4 21 808x454

جو قبول نہیں تھے وہ اب مقبول ہیں۔۔۔خواجہ سرا سارہ گل کی داستان

165 views

خواب انھی کے پورے ہوتے ہیں جن کے حوصلے بھی بلند ہوتے ہیں  یہ مثال تو آپ نے سنی ہوگی لیکن اس مثال کو سچ کا روپ دیا ایک خواجہ سرا سارہ گل نے۔

صبحین عماد

مشکل وقت ،حالات ،معاشرہ اپنوں سے دوری ،ٹوٹے رشتے ،بکھرا دل اورزمانے کی ٹھوکر کھا کر جب انسان سنبھلتا ہے تو پھر کامیابی خود اس کے قدم چومتی ہے پھر کوئی خوف کوئی چیز اسے ڈرا نہیں پاتی نہ اس کے بڑھتےقدموں میں کوئی زنجیر اٹکتی ہے، نہ ہھر زمانے کے وہ طعنے یاد رہتے ہیں نہ ہی وہ درد دینے والی آوازیں باتیں دل دکھاتی ہیں۔

 ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا سے جڑی کہانیاں اور ان کے ساتھ کیا جانے والا سلوک سالوں سے زیر بحث ہے لیکن آج بھی بد قسمتی سے معاشرتی تبدیلیاں نہین آسکیں اور نہ ہی ہمارا سماجی رویہ بدلا اور آج بھی معاشرتی تبدیلیاں نہیں آسکیں۔

لیکن یہ خوش آئند ہے کہ خواجہ سراؤں نے خود اپنے حقوق کے لئے جب آواز اٹھائی اور تعلیم کے ساتھ اپنا تعلق جوڑا تو ان کے لئے کئی راستے کھل گئے کہتے ہیں نہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو گھٹ جاتا ہے تو شاید اب وہ قت آگیا ہے کہ معاشرے کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی کیونکہ اب وقت خود کو بدل رہا ہے۔

خواجہ سراؤں کی پاکستان میں مختلف شعبہ جات زندگی میں دلچسپی اور محنت رنگ لا رہی ہے۔ہزاروں کی تعداد میں گم نامی کی زندگی خاموشی اور دکھ کی گہری چادر اوڑھے چہرے کے غم کو میک آپ کی تہہ سے چھپا کر ہمیشہ مسکرانے والے خوجہ سرا بھی اپنے حق کی منزل کو پانے نکل پڑے ہیں۔

 انہی خواجہ سراؤں میں ایک سارہ گل بھی شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا ہے جی ہاں صحیح پڑھا آپ نے اب ایک خواجہ سرا صرف ایک نام سے نہیں جانے جائیں گے سارہ نے کامیاب ہوکر خواجہ سراؤں سمیت سب کا ہی سر فخرسے  بلند کردیا ہے۔

سارہ جسے میڈیکل کالج میں ایک مرد طالب علم کے طور پر داخلہ لینا تھا، انہوں نے اپنی کہانی بتاتے ہوئے بتایا کہ  کلاس فیلوز ان کی شناخت سے واقف تھے حالانکہ یہ باقاعدہ طور پر واضح نہیں کیا گیا تھا۔

پاکستان کی پہلی ڈاکٹر خواجہ سرا ہیں سارہ گل جنہوں نے بہت مشکل حالات دیکھے لیکن ان کے ساتھ بس یہ ایک اچھی بات تھی کہ ان کے گھر والوں نے ان کی تعلیم پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔وہ فورسز کے اداروں سے پڑھیں اور ان کی انگریزی اور اردو دونوں ہی بہت اچھی رہی۔۔

ایسا بہت بار وقت آیا جب سارہ کو اکیلا رہنا پڑا اور اپنے لئے جنگ لڑنی پڑی۔۔ان کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کو اگر بیس ہزار کرائے پر گھر ملتا ہے تو خواجہ سرا کو تیس ہزار پر ملتا ہے۔

پاکستان میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی خواجہ سرا سارہ گل نے کراچی کے جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے ایم بی بی ایس کا فائنل پروفیشنل امتحان پاس کیا ہے۔

سارہ کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر صرف اسی لیے بننا چاہتی تھیں کہ اپنے جیسوں کے کام آسکیں کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا علاج، ہماری خواہشات، سب ایک سوال ہیں، ہمیں قبول تو دور ہمیں برداشت تک نہیں کیا جاتا سارہ گل نے کہا کہ وہ پاکستان کی پہلی ڈاکٹر بنیں گی جو خواجہ سراؤں کے علاج کے حوالے سے مہارت حاصل کریں گی کیونکہ پاکستان میں ایسے لوگ ہیں ہی نہیں۔

 سارہ نے تو یہ بات اپنی خواہش سمجھ کر کہہ دی لیکن کیا آپنے یا ہم نے کبھی غور کیا کہ ہم اپنے آپ کو اس معاشرے کا ایک اعلیٰ اور بہتر انسان سمجھنے اور بننے کی دوڑ میں لگیں رہتے ہیں لیکن کیا کبھی اس حوالے سے کسی نے سوال اٹھایا کہ جب سب کا حق ہے تو ان کا کیوں نہیں؟ ان کے مکمل پیدا نہ ہونے میں ان ہی کی تزلیل کیوں ؟ ان ہی کا قصور کیوں؟

یہ پڑھیں: اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشہ نہ بنا۔۔۔۔۔راوا اسپیشل

اس سے پہلے بھی ایک خواجہ سرا نشا راؤ تعلیم کی اس جدوجہد میں خود کو منوانے میں کامیاب ہوچکی ہیں وہ بھی پاکستان کی پہلی خواجہ سرا وکیل ہیں جنہوں نے ہزاروں مشکلوں کو بوجود ہمت نہیں اور اپنے ادھورے پن کو خود پر ہاوی نہیں ہونے دیا اور یہی وجہ بنی ان کی کامیابی کی۔

سارہ گل اور نیشا راوٗ نے تو اپنی محنت اور لگن سے اپنی اندھیر زندگی کو تعلیم کی کے دیے سے روشن کرلیا ہے اور معاشرے کے لیے خود کو روشن مثال بنالیا

اب معاشرے کو بھی دل بڑا کرکے خوجہ سراؤں کو بھی قبول کرنے کی ضرورت ہے،ضرورت ہے اس سوچ کی کہ خواجہ سرا کو بھی انسان سمجھا جائے اور انھیں بھی مکمل آزاد کے ساتھ اپنے ادھورے خواب مکمل کرنے کی کھلی آزادی دی جائے تاکہ ایسی ہزاروں سارہ اور نشا اس ملک کا نام فخر سے بلند کرسکیں اور کہہ سکیں کہ وہ بھی ایک آزاد ملک میں آزاد ہیں۔

راوا نیوز کی جانب سے سارہ اور نشا راؤ کے لیے نیک تمنائیں اور امید ہے کہ ایسی ہزار سارہ اور نشا جیسی مثالیں ہمارے سامنے آئیں گی۔

content: sabheen ammad

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *