7 23 808x454

اسٹیٹ بینک: شرح سود 9٫75 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ

20 views

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 9.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعے کے روز مالیاتی ماہرین نے قیاس کیا تھا کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی یا اس میں اضافہ ہوگا، ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی افراط زر کے باعث شرح سود میں کمی کا امکان بہت کم ہے۔اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2021-22 کے پہلے چھ مہینوں کے لیے ایک سخت مانیٹری پالیسی پر عمل کیا ہے، جولائی سے دسمبر تک شرح سود کو 275 پوائنٹس یا 2.75 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔

واضح رہے  اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 14 دسمبر کو  ایشیائی ترقیاتی بینک کی افراط زر کی پیشن گوئی کے بعد شرح سود میں 100 بی پی ایس یا 1 فیصد اضافہ کر کے 9.75 فیصد کر دی تھی۔

شرح سود میں اضافہ عوام کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

شرح سود میں اضافے سے کاروبار اور صارفین دونوں متاثر ہوں گے۔ کیونکہ اس سے تجارتی قرضے مہنگے ہوجائیں گے جس سے کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔جب شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو کاروباری افراد  کم قرض لیتے ہیں، ناکافی فنڈز کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں جس سے بالاخر روزگار کے مواقع بھی کم میسر ہوتے ہیں۔جو صارفین بینک سے قسطوں پر گاڑیاں خریدتے ہیں اُنہیں شرح سود میں اضافہ ہوجانے کے باعث قرضے مہنگے ملیں گے جس سے اُن کی قوت خرید متاثر ہوگی اور ملک میں گاڑیوں کی فروخت میں کمی آسکتی ہے۔

مرکزی بینک کا کردار شرح سود کو اس سطح پر برقرار رکھنا ہے جو مہنگائی کو قابو میں رکھے اور معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر نہ کرے۔زیادہ شرح سود قرضوں کو مہنگا بناتی ہے۔ کاروبار، جو بینک فنانسنگ پر انحصار کرتے ہیں، نئے منصوبے روک دیتے ہیں، حکومت ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں کمی کرتی ہے، اور صارفین آٹو فنانس، ہوم لون استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہاں تک کہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال بھی کم کر دیتے ہیں۔ مختصراً، زیادہ شرح سود معاشی سرگرمیوں کو کم کرتی ہے۔

دوسری طرف شرح سود میں کمی سے صارفین اور کاروباری افراد مزید قرض لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قومی سطح پر کھپت اور مانگ میں اضافہ ہوتا ہے، اس سے اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *