18 808x454

حکومت سے نکلا تو زیادہ خطرناک ہوں گا : وزیر اعظم عمران خان

82 views

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت سے نکل گیا تو میں اس سے زیادہ خطرناک ہوں گا۔

فہمیدہ یوسفی

وزیراعظم عمران خان نے اتوار کے روز ’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ ‘کے سلسلے  کے پانچویں پروگرام میں ایک بار پھر عوام سے براہ راست ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کیا اور اپنی حکومت کی پالیسیوں کا بھرپور دفاع کیا۔

’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ ‘ میں عوام کے سوالات کے جواب کے دوران عمران خان نے کہا کہ ہماری پارٹی کی حکومت یہ مدت اور آئندہ مدت بھی پوری کرے گی۔

وزیراعظم نے کم از کم  ڈیڑھ گھنٹے اس لائیو ٹرانسمیشن میں عوام سے بات کی اور ان کا سارا نکتہ نظر اس بات پر رہا کہ کورونا کے باوجود ملک کی جی ڈی پی  بڑھ رہی ہے ۔ جبکہ انہوں نے مہنگائی کا  ذمہ دار ایک بار پھر پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو ہی ٹہرایا۔

وزیراعظم جب بھی ’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ ‘ کا پروگرام کرتے ہیں تو کوئی نہ کوئی بات ایسی ضرور کرتے ہیں جو تمام میڈیا کی نظروں کا محور بن جاتی ہے ۔

ایک بارپھر اپوزیشن کو  دو ٹوک پیغام دیا کہ حکومت سے نکل گیا تو میں اس سے زیادہ خطرناک ہوں گا، میرے سڑکوں پر نکلنے سے آپ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو لگتا ہے کہ میں بھی مشرف کی طرح انہیں این آر او دے دوں گا، ایسا کرنا ملک سے غداری ہوگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں ہوگی، ہم کوئی ایشین ٹائیگر نہیں بننے جارہے ہیں اور نہ ہی لاہور کو پیرس بنانے جارہے ہیں۔

تاہم انہوں نے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ اگر مہنگائی ہوری دنیا میں ہے تو اس سے نبٹنے کے لیے ان کی پالیسی کیا ہے  نہ ہی انہوں نے اس پر بات کرنا مناسب سمجھا کہ روزمرہ کی چیزوں  اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ  اور توانائی کے بحران کے لیے ان کا کیا پروگرام ہے

ہاں وزیر اعظم عمران خان نے  یہ ضرور بتایا کہ کوشش تھی کہ ہر ماہ لوگوں کے سامنے آکر جواب دوں، صبح اٹھ کر 1 گھنٹے میں مجھے ساری معلومات مل جاتی ہے کہ کس طبقے پر کیا گزر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنے مقصد پر نہیں چلیں گے ہم کامیاب نہیں ہوں گے، ہم نے کووڈ پر 8 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے۔

ہر حکمران کی طرح میڈیا سے ناراض وزیراعظم نے میڈیا کو اپنی تنقید کا نشانہ بھی بنایا  اور کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا بتاتا ہے کہ مہنگائی ہے، کیا صرف پاکستان میں مہنگائی ہے؟ میڈیا اعتدال کرے، کورونا کی وجہ سے دنیا میں سپلائی کی کمی کی وجہ سے مہنگائی کی لہر آئی۔

جبکہ وزیراعظم عمران خان یہ بھول گئے کہ یہ وہی میڈیا ہے جب وہ اپوزیشن میں تھے تو دن رات تعریف کیا کرتے تھے ۔ ایک بار پھر وہی بیانیہ وزیراعظم نے اختیار کیا کہ مہنگائی تو پوری  دنیا کا ایشو ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ امریکا میں کھانے کی چیزیں لینے کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں، وہاں 40 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے کینیڈا کے 40 فیصد لوگ کھانے پینے کی فکر میں مبتلا ہیں، یورپ میں 30 سال کی سب سے زیادہ مہنگائی ریکارڈ کی گئی۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ساری دنیا میں غربت بڑھی ہے، تیل کی قیمت دگنی ہوگئی ہے، میں دیکھ رہا تھا شاید اور اوپر جائے، ملک میں سب سے زیادہ مہنگائی کا اثر تنخواہ دار طبقے پر پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا گروتھ ریٹ بڑھا ہے، صنعت سب سے زیادہ پر فارم کر رہی ہے، ہماری انڈسٹری سب سے زیادہ پرفارم کر رہی ہے، مزدوروں کے حالات بہتر ہوئے ہیں۔

وزیراعظم کا دعوی ہے کہ گروتھ ریٹ بڑھا ہے لیکن کیا عام آدمی کی تنخواہ پر اس کا اثر نظر آرہا ہے کیا ایک عام آدمی اپنے گھر کا کچن چلانے کے قابل ہے  اگر بڑھتے اخراجات ہیں اور آمدنی نہیں بڑھ رہی تو پھر حکومت کے دعوے تو بس بیان بازی ہی کی حد تک گردانے جائینگے

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک میں تنخواہ دار طبقہ مشکل میں ہے، کارپوریٹ سیکٹر میں ریکارڈ منافع آیا ہے، بڑے صنعتکاروں کو بلا کر کہوں گا کہ تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں بڑھائیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے کسانوں کی انکم میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ کارپوریٹ سیکٹر میں 980 ارب کا منافع ہوا۔

تاہم کسانوں کی انکم میں اگر اتنا اضافہ ہوا ہے تو کیا ایک عام کسان کو کس حد تک سبسڈی ملی ہے اور جو اس سال پیداواری  گراوٹ  اور کھاد کے بحران کا سامنا ہے اس پر انہوں نے کچھ نہیں کہا۔جبکہ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ جو لوگ مشنیری خریدنے کی استظاعت رکھتے ہیں  ان کی تعداد شاید دوفیصد ہے جبکہ ملک کی اس وقت اٹھانوے فیصد عوام  کا تو دو وقت روٹی  پورا کرنا مشکل ہے

عمران خان نے کہا کہ جب سے حکومت میں آئے، چار بحران کا سامنا رہا ہے، ہمیں تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا، ہمیں ایکسپورٹ اور امپورٹ میں بہت بڑا خسارا بھی ملا۔

وہی روایتی بیان بازی جب سے  تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے کہ سب غلطی پچھلی حکومت کی ہے تاہم خان صاحب کو سوچنا ہوگا کہناب چار سال کے بعد یہ بیانیہ عوام کو سمجھ نہیں آرہا

انہوں نے کہا کہ ہم پر بوجھ پڑا تو روپیہ نیچے گرا، روپیہ نیچے گرا تو مہنگائی آئی، ہمارے پاس ڈالر ہی نہیں تھے کہ ہم مارکیٹ میں پھینک کر ڈالر کی قیمت کنٹرول کرتے۔

خان صاحب کا پہلے دن سے دوٹوک موقف ہے کہ وہ اپوزیشن سے بات نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی کرینگے  لیکن  اس سب کا عوام کو کیا فائدہ  عوام کا مسلہ اس وقت اپنا گھر چلانا ہے ۔

باقی یہ کہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں ہمارے حکمران تو ان کو لگتا ہے کہ شاید ان سے زیادہ طاقتور کوئی ہے نہیں اور ساری اسٹریٹ پاور انہی کی ہے ۔ بھٹو سے لیکر  نواز شریف تک اور پھر عمران خان  تک  پاکستان کے ہر طاقتور وزیراعظم نے اپنی غلطیوں پر غور نہیں کیا  جس کا انجام بہت خطرناک ہوتا ہے ۔

بہرحال اس وقت تو وزیراعظم کا یہ جملہ  ہر طرف گونج رہا ہے کہ حکومت سے نکل گیا تو میں اس سے زیادہ خطرناک ہوں گا اور اب یہ تو وقت بتائیگا کہ کیا ہوتا ہے

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *