10 808x454

بریسٹ کینسر سے آگاہی ہر ایک کے لیے ضروری ہے

110 views

ویسے تو کینسر کا نام سنتے ہی ہر دل دھل جاتا ہے کیوں کہ یہ ایک ایسا مرض سمجھا جاتا ہے جس کا علاج یا تو ناممکن تصور کیا جاتا ہے یا بہت مشکل، بے شک ہر بیماری ہی انسانی جان کے لیے خطرناک ہوتی ہے لیکین کبھی کبھی اس کی صیح آگاہی ہونا بھی لازمی ہوتی ہے۔

صبحین عماد

اسی لیے دنیا بھر میں اکتوبر کے مہینے کو بریسٹ کینسر کی آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس مرض کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جاسکے جو احتیاط میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے اور یہ ہرگز ضروری نہیں کہ بریسٹ کینسر کی اگاہی صرف خواتین کے لئے ضروری ہو کسی بھی بیماری کی بہتر اور صیح معلومات ہر ایک کے لیے ضروری ہے ۔

کینسر کے مرض میں عموماً اسٹیجز کا لفظ سننے میں ضرور آتا ہے۔ دیگر کینسر کی طرح بریسٹ کینسر کی اسٹیجز 0سے4تک کی ہوتی ہیں۔ زیرو وہ اسٹیج ہوتی ہے جب کینسر اپنی اصل جگہ تک ہی محدود رہتا ہے جبکہ اسٹیج 4میں بریسٹ سے نکل کر دوسری جگہوں تک پہنچ جاتا ہے۔

سرجری سے قبل ڈاکٹر اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کرتے ہیں کے کہیں کینسر پھیل تو نہیں رہا اس کے لئے سب سے پہلے بغلوں میں موجود غدود کا معائنہ کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں کینسر سیلز سب سے پہلے حملہ آور ہوتے ہیں۔

اسٹیج کا پتا کینسر کے سائز، اس کے دیگر سیلز پر حملہ آور ہونے یا نہ ہونے سے چلتا ہے۔

اسٹیج زیرو

یہ بریسٹ کینسر کی سب سے ابتدائی اسٹیج ہے۔ اس میں کینسر آس پاس کے ٹشوز پر اثر انداز نہیں ہوتے نہ ہی یہ بریسٹ کے دیگر حصوں یا جسم کے دیگر حصوں میں پھیلتے ہیں۔

اس اسٹیج پر اگر کینسر کا پتا چل جائے تو متاثرہ ٹشو کو ریڈیئشن یا سرجری کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے۔ اسٹیج 0 پر کیمو تھیراپی نہیں کی جاتی۔

اسٹیج ون

کینسر کی اس اسٹیج کو مزید 2 حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ون اے اور ون بی۔اسٹیج ون اے میں ٹیومر کا سائز 2سینٹی میٹر جتنا160 ہوتا ہے۔ اور کینسر بریسٹ کے باہر نہیں پھیلا ہوتا۔

اسٹیج ون بی میں یا تو بریسٹ میں کوئی ٹیومر نہیں ہوتا بلکہ کینسر سیلز کے چھوٹے چھوٹے گروپ بنے ہوتے ہیں جوکہ 2ملی میٹر سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ یا پھر ٹیومر 2سینٹی میٹر سے چھوٹا ہوتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں اسٹیج 0کی طرح علاج ممکن ہے۔ البتہ اس اسٹیج پر علاج بر وقت ہونا بے حد ضروری ہے۔

اسٹیج ٹو

اس اسٹیج کا مطلب یہ ہے کہ کینسر بڑھ رہا ہے لیکن بریسٹ کے اندرہی موجود ہے۔ اس اسٹیج کو بھی مزید دو اسٹیجز میں تقسیم کیا جاتا ہے، اسٹیج ٹو اے اور ٹو بی۔ اسٹیج ٹو اے میں تین طرح کی صورتحال ممکن ہیں ایک یہ کے کینسر والے سیل کے ساتھ کوئی ٹیومر نہیں ہے البتہ کینسر لمف نوڈ تک پہنچ چکا ہے۔

دوسری یہ کہ ٹیومر 2سینٹی میٹر سے چھوٹا ہے۔ تیسری صورتحال یہ ہوتی ہے کہ ٹیومر 2سے5 سینٹی میٹر بڑا ہے اور لمف نوڈ تک نہیں پھیلا ہے۔

ٹو بی اسٹیج میں یا تو ٹیومر 2سے5 سینٹی میٹر بڑا ہے اور لمف نوڈ تک پہنچ گیا ہے یا 5سینٹی میٹر سے بڑا ہے اور لمف نوڈ تک نہیں پہنچا ہے۔

یوں تو اس اسٹیج پر اسٹیج 1کے مقابلے میں زیادہ جلدی علاج شروع کرانے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ اس اسٹیج پر مریض زیادہ جلدی صحت یاب ہوتا ہے۔

اسٹیج تھری

اس اسٹیج پر ٹیومر کسی بھی سائز کا ہوسکتا ہے۔ اس اسٹیج پر ٹیومر نے آس پاس کے اعضاء پر حملہ کرنا شروع کردیا ہوتا ہے۔ البتہ دور دراز اعضاء تک نہیں پہنچ پایا ہوتا۔ یہ اسٹیج بریسٹ کینسر کی ایڈوانس اسٹیج تصور کی جاتی ہے لیکن اب اس اسٹیج پر بھی علاج کے کئی آپشنز موجود ہیں۔

اگر اس اسٹیج پر ڈاکٹر آپ کو بتاتے ہیں کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف آپریشن سے علاج ممکن نہیں۔ سب سے پہلے کوشش کی جائے گی کہ ٹیومر سکڑ جائے اور پھر سرجری کی جائے گی۔

اس اسٹیج پر دو یا اس سے زیادہ طریقہ علاج استعمال کیئے جا سکتے ہیں جن میں ریڈیئشن، میسٹیکٹومی (یعنی بریسٹ کو ریموو کردینا)، ہارمون تھیراپی یا کیمو تھیراپی شامل ہیں۔

اسٹیج فور

اس مرحلے پر کینسر دور دراز اعضاٗ جیسے پھیپڑوں، دماغ یا جگر وغیرہ تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس اسٹیج کو لاعلاج مانا جاتا ہے۔البتہ نئی تحقیق اور ٹیکنولوجی، ساتھ میں انسان کی اپنی قوت ارادی سے اس اسٹیج پر کینسر کا علاج ممکن ہو پایا ہے جس سے مریض کئی سال تک سرواؤ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

بریسٹ کینسر کے بر وقت علاج کے لئے چھاتی کا خود معائنہ کرنا اور کوئی بھی تبدیلی یا گٹھلی محسوس ہونے پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا بے حد ضروری ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *