8 5 808x454

پاکستان کی روشن صبح  تعلیمی ادارے سو فیصد حاضری کے ساتھ کھل گئے

31 views

پاکستان میں پیر گیارہ اکتوبر  سے تعلیمی ادارے 100فیصد حاضری کے ساتھ کھل گئے ہیں۔

راوا اسپیشل

این سی او سی نے ملک بھر میں بچوں کے سکول نارمل حالات کے مطابق کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے تحت اسکول ، کالجز اوریونیورسٹیاں بھی معمول کے مطابق  کھل گئیں ۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنی ٹویٹ میں اس بات کا اعلان کیا  تھا کہ گیارہ اکتوبر سے تمام تعلیمی ادارے مکمل حاضری کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیں گے۔

این سی او سی کے نوٹیفکیشن کے مطابق بارہ سال اور اس سے زائد عمر کے تمام طلبہ کے لئے کورونا ویکسین لگوانا لازمی قرار دی گئی ہے اس مقصد کے لیے کئی اسکولز میں کرونا ویکسنیشن سینٹرز بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے ویکسنیشن چیک کرنے کیلئے ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔

 مزید پڑھیں: این سی او سی: تعلیمی ادارے ایک ہفتے کے لیے مزید بند رکھنے کا فیصلہ۔

دوسری جانب این سی او سی کے مطابق  ملک میں  گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 28 افراد انتقال کر گئے ہیں جبکہ  ایک ہزار 04 نئے کیسز سامنے  آئے ہیں ملک میں  اموات کی مجموعی تعداد28ہزار134ہوگئی ہے،جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 12لاکھ 58ہزار 959تک پہنچ گئی ہے۔  این سی اوسی کے مطابق ملک میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد42ہزار 263 ہوگئی  ۔

کورونا وائرس کی وجہ سے  ملک  بھر میں جہاں  کاروبار زندگی شدید متاثر ہوا  وہیں  تعلیمی  نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ چھبیس فروری کو کرونا وائرس کا پہلا  کیس کراچی میں سامنے آنے کے بعد حکومت اور وزارتِ تعلیم کو طالبعلموں کا وائرس سے بچاؤ یقینی بنانے کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑے جس میں سب سے پہلا فیصلہ تعلیمی اداروں کی بندش کا تھا۔ پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت نے 2 روز کے لیے اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم یکم مارچ کو فیصلے میں توسیع کرتے ہوئے 13 مارچ تک اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ اسکے کے بعد پنجاب اور وفاقی سطح پر بھی تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا اور پھر تو جیسے سلسلہ چل نکلا  اور حکومت کو کورونا کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر بارہا تعلیمی ادارے بند کرنے یا کم حاضری کے ساتھ کھولنے کے فیصلے کرنے پڑے۔نویں دسویں  اور کالج پڑھنے والے طالبعلموں کو بنا امتحان لیے پروموٹ کیا گیا۔ وزارتِ تعلیم کو ان فیصلوں پر کڑی تنقید کا بھی سامنا رہا۔

 یہ بھی پڑھیں : پنجاب حکومت: پہلی سے 12ویں جماعت کے لیے قرآن کی تعلیم لازمی قرار۔

تعلیمی اداروں کے بند ہونے سے طلبہ و طالبات کے مستقبل کو شدید دھچکا لگا ۔ لاک ڈاؤن کے دوران  طلبہ و طالبات کے لیے تعلیمی نظام کو آن لائن سسٹم کے تحت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا  لیکن یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں  اسکول بند ہونے سے گھروں پر ہی محدود ہونے والے بچوں کی تعداد چار کروڑ کے قریب تھی  جبکہ ان میں سے بہت ہی کم تعداد  تھی  جو آن لائن سسٹم  کے ذریعے اپنا تعلیمی سلسلہ برقرار رکھنے میں کام یاب ہوئے ۔ بالخصوص دیہی علاقوں اور دور دراز علاقوں کے بچے سب سے زیادہ متاثر رہے ۔

انٹرنیٹ کی رسائی بھی بچوں کے لیے بہت بڑا چیلنج بنی رہی جس نے ان کی تعلیمی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈالا  اور ان کی ذہنی صحت  کو بھی بری طرح متاثر کیا  زیادہ تر بچے آن لائن کلاسز کے دوران ویڈیو گیمز ہی کھیلتے رہے ۔آن لائن کلاسز کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوا کہ بچوں کی کلاس ایکٹیویٹی اور باہمی میل جول محدود ہو کر رہ گیا جس کے باعث انکی کمیونکیشن اسکلز بھی بری طرح متاثر ہوئیں اور انکی روٹین پر بھی برا اثر پڑا۔اسکے ساتھ ساتھ آن لائن کلاسز والدین کے لیئے بھی کسی دردِ سر سے کم نہ تھیں۔ عموما والدین ہی بچوں کے ہوم ورک مکمل کرتے رہے خصوصاً پرائمری کلاسز کے بچوں کے والدین انکے ساتھ بیٹھ کر پوری کلاسز بھی اٹینڈ کرنے پر مجبور رہے۔ آن لائن کلاسز میں طالبعلموں کی عدم دلچسپی اور حاضر جوابی نہ ہونے کے باعث اساتذہ کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا  پڑا اسکے علاوہ بعض اوقات طلباء کی جانب سے اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات بھی پیش آئے۔

 یہ پڑھیں : تعلیمی ادارے کھولنے کا معاملہ: سندھ حکومت کا ایک بار پھر یو ٹرن ۔

لاک ڈاون کا اثر نہ صرف طالبعلوں کی صلاحیتوں اور ذہنی استعداد پر پڑا بلکہ انکی ذہنی صحت بھی اس غیر یقینی صورتحال میں متاثر ہوئی۔ کورونا وائرس کے خوف اور روزمرہ سرگرمیاں محدود ہو جانے کے باعث بچے بھی ڈپریشن اور چڑچڑے پن کا شکار ہوئے۔

اب جب کہ تعلیمی اداروں کو مکمل حاضری کے ساتھ کھولنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاون میں اسکول چھوڑ کر کام کاج کرنے والے غریب طالبعلموں کی بڑی تعداد شاید اب دوبارہ اسکولز کا رخ نہ کرے۔

طویل عرصے بعد مکمل حاضری کے ساتھ تعلیمی عمل کی بحالی ایک روشن صبح کی نوید ہے۔ طالبعلم ،ٹیچرز اور والدین سب ہی اس موقع پر خوش ہیں۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے بھی وائرس سے بچاؤ کے لئے ماسک ، سینیٹائزر وغیرہ کے استعمال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

امید ہے کہ رواں تعلیمی سال کلاسز بنا کسی بندش کے جاری رہیں گی اور طلباء اپنی تعلیمی سرگرمیاں بھرپور طریقے سے جاری رکھ سکیں گے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *