9 16 808x454

شکریہ کپتان : نئے پاکستان میں کرپشن مزید بڑھ گئی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

55 views

 پاکستان میں کرپشن  کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ 

فہمیدہ یوسفی

 کرپشن کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان  رینکنگ میں 16 درجے اوپر چلا گیا اور کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان دنیا میں 140ویں نمبر پرآگیا ہے۔

 تبدیلی سرکار تو کرپشن   ختم کرنے کا دعویٰ کر کے اقتدار میں آئی تھی  چور ڈاکو لٹیروں کا احتساب کرنے کا وعدہ کرکے آئی تھی  جبکہ کپتان عمران خان کا آج بھی عزم یہی ہے کہ وہ کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ پھر یہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کیوں یہ انکشاف کر رہی ہے کہ پاکستان کرپشن کے حوالے سے اوپر چلا گیا ہے

کرپشن کا عالمگیر جائزہ لینے والے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن سے متعلق سی پی آئی انڈیکس رپورٹ 2021جاری کردی ہے، جس کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

180 ممالک کی عالمی فہرست میں پاکستان کی تنزلی 16 درجے رپورٹ کی گئی ہے۔ پاکستان 28 پوائنٹس کے ساتھ کرپشن کے بارے میں عالمی رینکنگ میں 140 ویں نمبر پر آگیا۔ گزشتہ سال کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 124 تھا۔

 ساڑھے تین سال کرپشن کے خلاف اس قدر ہ شور شرابہ، نیب کی اتنی پکڑ دھکڑ، محکمہ اینٹی کرپشن کی اس قدر بھرپور کارروائیاں کیا صرف ایک دکھاوا ہیں؟

تازہ ترین مشیر  برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کا استعفی ہے  جن کے استعفی پر  مختصر ردعمل دیتے ہوئے  وزیر اعظم نے کہا  کہ شہزاد اکبر ڈیلیور نہیں کرسکے، وہ کسی اورکام کے تھے، ان کاکام کچھ اورتھا۔ جبکہ تفصیلات  کے مطابق ساڑھے 3 سال ميں ريکوری يونٹ نے قوم کے 9 کروڑ 30 لاکھ روپے پھونک ديے مگر ايک دھيلا قومی خزانے ميں جمع نہ کراسکا احتساب کے ذمے دار نے غير قانونی اثاثوں کا سراغ لگانے کيلئے 7 ملکوں سےلائن ملائی، 20 بين الاقوامی دورے کيے مگر نتيجہ وہی صفر

بطور مشیر احتساب شہزاد اکبر نے نیب کو صرف ایک شوگر ملز اسکینڈل کا کیس بھیجا۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ يہ شہزاد اکبر کا اختیار نہیں ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیخلاف ریفرنس میں بھی اُن کے مبینہ کردار پرحکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ براڈ شیٹ اور شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات میں ان کے لندن اکاؤنٹ منجمد کرانے کے بعد بد ترین سبکی ہوئی۔

کپتان کے لئے ایک بار پھر یہ رپورٹ ایک  اور دھچکا ہو گی، تاہم  انہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے  اُن کے پاس شہباز گل جیسے بہترین  ترجمان موجود ہیں جو سامنے کی حقیقتیں بھی جھٹلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ پہلی بار نہیں ہوگا کیونکہ اس سے پہلے پچھلے سال شہباز گل  نے  یہ شاندار بیان جاری کیا تھا  کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں اعداد و شمار تین سال پرانے ہیں، حالانکہ رپورٹ میں صاف لکھا تھا  کہ اسے 2020ء تک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں کرپشن گزشتہ برس کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ 2018 میں موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا اس وقت پاکستان کا کرپشن انڈیکس میں117واں نمبر تھا۔ 2019 میں پاکستان درجہ بندی میں 120ویں نمبر پر تھا۔ 2020 میں 124 ویں اور اب 2022 میں 140 ویں نمبر پر آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان کی 23 درجے تنزلی ہوئی ہے۔

پاکستان میں کرپشن  بڑھنا  کوئی  حیران کن بات نہیں ہے ظاہر ہے  ایسے کونسے اقدامات کئے گئے ہیں جن کی وجہ سے یہ لگے کہ  کرپشن کم ہوگئی ہے ۔ سرکاری افسرانسے سوال پوچھنے والا کوئی ہے نہیں ۔ ۔گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران حکومت نے ایسے کون سے قوانین بنائے ہیں،جن سے کرپشن کم ہو جاتی، کوئی ایک نیا قانون بھی تو نہیں بنایا گیا۔ وہی ٹھیکیداری نظام، وہی سرکاری کاموں کی بندر بانٹ، وہی بیورو کریسی کے صوابدیدی اختیارات، وہی ارکانِ اسمبلی کے لئے کروڑوں روپے کی گرانٹس اور اُن پر کسی موثر نگرانی کا فقدان،وہی سرکاری دفاتر میں بدعنوانی کا راج اور وہی رشوت کا بازار۔

رپورٹ کے مطابق فن لینڈ، نیوزی لینڈ اور ڈنمارک کرپشن کے خلاف 88 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے، جنوبی سوڈان نے فہرست میں آخری پوزیشن حاصل کی۔  امریکا 67 پوائنٹس کے ساتھ 27 ویں اور بھارت 40 پوائنٹس کے ساتھ 85  ویں نمبر پر رہا۔

 سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا کرپشن  کپتان کی صرف تقریروں کے باعث نیچےآ جاتی، کیا ہم  یہ مان لیں  کہ کرپشن کم ہو گئی ہے، کیونکہ کپتان ایماندار ہے۔ کیا ایک حکمران کے ایماندار ہونے سے سسٹم  کوٹھیک کئے  بغیر بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ  کپتان ایک بار پھر اس مایوس کن رپورٹ پر کیا اقدامات لیتے ہیں اور اپنے اقتدار کے آخری سال میں کوئی ایکشن  لینے میں کامیاب ہونگے یا پھر عوام کو گھبرانا نہیں ہے کا راگ ہی سناتے رہینگے.

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *