8 14 808x454

کرپٹو کرنسی میں پاکستانیوں کی بڑھتی دلچسپی ۔۔۔ کتنی حقیقت کیا فسانہ؟

83 views

پاکستان میں ایک بار پھر کرپٹو کرنسی بہت زیادہ چرچے میں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی کچھ روز پہلے ہی ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے پاکستانیوں سے 100 ملین ڈالرز یعنی تقریباً 18 ارب روپے کے کرپٹو کرنسی میں آن لائن فراڈ کا انکشاف کیا اور اس کے بعد عالمی ایکسچینج بائینانس کو نوٹس جاری کئے ہیں۔

خیال رہے کہ بائینانس دنیا کا سب سے بڑا غیر منظم ورچوئل کرنسی ایکسچینج ہے جہاں پاکستانیوں نے لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی اور اس فراڈ کے سلسلے میں ایف آئی اے نے پاکستان میں بائینانس کے نمائندے کو تفتیش کیلئے طلب بھی کرلیا ہے ۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی یہ سرمایہ کاری دہشت گردی کی فنانسنگ کے لیے استعمال ہورہی ہے منی لانڈرنگ بھی ہورہی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں 11موبائل ایپس پر ہزاروں پاکستانی آن لائن رجسٹرڈ تھے، جنہوں نے دسمبر میں اچانک کام کرنا بند کردیا ایف آئی اے کو بائینانس کی 26 مشتبہ اور گمنام مالکان کی بلاک چین ملی جن پر پاکستانیوں کی رقوم ٹرانسفر ہوئی تھیں اور جن کے ذریعے پاکستانیوں نے بٹ کوائن، ایتھرم اور ڈوج کوائن میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔ ہر ایپلی کیشن پر 5سے 30ہزار صارفین تھے جنہوں نے 100سے 80 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریزکی تحقیق کے مطابق پاکستانیوں کے پاس اس وقت 20ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق کرپٹو کرنسی کی لیگل پروٹیکشن نہیں۔ واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس قوانین کے مطابق کمرشل بینک رقوم بھیجنے اور وصول کرنے کی تفصیلات اور رقم بھیجنے کے مقاصد پوچھنے کا مجاز ہے جبکہ مرکزی بینک تمام بڑی رقوم کی ٹرانزیکشن کی مانیٹرنگ کا پابند ہے اور شکوک و شبہات کی بنیاد پر مالی ٹرانزیکشن روک لی جاتی ہے۔

اِنہی وجوہات کے پیش نظر 3جنوری 2009ء کو دنیا کی پہلی ڈیجیٹل الیکٹرونک کرنسی ’’بٹ کوائن‘‘ متعارف کرائی گئی جس میں بینکوں کی مداخلت نہیں ہوتی۔ کرپٹو کرنسی کے بارے میں کم اور نرم قانون سازی کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر نے اس کرنسی کو اپنے مقاصد کیلئے اپنایا اور کیمبرج یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق اب کرپٹو کرنسی کے 30لاکھ مرچنٹ اور مارکیٹ ویلیو 700ارب ڈالر ہوچکی ہے۔

دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر اسٹیٹ بینک کی کمیٹی نے پاکستان میں ورچوئل کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کو سٹہ بازی اور غیر قانونی قرار دیا ہے اور اسے غیر قانونی فنڈز کی منتقلی کا رسک قرار دیتے ہوئے پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔

ہم جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ڈیجیٹل کرنسی کے وجود سے آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے۔ اسٹیٹ بینک کو چاہئے کہ وہ جلد کرپٹو کرنسی کے حوالے سے موثر قوانین مرتب کرے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائے، نہیں تو پرکشش منافع کے لالچ میں پاکستانی سرمایہ کاروں کے اربوں روپے اِسی طرح ڈوبتے رہیں گے جس کی ملکی معیشت متحمل نہیں ہوسکتی۔

Source: Media Reports

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *