12 7 808x454

برہنہ ویڈیو کیس : کیا متاثرہ لڑکی اور لڑکا ڈیل کرکے فرار ہو گئے ہیں ؟

80 views

اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کے کیس میں نئی  پیش  رفت  ہوئی  ہے  اور  عدالت  نے متاثرہ لڑکی  اور  لڑکے  کے  ناقابل  ضمانت  وارنٹ  گرفتاری  جاری  کر  دیے  ہیں  کیونکہ عدالت  میں  سماعت  کے  موقع  پر  متاثرہ  جوڑا  حاضر  نہیں  ہوا  تھا۔

حرا  خالد

 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج عطاء ربانی نے تھانہ گولڑہ کے علاقہ ای الیون میں نازیبا ویڈیو بنانے، تشدداور بلیک میلنگ کیس میں عدم پیشی پر متاثرہ لڑکے اور لڑکی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشن کو ہدایت کی کہ دونوں کو پیش کیاجائے۔

 منگل کو سماعت کے دوران عثمان مرزا،فرحان، محب خان، ریحان، عمر بلال و دیگر ملزمان کو پیش کیاگیا جبکہ پراسیکیوٹر رانا حسن عباس اور متاثرہ لڑکا،لڑکی کے وکیل ارباب عباسی پیش ہوئے۔ ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے کیس کی سماعت کی اور متاثرہ جوڑے کے وکیل ارباب عالم عباسی سے سخت مکالمہ ہوا اور متاثرہ جوڑے  کی طلبی کے باوجود عدم پیشی پر وارنٹ گرفتاری جاری کردیا۔

پراسیکیوشن کے وکیل رانا حسن عباس کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت کے دوران یہ طے ہوا تھا کہ چونکہ متاثرہ لڑکے نے بھی بیان حلفی عدالت میں جع کروایا ہے اور اس میں بھی انھوں نے ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کیا ہے اس لیے اگلی سماعت پر ان پر جرح کی جائے گی لیکن آج یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ شہر سے باہر ہیں۔

جج نے ریمارکس دیے کہ وہ بھی یہی توقع کر رہے تھے کہ لڑکا لڑکی دونوں عدالت میں پیش ہوں گے اور اس مقدمے کی کارروائی معمول کے مطابق ہوگی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

سرکاری وکیل احسن عباس نے میڈیا کو بتایا کہ جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو متاثرہ جوڑے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکلین تھوڑی دیر میں عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔متاثرہ جوڑے کے وکیل کی درخواست پر تین مرتبہ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت ملتوی کی۔

انھوں نے کہا کہ جب متاثرہ جوڑا عدالت میں پیش نہ ہوا تو عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

متاثرہ لڑکے اور لڑکی کے وکیل نے دوباہ استدعا کی کہ دونوں شہر سے باہر ہیں، عدالت پہنچنے میں تین گھنٹے لگ جائیں گے، اگلی تاریخ پر لے آؤں گا۔

واضح رہے کہ اس مقدمے میں متاثرہ لڑکے اور لڑکی نے گزشتہ سماعت کے دوران ہی اپنا وکیل تبدیل کیا ہے جبکہ اس سے پہلے حسن جاوید سورش نامی وکیل اس مقدمے میں ان کی پیروی کر رہے تھے۔

متاثرین کے وکیل کی یقین دہانی کے بعد جج عطاءربانی نے لڑکا لڑکی تشدد کیس کی سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔

اس مقدمے کی سماعت دیکھنے کے لیے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئر پرسن رابعہ جویری آغا عدالت میں موجود تھیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں جوڑے کو ہراساں کرنے کے کیس میں متاثرہ لڑکی اپنی بیان سے منحرف ہوگئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ وہ کیس کی پیروی کرنا نہیں چاہتی ہیں۔

متاثرہ لڑکی نے عدالت میں بتایا کہ پولیس والے مختلف اوقات میں سادہ کاغذوں پر میرے دستخط اور انگوٹھے لگواتے رہے، میں کسی بھی ملزم کو نہیں جانتی اور نہ کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہوں۔

واضح  رہے  کہ  جولائی 2021 کے اوائل میں اسلام آباد پولیس نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون اور ایک مرد کو تشدد کا نشانہ بنانے اور برہنہ کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

پولیس کی جانب سے 6 جولائی کو درج ہونے والی ایف آئی آر میں بتایا گیا تھا کہ واقعہ گولڑہ پولیس تھانے کی حدود میں سیکٹر ای-11/2 کی ایک عمارت میں پیش آیا جس کا مقدمہ سب انسپکٹر کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔

مذکورہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 354-اے (خاتون کی عصمت دری کی نیت سے حملہ یا مجرمانہ جبر کرنا)، دفعہ 506 (تخویف مجرمانہ سزا)، دفعہ 341 (مزاحمت بیجا کی سزا) اور دفعہ 509 (جنسی ہراسانی) کے تحت درج کیا گیا  تھا۔

اس مقدمے میں عثمان مرزا، محب بنگش، ادریس قیوم بٹ، فرحان شاہین اور عطاالرحمن پر ستمبر 2021 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور یہ تمام ملزمان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *