10 17 808x454

نور مقدم قتل کیس ظاہر جعفر قاتل نہیں تو پھر کون تھا؟؟

283 views

یہ 20 جولائی 2021   کی  بات ہے جب ایک وحشت ناک قتل نے پورے پاکستان کو لرزا کر رکھ دیا ۔

فہمیدہ یوسفی
ترتیب و تدوین : صبحین عماد

یہ قتل بھی کسی معمولی لڑکی  کا نہیں بلکہ سابق سفیر کی ستائیس سالہ بیٹی نور مقدم کا تھا  جس کو نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس کا سر بھی جسم سے علیحدہ کردیا گیا یہ انسانیت سوز  قتل کرنے والا بھی کوئی معمولی انسان  نہیں بلکہ  پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت  کا  بیٹا  ظاہر ذاکر جعفر تھا۔

جیسے جیسے اس خوفناک  جرم کی تفصیلات سامنے آتی جارہی تھیں ویسے ویسے ہی پاکستان میں ظاہر جعفر کے خلاف غم وغصہ بڑھتا جارہا تھا ۔ سوشل میڈیا پر #JusticeforNoor بھی ٹرینڈ کرنے لگا تھا

 ملزم کی گرفتاری اور قتل کا اعتراف کرنے کے بعد  یہ سمجھا جارہا تھا کہ شاید یہ ایک open and shut case ہوگا  لیکن ہمارے ملک میں انصاف  پولیس تفتیش شواہد  استغاثہ  کی بھول بھلیوں میں ہی بھٹکتا رہتا ہے

اس کیس کی حساسیت اور سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان  نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ  نورمقدم کےقتل کا واقعہ دو دن میں ہوا اور اس میں ملوث تمام کرداروں کو سزا ہوگی۔ انہوں نے کہا کوئی یہ نا سمجھے کہ نور مقدم کا قاتل بااثر ہونے کی وجہ سے بچ جائے گا۔

 جائے وقوعہ سے پولیس نے ایک چاقو، 9ایم ایم پستول اور میگزین، آہنی مکا، سگریٹ کے بٹ، ایک لیپ ٹاپ، ظاہر کی خون آلود شرٹ، انگلیوں کےنشانات، سی سی ٹی وی فوٹیج، میڈیکل رپورٹس، موبائل فون اوت فرانزیک رپورٹس چالان کے ساتھ جمع کروائی تھی

نور مقدم کیس: ملزم ظاہر جعفر دماغی اور جسمانی طور پر فٹ قرار

جبکہ نور مقدم قتل کیس میں ایک نیا موڑ تب آیا جب مقتولہ کی ظاہرذاکرجعفرکے گھرداخل ہونے اور جان بچانے کے لیے چھلانگ لگانے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی

ظاہر جعفر کو عدالت میں نازیبا الفاط کا استعمال کرنے پر عدالت سے نکال دیا

اس سی  سی ٹی فوٹیج کے مطابق 18 جولائی رات 10 بج کر 19 منٹ پرنور مقدم ظاہر ذاکر جعفرکے گھر داخل ہوتی ہے۔ 19 جولائی کی صبح 2 بج کر 39 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم سامان لیکر گھر سے باہر نکلتے ہیں۔

19 جولائی کو ہی صبح 2 بج کر 41 منٹ پر نور مقدم ننگے پاؤں گھر سے باہر بھاگتی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے نورمقدم ظاہر جعفر سے معافیاں مانگ رہی ہوتی ہے۔ 19 جولائی کو ہی ظاہر جعفر اور نور مقدم 2 بج کر 46 منٹ پر گاڑی میں بیٹھ کر باہر جاتے ہیں۔ 2 بج کر 51 منٹ پر دونوں سامان سمیت گھر واپس آجاتے ہیں۔

20 جولائی کو شام 7 بج کر 11 منٹ پر نور مقدم جان بچانے کے لیے کھڑکی سے چھلانگ لگاتی ہے۔ گھرکے دوسری سائیڈ سے ظاہر جعفر کو بھی چھلانگ لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

نور مقدم باہر جانے کی کوشش کرتی ہے لیکن مالی اسے باہر نہیں جانے دیتا جبکہ چوکیدار بیسمنٹ میں چلا جاتا ہے۔ نور مقدم کو گھسیٹے ہوئے ظاہر جعفر گھر کے اندر لے جاتا ہے۔

نور مقدم کیس: قتل سے پہلے کی فوٹیج منظرعام پر کیسے آئی؟؟

نور مقدم کے چھلانگ لگانے سے لیکر گھر تک جاتے ہوئے گھر کے باہر ایک شخص سب کچھ دیکھ رہا ہوتاہے۔ ویڈیو میں کالے رنگ کے کتے کوبھی دیکھا جا سکتا ہے۔

 دوسری جانب نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے لیے مرکزی ملزم ظاہر جعفر  کی جانبب سے کیے جانے والے ڈراموں کو بھی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے  کبھی ملزم کو ڈسٹرکٹ کورٹس کے بخشی خانے سے سٹریچر پر ڈال کر کمرہ عدالت لایا جاتا ہے  تو کبھی ملزم کو کرسی میں بٹھا کر کمرہ عدالت میں لایا جاتا ہے  اور وہ سارا وقت سر جھکائے بے سدھ بیٹھا رہا تھا

نور مقدم کیس: ظاہرجعفر کی اسٹریچر پرعدالت پر حاضری، ویڈیو وائرل

کیونکہ ملزم ظاہر جعفر نے عدالت سے تحریری درخواست کے ذریعے اپنا  طبی معائنہ کروائے جانے کی استدعا کی تھی، کیونکہ  ان کے وکیل کے خیال میں ظاہر جعفر کی  ذہنی حالت بگڑ چکی ہے۔

ظاہر جعفر کو کبھی گود تو کبھی کرسی پر عدالت کیوں لایا جاتا ہے؟؟

</div>

اس سے قبل  بھی ہونے والی سماعتوں کے موقع پر ملزم ظاہر جعفر عدالت میں پہنچتے ہی اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیتا تھا  اور تقریباً ہر مرتبہ جج محمد عطا ربانی اسے  واپس لے جانے کا حکم دیتے تھے، جبکہ ایک مرتبہ وہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ الجھ بھی پڑا تھا  جبکہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل کے معالج اور ماہر نفسیات نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا تفصیلی جسمانی اور نفسیاتی معائنہ کیا، اور ملزم کو  مکمل طور پر صحت مند اور فٹ قرار دیا ہے۔ جبکہ جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا  وہی ہوتا نظر آرہا ہے

نورقتل کیس: ملزم ظاہر جعفر کا پولی گرافک ٹیسٹ مکمل ۔۔۔

نور مقدم قتل کیس کی پولیس تفتیش میں کمزوریاں سامنے آگئیں  ہیںعدالت میں پولیس کے تفتیشی افسر سے جرح کی گئی دوران جرح تفتیشی افسر نے بتایا کہ چاقو پر ملزم ظاہر جعفر کی انگلیوں کے نشانات نہیں ملے ملزم کی پتلون پر خون کے دھبے بھی نہیں تھے

نور مقدم کیس: ظاہر جعفر نے قتل کا جرم قبول کرلیا ۔۔۔

وکیل صفائی نے دوران جرح پولیس کی ناقص گھٹیا تفتیش کے پرخچے اڑا دیئے پولیس نے اقرار کیا کہ مقتولہ کی جائے وقوعہ پر موجودگی کے لئے فوٹو گریمیٹک ٹیسٹ نہیں کریا گیا

کہا کہ کوئی عینی شاہد نہیں کہا کہ کسی ہمسائے کا بیان نہیں لیا جا سک تسلیم کیا کہ بنگلے اور اردگرد لگے سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی تفتیش میں شامل نہیں کی گئیں

اس تفتیش کے بعد  لگتا یوں ہے کہ شاید یہ کیس  اب چند پیشیوں تک محدود ہونے والا ہے  اور  ملزم ظاہر جعفر جلد ہی سلاخوں سے باہر آ کر اس ملک کے قانون پر ہنس رہا ہوگا اس قہقہے کے پیچھے بڑی محنت ہے یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ پولیس سے تفتیش میں یہ جھول کیسے رہ گئے جواب بہت آسان ہے یہ جھول اس لئے رہ گئے کہ ملزم پھانسی کے پھندے سے جھولنے سے بچ جائے

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *