2 13 808x454

عمارت اب تک گری کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ کا نسلہ ٹاور کیس کا بڑا فیصلہ

85 views

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کو ایک ہفتے کے اندر اندر گرانے کا حکم دے دیا۔

صبحین عماد

عدالت نے نسلہ ٹاور کو اب تک نہ گرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ملے گی، بتائیں، اب تک نسلہ ٹاور کیوں نہیں گرایا؟۔ عمارت گرائیں اور کمشنر کراچی ملبہ اٹھانے کا کام شروع کریں۔

عدالت نے کمشنر کراچی کو ایک ہفتے کے اندر نسلہ ٹاور کی عمارت ‘کنٹرولڈ ایمونیشن بلاسٹ’ سے گرانے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں یا کسی انسان کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ عمارت کا مالک متاثرین کو رقم واپس کرے اور کمشنر کراچی متاثرین کو رقوم کی واپسی یقینی بنائیں۔

عدالت نے عمارت کی بجلی اور پانی کے کنیکشنز 27 اکتوبر تک منقطع کرنے اور عمارت گرانے کیلئے ؕجدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حکم دے دیا۔

مکین اپنی جگہ خالی کردیں۔

اس ماہ کے شروع میں، نسلا ٹاور کے رہائشیوں کو 27 اکتوبر تک عمارت خالی کرنے یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

یہ نوٹس 12 اکتوبر کو ڈسٹرکٹ ایسٹ کے ایک اہلکار کی طرف سے عدالت عظمیٰ کی جانب سے نظرثانی کی درخواست کو مسترد کیے جانے کے بعد جاری کیا گیا تھا جس میں عدالت سے نسلا ٹاور کو گرانے کا اپنا حکم واپس لینے کی درخواست کی گئی تھی۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ کمشنر کو سپریم کورٹ کی ہدایات پر رپورٹ پیش کرنی ہوگی اور عمارت کو خالی کرانے کو یقینی بنانا ہوگا۔

مالک کا چاہتا ہے

دوران سماعت نسلہ ٹاور کے مالک کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ نسلہ ٹاور کی طرح بے شمار عمارتیں کھڑی ہیں، جس طرح نسلہ ٹاور بنایا گیا، ویسے ہی بے شمار عمارتیں بنائی گئیں، گلاس ٹاور کی طرح ہمیں بھی ریلیف دیا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں تو ساری چیزیں بکتی ہیں، اپروو پلان ہو یا لیز سب بکتا ہے، گلاس ٹاور کے اوپر تو صرف دو فلور تھے، آپ کے پلاٹ کو جہاں رکنا چاہیے تھا وہ آگے چلا گیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ ممکن ہے 780 مربع گز سے اضافی جگہ کو گرا دیا جائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے نسلہ ٹاور کے مکینوں کے وکیل عابد زبیری سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ تو نسلہ ٹاور کے مالک کو پکڑیں۔

سپریم کورٹ نے عمارت گرانے سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کردیں، عدالت نے کمشنر کراچی کو ایک ماہ میں نسلہ ٹاور خالی کرانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی تھی ۔

نسلہ ٹاور معاملہ کیا ہے؟

نسلہ ٹاور کے حوالے سے سندھ حکومت کو بھیجی گئی رپورٹ منظرعام پرآئی تھی ، جس میں بتایا گیا تھا کہ 30جولائی 2013کو ایس بی سی اے نے 15منزلہ بلڈنگ پلانگ کی منظوری دی ، 2013میں ڈی جی ایس بی سی اے منظورقادرعرف کاکا تھے، اہم شخصیات نے نسلہ ٹاورگرانے سے روکنے اور نمائشی کارروائی کیلئے زور دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مختار کار فیروزآباد نے اضافی رقبہ پلاٹ میں شامل کرنےکی منظوری دی ، نسلہ ٹاورکا 780گزکاپلاٹ سندھی مسلم سوسائٹی نے1951 میں الاٹ کیا اور چیف کمشنرکراچی نے1957 میں مذکورہ پلاٹ میں 264 گز اضافے کی منظوری دی۔

رپورٹ کے مطابق 1980میں شارع فیصل کے دونوں جانب20فٹ کارقبہ پلاٹس میں شامل کردیا گیا ، شاہراہ قائدین فلائی اوورتعمیرکےدوران77فٹ رقبہ پلاٹ میں شامل کیا گیا اور اضافے کے بعد نسلہ ٹاور کا پلاٹ بڑھ کر1121مربع گزہوگیا۔

source: media reports
content: sabheen ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *