12 14 808x454

ایم کیو ایم کارکن اسلم کی ہلاکت ، تفتیشی رپورٹ میں نئی کہانی سامنے آ گئی

163 views

ایم  کیو  ایم  کے  کارکن  کی  گزشتہ  روز کے  احتجاج  میں  ہلاکت  کے  حوالے  سے  پولیس  کی  ابتدائی  رپورٹ  سامنے  آ  گئی  ہے  اور  تفتیشی  حکام  کی  رپورٹ  میں  الگ  ہی  حقائق  سامنے  آئے  ہیں۔

فہمیدہ  یوسفی

متحدہ  قومی  موؤمنٹ  پاکستان  نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے پر پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ سے ایک کارکن کی ہلاکت  کا  الزام  لگایا  تھا  لیکن  تفتیش  کے  بعد  اس  کہانی  میں  نیا  موڑ  آ  گیا  ہے۔

ایم کیو ایم کارکن اسلم کی ہلاکت کے بعد پولیس تفتیش  کی  رپورٹ  سامنے  آ  گئی  ہے  اور پولیس نے اسلم کا کال ریکارڈ ڈیٹا حاصل کرلیا  ہے۔

راوا  ذرائع  کے  مطابق گزشتہ روز اسلم کے پورے دن کا ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ تفتیشی حکام  نے  بتایا  کہ گزشتہ روز ایک بج کر 42 منٹ پر اسلم اپنے گھر پر تھا، وہ 5 بج کر 10 منٹ پر شارع فیصل احتجاج میں پہنچا۔

اس کے بعد کراچی پریس کلب پر 6 بج کر 32 منٹ پر اسکی لوکیشن آئی  اور  وہ یہاں 6 بج کر 32 منٹ سے 7 بج کر 54 منٹ تک موجود رہا۔  تقریباً ساڑھے 6 بجے پولیس ایکشن شروع ہوا جب اسلم پریس کلب پر تھا۔

رات 8 بج کر 19 منٹ پر اسکی لوکیشن راشد منہاس روڈ پر آئی جو ممکنہ طور پر واپسی کی تھی  اور  رات 8 بج کر 42 منٹ پر اسکی لوکیشن  فیڈرل بی ایریا بلاک 15 کے آئی ایچ ڈی کی آئی۔

اسلم کو اسی وقت کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز لایا گیا تھا۔اسلم کو ساڑھے 8 بجے اسپتال لایا گیا اور رات 10 بج کر 29 منٹ پر انتقال ہوا۔

رات 10 بج کر 33 منٹ پر اسکی موبائل لوکیشن گھر کی آئی جب میت گھر لے جائی چکی تھی۔

دوسری جانب قومی ادارہ برائے امراض قلب(این آئی سی وی ڈی)   کے ریکارڈ کے مطابق متحدہ کارکن محمد اسلم کو رات 10 بج کر 29 منٹ پر اسپتال پہنچایا گیا تھا اور 10 بج کر35 منٹ پر ڈاکٹرز نے محمد اسلم کی موت کی تصدیق کر دی تھی۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے پر پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ سے مبینہ طور پر زخمی ہونے اور بعد ازاں جاں بحق ہونے والے  محمد اسلم کی موت سے متعلق  ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کا بیان بھی  سامنے آیا  تھا۔مرتضیٰ وہاب نے  جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا لیکن  ساتھ ہی وضاحت بھی کی کہ جناح اسپتال میں اسلم نامی کوئی شخص نہیں لایا گیا تھا۔

حکومتی  وزیر  سعید غنی نے بھی  کہا تھا کہ پولیس تشدد سے کوئی بھی زخمی اسپتال نہیں لایا گیا، کارکن اسلم کی موت کے تعین کیلئے پوسٹمارٹم کرایا جائے۔

پرامن  مظاہرین  پر  ریاست  کا  نشدد  اور  لاٹھی  چارج  کسی  بھی  صورت  قابل  قبول  نہیں  خصوصا  ایسے  وقت  میں  جب  کراچی  شہر  میں  پاکستان  سپر  لیگ  جیسا  میگا  ایونٹ  ہونے  جا  رہا  ہے  اور  غیر  ملکی  کھلاڑی  بھی  شہر  میں  موجود  ہیں  ،  امن  و  امان  کی  صورتحال  کو  خراب  کرنا  انتہائی  احمقانہ  فعل  ہے  البتہ  سیاسی  جماعتوں  کو  بھی  پوائنٹ  اسکورنگ  سے  گریز  کرنا  چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *