2 22 808x454

نور مقدم کیس: ظاہرجعفر کی اسٹریچر پرعدالت پر حاضری، ویڈیو وائرل

141 views

آج ایک بار پھر نور مقدم کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزم ظاہر جعفر اسٹریچر پر لائے گئے جس نے کئی سوالوں کو بھی جنم دے دیا

صبحین عماد

نور مقدم قتل کیس کے تفتیشی افسر عبدالستار کاکہنا ہے کہ مقتولہ نور مقدم کے نمبر سے مختلف نمبروں سے کال موصول ہوئیں اور کی گئیں، جبکہ ایک مخصوص نمبر سے مقتولہ نور مقدم کا 19 اور 20 جولائی کو مسلسل رابطہ رہا،اس نمبر کے حامل بندے کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا۔

عدالت میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت پر وکیل صفائی نے تفتیشی افسر عبدالستار کے بیان پر جرح کی، تفتیشی افسر بت عدالت کو بتایا کہ27 جولائی کو 7 افراد کی سی ڈی آرموصول ہوئی تھی،27 جولائی سے قبل ظاہر جعفر، ذاکر جعفر، جمیل اور عصمت آدم جی بھی گرفتار تھے۔

تفتیشی افسر کے مطابق موبائل کمپنی کے کسی ملازم کو تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا،مقتولہ نورمقدم کے واٹس ایپ کا ڈیٹا پولیس نے نہیں لیا،مدعی نےپولیس کویہ بیان نہیں دیا کہ انہیں مقتولہ کی کال واٹس ایپ پر آئی۔

عبدالستار نے بتایا کہ نورمقدم کا صبح 10 بج کر 46 منٹ تک کا ڈیٹا موجود ہے،10بج کر46 منٹ کے بعد مقتولہ کا موبائل فون بند ہوا لیکن یہ بات درج نہیں کی گئی،میں نے نہیں لکھا کہ مقتولہ نورمقدم کا فون ان لاک نہیں ہورہا جس کے باعث ٹرانسکرپٹ لکھنا ممکن نہیں۔

تفتیشی افسر نے کہاکہ سی ڈی آرکے مطابق مقتولہ کا وقوعہ کے وقت اپنی والدہ کے ساتھ رابطے میں تھی،میں نے مقتولہ کی والدہ کو شامل تفتیش نہیں کیا،سی ڈی آرکے ڈیٹا پر کسی کا نام درج نہیں نہ سی ڈی آردینے والے کا نام اور دستخط ہیں۔

تفتیشی افسر نے مزید بتایاکہ میں نے خود بھی سی ڈی آر کے ڈیٹا پر دستخط نہیں کیے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ظاہر جعفر کو پولیس اہلکار کرسی پر عدالت لائے تھےجس پر بھی سوشل میڈیا پر خوب ہنگامہ مچا تھا جبکہ اب بھی ظاہر جعفر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے اور صارفین کا کہنا ہے کہ کچھ بھی کرلیں لیکن نور کو قتل معاف نہیں کیا جائے گا

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *