد سے واپسی پر کم سے کم ایک میل تک لوگ مسجد کی طرف جاتے نظر آ رہے تھے جو رش کی وجہ سے وقت پر نہیں پہنچ سکے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان  کافی عرصے سے علیل تھے۔ اتوار کی علی الصبح ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پھیپھڑوں میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جاں بر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔

عبدالقدیر خان کی حالات زندگی

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے اور اس کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتہائی اہم کردار تھا۔ مئی 1998 میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی۔ انہوں نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے۔

یکم اپریل 1936 کو موجودہ بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے تھے اور انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کرلی تھی، انہوں نے 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے میٹالرجی  میں ڈگری حاصل کی، بعد ازاں وہ مزید تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے، انہوں نے جرمنی اور ہالینڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کیں۔

ڈاکٹر عبالقدیر خان 15 برس یورپ میں رہنے کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر 1976 میں پاکستان واپس آئے، انہوں نے 31 مئی 1976 میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں اسی ادارے کا نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاءالحق نے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

ہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کے لئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت کم اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ 14 اگست 1996 کو اس وقت کے صدر مملکت فاروق لغاری نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا، اس سے قبل انہیں 1989 میں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

پوری قوم افسردہ

پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر پوری قوم افسردہ ہے اور گہرے رنج کا اظہار کررہی ہے جبک شوبز انڈسٹرے کے بھی فنکاروں نے بھرپور دکھ کا اظہار کیا

اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانےمیں گراں قدر خدمات سر انجام دیں، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے۔

پوری قوم عبدالقدیر سے محبت کرتی ہے

وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے بڑے جوہری ملک کی جارحیت سے ملک کو محفوظ بنایا، پاکستانی عوام کے لیے وہ ایک قومی ہیرو تھے، پاکستانی عوام کے لیے وہ ایک قومی مثال تھے، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے پر پوری قوم ان سے محبت کرتی ہے،ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات کبھی نہیں بھولیں گے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر بہت دکھ ہوا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے قوم کی حفاظت کے لیے ایٹمی طاقت بنانے میں پاکستان کی مدد کی، ہم ایک شکر گزار قوم کی حیثیت سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کو کبھی نہیں بھولیں گے، اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

سیاسی رہنماوں کا اظہار افسوس۔

پاکستان کو اتنی بڑی طاقت بنانے والے ڈاکٹر عبالقدیر خان کی وفات پر جہاں پورے پاکستان میں ہی سوگ یی فزا ہے ونہی دوسری جانب سیاسی رہنماوں نے بھی شدید غم کا اظہار کرتے ہوئے افسوس کیا ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی ملک کیلئے خدمات ناقابل فراموش

سابق صدر آصف علی زرداری نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ملک کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت اور درجات بلند کرے۔

ڈاکٹر عبد القدیر کی زندگی پاکستان سے محبت کی کہانی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے انتقال پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان کے دفاع اور سلامتی کی ایک قابلِ فخر تاریخ اور جدوجہد کا نام تھا، ان کی زندگی پاکستان سے محبت کی کہانی ہے، اسلام اور پاکستان ہی ان کا مطمع نظر رہے ان کی تمام زندگی پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں صرف ہوئی، پاکستان اور قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کی بہت خدمت کی

وفاقی وزیر داخلہ  شیخ رشید احمد نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفاقت پر شدید رنج کا اظہار کرتے ہونے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کی بہت خدمت کی، انہوں نے ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان کیلئے ان کی خدمات ان گنت ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رحلت پر پوری قوم افسردہ ہے، پاکستان کیلئے ان کی خدمات ان گنت ہیں،خدا غریق رحمت کرے۔

لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا

گورنرسندھ عمران اسماعیل نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کے لئے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیرخان قوم کا اثاثہ تھے

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان قوم کا اثاثہ تھے ، ان کی ملک کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

اقرار الحسن کا اظہار افسوس 

ٹی وی میزبان اقرار الحسن نے کہا کہ ‘ڈاکٹر عبدالقدیر خان رخصت ہوئے، ایٹم بم بنا کر پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دینے والے محسنِ پاکستان کے جنازے کو تاریخ ساز بنانے کے لیے حکومت اور عوام کو بھر پور اقدامات کرنے چاہئیں، شاید ہم مشرف دور میں اپنے اس عظیم محسن کو ٹی وی پر لا کر معافی منگوانے کے قومی جُرم کا مداوا کر سکیں’۔

یاد رہے جس نے پاکستان کو دشمنوں کے سامنے بولنے اور کھڑے ہونے کیہمت دی آج کوئی پاکستان کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تو اس میں سب سے اہم کردار ڈاکٹر عبالقدیر خان کا تھا لیکن انہوں نے جانے سے پہلے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ کووڈ 19 کے سبب ہسپتال میں زیر علاج تھے تو موجودہ حکمرانوں نے ان کی خیریت دریافت نہیں کی جس پر وہ ناخوش ہیں۔

حال ہی میں وزیراعلی سندھ کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے وفاقی حکومت کے رویے پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘بڑا اچھا احساس ہے کہ وزیراعظم، وزرائے اعلیِ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میری موت کی خوش خبری کا انتظار کررہے ہیں۔

جاتے جاتے آج آپ ہر ایک کو رلا گئے ہیں،الودع محسن پاکستان، یہ ملک ہمیشہ آپ کا مقروض رہے گا

source: media reports
content: sabheen ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *