3 26 808x454

صبح کی ہڑتال شام کو ختم ، کیا قیمتیں پھر بڑھ گئیں؟

49 views

حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان معاملات طے پا  گئے  ہیں  جس  کے  بعد  پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔

حرا  خالد

عوام  کی  مشکل  خدا  خدا  کرکے  ختم  ہوئی ، حکومت  اور  پٹرولیم  ڈیلریز  ایسوسی  ایشن  کے  مابین  مذاکرات  کی  کامیابی  کے  بعد  پٹرول  پمپ  کھلنا  شروع  ہو  گئے  ہیں  جس  کے  بعد معطل  کاروبارِ  زندگی  بھی  بحال  ہونا  شروع  ہو  گیا  ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور پٹرولیم ڈویژن کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں۔ حکومت کیساتھ معاملات طے  پانے کے بعد پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات  کے  مطابق  حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ڈیلرز کے مارجن کو 99 پیسے فی لیٹر بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ڈیلرز کے مارجن کے حوالے سے ہر چھ ماہ بعد مہنگائی کے تناسب سے ردوبدل کیا جائے گا۔وفاقی کابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی جلد ان معاملات کی منظوری دے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کردی ہے۔

ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے فوری بعد ملک بھر کے پٹرول پمپس کھلنا شروع ہو گئے  ہیں۔

پٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا کہ فریقین نے اتفاق کیا   ہے  کہ مارجن میں زیادہ اضافے سے عوام پر بوجھ پڑے گا  اسلیے ڈیلرز مارجن میں 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔  حکومت ایسوسی ایشن کے مطالبے پر ہر ممکن عملدرآمد کرے گی جبکہ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ جون 2022 میں مارجن کی شرح میں ردوبدل کیا جائے۔

چیئرمین پیٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن سمیع خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے جو مذاکرات ہوئے اس کے بعد ہڑتال  ختم  کرنے  کا کا اعلان کرتے ہیں۔  عوام کو جو تکلیف ہوئی ہمیں  اس کا احساس ہے۔  ساتھ دینے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اس  اضافے  کا  صارفین  پر  کیا  اثر  ہو  گا  اس  حوالے  سے  ماہرینِ  معاشیات  کا  کہنا  ہے  کہ  اگر حکومت ڈیلرز کے مطالبے پر ان کے مارجن میں اضافہ کرتی ہے تو لازمی طور پر یہ صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ اگر حکومت چھ فیصد کے مطالبے کو مان لیتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک لیٹر پر ڈیلر مارجن آٹھ روپے سے اوپر ہو گا جس کا اضافی بوجھ صارفین پر پڑے گا۔اس وقت خام تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں تھوڑی نیچے آئی ہیں اور حکومت کی جانب سے اگر پیٹرولیم لیوی نہیں بڑھائی جاتی تو پھر ڈیلرز کو کسی حد تک مارجن میں اضافے کی صورت میں سہولت دی جا سکتی ہے۔

دوسری  جانب  اس  تمام  صورتحال  میں  اپوزیشن  جماعتوں  نے  حکومت  کو  کڑی  تنقید  کا  نشانہ  بنایا  ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام کو آٹا چینی اور اب پٹرول کے لیے قطاروں میں کھڑا کرنا ظلم کی انتہا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو آٹا چینی اور اب پٹرول کے لیے قطاروں میں کھڑا کر دینا صرف بے حسی اور نااہلی نہیں، ظلم کی انتہا ہے۔ خلقِ خدا رُل رہی ہے، تڑپ رہی ہے مگر مجال ہے ظالم حکومت کو کوئی فرق پڑے؟

لاہور، اسلام آباد، گوجرانوالا کی یہ تصاویر صرف پیٹرول کے لیے قطاروں کی نہیں بلکہ عوام کے کرب، تکلیف اور بے بسی کی داستان ہے۔ دعا ہے انہی قطاروں میں عمران خان، اسکو مسلط کرنے والے اور وزرا بھی کھڑے ہوں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ عوام پر کیا قیامت ٹوٹی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کے بعد حکومتی نااہلی سے ملک میں افراتفری پھیل چکی ہے، امورِ زندگی کو ٹھپ کرکے وزیراعظم عمران خان نے ہر پاکستانی کی زندگی کو اجیرن کردیا ہے۔

بلاول  بھٹو  کا  مزید  کہنا  تھا  کہ  حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز کے مطالبات کے معاملے میں نااہلی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں آج پورا ملک پریشان ہے، ملک بھر میں بیشتر پیٹرول پمپس بند ہیں، اکثر پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں، کاروباری امور متاثر ہیں، یہ حکومت کی ناکامی ہے۔پی ٹی آئی حکومت حل ہونے والے مسائل کو بھی اپنی نااہلی سے بحران بنادیتی ہے، عوام پہلے ہی ملکی تاریخ کا مہنگا ترین پٹرول خرید رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اگلا اضافہ تباہ کن ہوگا۔

بلاول کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ مہنگی بجلی اور قلت کے ساتھ مہنگا پیٹرول اور گیس پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کے تحفے ہیں، پہلے دن سے ہم نے پی ٹی آئی بجٹ کو ناکام کہا، آج بجٹ کے ثمرات سے ثابت ہوگیا کہ عمران خان ایک نااہل حکمران ہیں۔

بتاتے  چلیں  کہ  پٹرولیم ڈیلر  ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان اس وجہ سے کر رکھا  تھا  کہ انکا  یہ  مطالبہ  مانا  جائے  کہ  فی لیٹر کمیشن اب 3 روپے سے بڑھا کر 6 روپے کیا جائے  ،پٹرولیم ڈیلرز کا کہنا تھا کہ جب  تک  حکومت ان کا یہ مطالبہ نہیں مانتی تو ہڑتال کی کال وا پس نہیں لی جائے گی ۔

پٹرولیم  ڈیلرز  ایسوسی  ایشن  کی  اس  ہڑتال  میں  اصل  زحمت  تو  عوام  کو  اٹھانا  پری۔  بیشتر  پیٹرول  پمپس  بند  رہے  اور  جو  کھلے  بھی  تھے  وہاں عوام  گھنٹوں  پیٹرول  لینے  کے  لیے  قطاروں  میں  کھڑے  رہے۔  سوشل  میڈیا  پر  بھی  پیٹرول  کی  دہائی  ہی  سنائی  دیتی  رہی  اور  پاکستان  میں  پیٹرول  ٹویٹر  پر  بھی  ٹاپ  ٹرینڈ  بنا  رہا۔

حکومت  اور  پٹرولیم  ڈیلرز  ایسوسی  ایشن  کے  اس  تمام  معاملے  میں  عوام  کو  جو  زحمت  اٹھانا  پری  اسکا  جواب  دینے  کو  کوئی  تیار  نہیں  ہے۔۔۔کتنے  ہی  دیہاڑی  دار  مزدور  پبلک  ٹرانسپورت  نہ  ہونے  کے  باعث  کام  پر  نہ  جا  سکے۔  بیچ  سڑک  گاڑیوں  کو  دھکے  لگاتے  عوام یہی پوچھ  رہے  ہیں  کہ  انکے  بارے  میں  بھی  کوئی  سوچنے  والا  ہے؟؟؟  کوئی  ہے  جسے  عوام  کی  فکر  ہو؟

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *