2 7 808x454

مینار پاکستان واقعہ:مجھے معاف کردیں، عائشہ نے اپنی عزت خود بیچ دی

273 views

میں معافی مانگتا ہوں کہ میں نے عائشہ اکرام کا ساتھ دیا جس نے خود کو سرِعام برہنہ کرنے والوں سے سودے بازی شروع کردی یہ کسی اور کا نہیں بلکہ معروف اینکر پروگرام میزبان اقرار الحسن کا ہے۔

صبحین عماد

14 اگست کو پیش آنے والا اقبال پارک کا واقعہ جس میں ٹک تاکر کے ساتھ نازیبہ حرکات اور بدتمیزی کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا سمیت پورے پاکستان کو ہی ہلا کر رکھ دیا تھا۔

سچے جھوٹے قصے

کہانی نے الگ الگ موڑ لیے اور کہانی کے کئی رنگ دیکھنے کو ملے کبھی کچھ بیان سامنے آئے تو کبھی کچ اور اسی دوران ایک لڑکی قوم کی بیٹی پر اتنے بڑے ظلم کے بعد اقرار الحسن نے عائشہ سے حمایت کے لیے ان سے ملاقات کی تھی اور انہیں اس تسلی بھی دی تھی لیکن اب اس سب کہانی ساریاصل داستان سامنے آگئی ہے جس نے سوشل میڈیا سمیت ہر پاکستانی اور خاص کر اقرارالحسن کو گہرے صدمے میں مبتلا کردیا ہے جس کی وجہ سے اقرارکو ساری قوم سے ہی معافی مانگنی پڑ گئی ہے۔

میں شرمندہ ہوں،اقرارالحسن

ٹی وی میزبان سید اقرار الحسن نے لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ پیش آئے دست درازی کے کیس میں گرفتار ملزمان سے پیسوں کی وصولی کی ٹیلی فونک گفتگو سامنے آنے کےبعد عائشہ اکرم کی حمایت کرنے پر معافی مانگی۔

اقرار الحسن نے یہ ویڈیو بیان خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھی ریمبو کی ٹیلی فونک گفتگو سامنے آنے کے بعد جاری کیا ، جس میں خاتون ٹک ٹاکر اور ان کے ساتھی کے درمیان فون پر جیل میں شناخت ہونے والے ملزمان سے رقم لینے کی گفتگو 25 سیکنڈ پر مشتمل ہے۔

یہ پڑھیں : میں تمھیں بھی برباد کردوں گا، ٹک ٹاکر کو ریمبو کی دھمکی

اقرار الحسن نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں عائشہ اکرم کا ساتھ دینے پر معافی مانگی۔

اپنے ویڈیو بیان میں اقرار الحسن نے کہا کہ ’میں یہ ویڈیو آپ سب سے غیر مشروط معافی مانگنے کے لیے بنارہا ہوں، ہوسکے تو میں نے پچھلے 8 سے 10 برس میں جو کام کیا اس کام کے صدقے مجھے معاف کردیجیے گا‘۔

اقرار الحسن نے کہا کہ ’عائشہ اکرم اور ریمبو کی جو حالیہ آڈیو سامنے آئی جس میں وہ گرفتار ملزمان کی رہائی اور ان سے ڈیل کے بدلے 5، 5 لاکھ روپے وصول کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، میں جس چیز پر عائشہ کے ساتھ کھڑا ہوا وہ لمحہ تھا جب ان کے ساتھ بدتمیزی، بدتہذیبی کی گئی’۔

کردار اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’بعد میں بھی جب عائشہ کی جھوٹی سچی ویڈیوز سامنے آئیں تو بھی میرا یہ خیال تھا کہ اس کا کردار اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے مگر اب وہ خود ظالم بننے کی مںصوبہ بندی کررہی ہے‘۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ایک غریب جھوٹا یا سچا جسے گرفتار کروایا ہے اور یقیناً آپ جھوٹے لوگوں کو بھی گرفتار کروائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسے وصول کیے جاسکیں، مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ میں ایک ایسی لڑکی کے ساتھ کھڑا ہوں

اقرار الحسن نے کہا کہ ’پوری قوم مجھے سمجھاتی رہی، بہت سے لوگوں نے مجھے برا بھلا کہا، میرے اپنے، فیملی، دوستوں نے مجھے روکا لیکن مجھے لگتا تھا ایک مظلوم لڑکی ہے اس کے ساتھ جو ہوا غلط ہوا، میں ڈٹا رہا، میں نے بعد میں منظر عام پر آنے والی ویڈیوز پر بھی عائشہ کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا لیکن اب یہ معاملہ کرپشن اور ظلم کی حدود میں داخل ہوگیا ہے’۔

 مزید پڑھیں  مینارپاکستان حادثہ: کہانی کا دوسرا رخ ۔

اقرار الحسن نے کہا کہ ’آپ کو سوچنا چاہیے تھا کہ میں اور یاسر شامی آپ کے لیے، آپ کی آواز بننے اور انصاف دلانے کے لیے بہت زیادہ تنقید برداشت کررہے ہیں لیکن آپ نے بدقسمتی سے اس کا مان نہیں رکھا’۔

انہوں نے کہا کہ ’اس آڈیو کے حوالے سے میں نے عائشہ اکرم اور ریمبو سے ملا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ یہ آڈڈیو اصلی ہے’۔

پیسے چاہیے تھے آپ مجھے کہتیں

ٹی وی شو میزبان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں پتا کہ میں کس چیز کی معافی مانگ رہا ہوں، میں کیا تحقیق کرسکتا تھا اس کیس کی، تحقیق کے لیے زیادہ سے زیادہ ویڈیو شواہد درکار ہوتے ہیں اور عائشہ کے ساتھ بدتمیزی کی ویڈیو موجود تھی، ایسے واقعات رپورٹ کرنے سے پہلے آپ اس فرد کا انسٹاگرام، ٹک ٹاک اکاؤںٹ نہیں دیکھتے، اس کے ذہن کو نہیں پڑھتے کہ وہ کتنا کرپٹ ہے کہ خود کو انصاف دلانے کے بجائے اپنی عزت کا سودا 5، 5 لاکھ کے عوض کرنے لگے

اس نے اپنے بھائی کو زلیل کروا دیا

ٹی وی شو میزبان نے کہا کہ ’میرا کام ہے واقعے کو رپورٹ کرنا میں نے اس واقعے کو رپورٹ کیا لیکن ہوس، لالچ، آپ کچھ نہ کرتیں عائشہ آپ کو میرا مان رکھنا چاہیے تھا، پیسے چاہیے تھے آپ مجھے کہتیں’۔

اقرار الحسن نے کہا کہ ’ ہم نے ایک مظلوم لڑکی کو دیکھا اس کے ساتھ زیادتی ہوئی، ہم اس کی مدد کے لیے پہنچے ، اسے بہن کہا اس کے سر پر ہاتھ رکھا لیکن اس نے اپنے بھائی کو ذلیل کروادیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے ظالم اور مظلوم میں فرق کرنے میں بڑی بھول ہوئی’۔

مینار پاکستان پر بدسلوکی کا واقعہ

یاد رہے واقعہ رواں سال 14 اگست کو اس وقت پیش آیا تھا جب خاتون اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مینار پاکستان کے قریب ویڈیو بنا رہی تھیں۔

خاتون کے مطابق انہیں لاہور گریٹر پارک میں سیکڑوں افراد نے ہراساں کیا، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ہجوم سے بچنے کی بہت کوشش کی اور حالات کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی گارڈ نے مینارِ پاکستان کے قریب واقع دروازہ کھول دیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں : مینار پاکستان واقعہ : اقرار الحسن بھی تنقید کی زد میں مگر کیوں؟؟

انہوں نے کہا کہ پولیس کو بتایا گیا تھا لیکن حملہ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لوگ مجھے دھکا دے رہے تھے اور انہوں نے اس دوران میرے کپڑے تک پھاڑ دیے، کئی لوگوں نے میری مدد کرنے کی کوشش کی لیکن ہجوم بہت بڑا تھا۔

مذکورہ واقعے کا مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 354 اے (عورت پر حملے یا مجرمانہ طریقے سے طاقت کا استعمال اور کپڑے پھاڑنا)، 382 (قتل کی تیاری کے ساتھ چوری کرنا، لوٹ کی نیت سے نقصان پہنچانا)، 147 (فسادات) اور 149 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

واقعے پر وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس بھی لیا تھا اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب سے رابطہ کیا تھا۔

عدازاں اس کیس میں گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں تاہم چند روز قبل خاتون ٹک ٹاکرنے بتایا تھا کہ گریٹر اقبال پارک جانے کا منصوبہ ریمبو نے ہی بنایا تھا اور ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میری نازیبا ویڈیوز بنا رکھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ویڈیوز کی وجہ سے ریمبو مجھے بلیک میل کرتا رہا ہے، ریمبو مجھے بلیک میل کرکے دس لاکھ روپے لے چکا ہے جس کے بعد عامر سہیل عرف ریمبو سمیت 8 افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

source: social media
content: sabheen ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *