123 808x454

پی این ایس طغرل۔ عہدِ نو

57 views

آٹھ  نومبر 2021 کو پی این ایس طغرل کی پاک بحریہ میں شمولیت بلا شبہ پاکستان کے لئے ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ جہاز پاک بحریہ کی راہ میں جہدِ مسلسل کا منہ بولتا ثبوت   ہے۔

تحریر  :  شاہد  احمد

پی این ایس طغرل چینی زیڈ شپ یارڈ میں تعمیر کئے  جانے والا اپنی طرز کا پہلا 054 A/P فریگیٹ ہے۔ قیام پاکستان کے ساتھ تشکیل پانے والی پاک بحریہ کے حصے میں رائل نیوی کے چند پرانے جہازوں کے سو ا کچھ بھی نہ آیا۔ وسائل کی کمی اور اندرونِ ملک متعلقہ پیداواری صلاحیت نہ ہونے کے باوجود پاک بحریہ نے آغاز ہی سے درست سمت کا چناؤ کیاجسکا مقصد ہمہ وقت سمندری سرحدوں کی حفاظت اور محفوظ بحری راستے رہا۔

تاریخ کا جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ دوارکا آپریشن سے لے کر بھارتی آبدوز کی تازہ ترین پسپائی تک اور خطے میں بدترین دہشت گردی کے دور میں محفوظ سمندری گزرگاہوں کی ضمانت سے لے کر بین الاقوامی سطح پر امدادی سرگرمیوں میں کلیدی کردار تک پاک بحریہ ہر امتحان میں کامیابی سے ہمکنار رہی ہے۔

اپنے سے کئی گْنابڑے دشمن اور مسلسل ہئیت بدلتے خطرات کے سامنے مکمل تیاری سے ڈٹے رہنا کوئی آسان عمل نہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے بھارتی بحریہ بحر ہند کے پانیوں پر اپنے تسلط کا جنون لئے اپنے اخراجات میں بے پناہ اضافہ کر چکی ہے۔ عالمی طاقتوں کی پشت پناہی اور مغربی ٹیکنالوجی تک رسائی کے مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت اپنی بحری قوت کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔

ان حالات میں پاک بحریہ کسی غیر ضروری موازنے میں نہیں پڑ سکتی۔ مگر اپنی دفاعی ضروریات اور بحر ہند میں اپنی بین الاقوامی اور قومی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے کے لئے متوازن اور مضبوط بحری بیڑہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔ ایک ایسا بحری بیڑہ جو ضامن ہو ملک کے دفاع کا، جو ضامن ہو خطے میں محفوظ بحری گزرگاہوں کا، جو ضامن ہو پاکستان کے سمندری وسائل اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کا، اور جو قدرتی آفات کی صورت میں دنیا کے کسی حصے میں امدادی سرگرمیوں کی صلاحیت رکھتا ہو۔
پی این ایس طغرل کی شمولیت سے پاک بحریہ دفاعی صلاحیت کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ زیر آب، سطح سمندر اور فضا میں دشمن کو تلاش اور تباہ کرنے کی بھرپور صلاحیت کے علاوہ زمینی اہداف کو طویل فاصلے سے صوتی رفتار سے کئی گنا تیزی سے نشانہ بنانا طغرل کلاس جہازوں کا خاصا ہے۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس ان جہازوں کی شمولیت سے پاکستان بحریہ نے طاقت کے توازن میں بگاڑ لانے کی بھارتی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
طغرل کی شمولیت دلیل ہے کہ پاکستان کسی جنگی جنون کا حصہ تو نہیں مگر اپنی دفاعی ضروریات سے غافل بھی نہیں ہے۔ کثیر الحربی صلاحیتوں کے حامل ان جہازوں کی شمولیت کے بعد دشمن اپنی عددی برتری کے باوجود نہ صرف جذبے بلکہ صلاحیت کے اعتبار سے بھی خود کو کم تر پائے گا۔
اپنے ماتھے پر پاکستان بحریہ کا موٹو“ حسبنااللہ و نعم الوکیل”سجائے جب طغرل پاکستان نیوی کا حصہ بن رہا ہے تو بحیثیت قوم یہ وقت ہے شکر گزاری کا، یہ وقت ہے یقینِ محکم کااور یہ وقت ہے عزمِ نو کاکہ ہم نامساعد حالات اور وسائل کی کمی کو خاطر میں لائے بغیراپنا سفر جاری رکھیں گے۔ بیشک جذبے کی سچائی اور منزل کی لگن ہمارا زادِراہ ہوتو ہم ایک عظیم قوم بن کر ابھریں گے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *