5 28 808x454

بھارت کی یوم جمہوریہ پر انٹرنیشنل سبکی ، ایوارڈز اور تقریب بھی تنازعات کا شکار

43 views

بھارت اپنا یوم جمہوریہ ہر سال 26 جنوری کو مناتا ہے کیونکہ تقسیم ہند کے بعد سنہ 1950 میں اِسی دن ملک میں نئے آئین کا نفاذ ہوا تھا جس کے ذریعے بھارت  کو ’جمہوریہ‘ قرار دیا گیا تھا۔

حرا  خالد

بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر اس سال بھی پریڈ کا اہتمام کیا گیا جہاں نئی دہلی میں ہونے والی تقریب میں بھارت نے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود تھے جس میں ٹینکوں اور جنگی طیاروں نے انہیں سلامی پیش کی  البتہ نئی دہلی میں ہونے والی یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب میں غیر ملکی معزز مہمانوں اور مندوبین کے وفد نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ  کے سبب شرکت نہیں کی۔

ہر  سال  کی  طرح  اس  سال  بھی  تقریب  سے  پہلے  ہی  کئی  تنازعات  نے  سر  اٹھا  لیا  اور  اپوزیشن  سمیت  مختلف  جماعتوں  نے  حکومت  اور  یوم  جمہوریہ  کی  تقریبات  کو  تنقید  کا  نشانہ  بنایا۔

یوم جمہوریہ کی تقریبات پر ہونے والا پہلا تنازع ریاست بنگال کی جھانکی (نمائش) کو پریڈ میں شامل نہ کرنے سے شروع ہوا تھا۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجے گئے اپنے دو صفحات کے خط میں اسے بنگال کے لوگوں کی توہین اور جدوجہد آزادی میں ان کے کردار سے انکار قرار دیا۔

دوسری  جانب  مہاتما  گاندھی  کی  پسندیدہ  دھن  کو  پریڈ  کا  حصہ  نہ  بنانے  اور  اسکی  جگہ  بالی  ود  گانے  پرید  میں  شامل  کرنے  پر  بھی  کڑی  تنقید  کی  گئی۔

انڈین حکومت کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو ٹویٹ کی گئی جس میں انڈین بحریہ کے اہلکار یوم جمہوریہ کی ریہرسل پریڈ میں 70 کی دہائی کے دو مشہور بالی وڈ گانوں کی دُھن پر رقص کرتے نظر آ رہے ہیں۔

یہ دھن ’ونس اپون اے ٹائم‘ کے ایک گانے ’دنیا میں لوگوں کو‘ اور فلم ’کاروان‘ کے گیت ’مونیکا او مائی ڈارلنگ‘ کو ملا کر بنائی گئی ہے۔

اس ویڈیو کے  سامنے آنے کے بعد تنازع مزید  بڑھ گیا۔ اتوار کو انڈین میڈیا میں خبریں آئیں کہ مودی سرکار نے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر انڈین گانوں کی دھنیں بجانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ ’ابائیڈ ود می‘ کی دھن سنہ 1950 سے سالانہ بیٹنگ ریٹریٹ تقریب میں بجائی جاتی رہی ہے، لیکن رواں سال 26 گانوں کی فہرست میں اس دھن کا ذکر نہیں تھا۔یہ مہاتما گاندھی کی پسندیدہ دھن بھی تھی۔حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس حکومتی اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

پی چدمبرم نے کہا: ’ابائیڈ ود می ایک مسیحی دعا تھی جو 1847 میں لکھی گئی تھی، لیکن اب یہ صرف مسیحی دعا نہیں ہے۔ اب یہ تمام مذاہب سے منسلک ہے۔ یہ دعا 1950 سے بیٹنگ ریٹریٹ تقریب کا حصہ تھی۔ مجھے اور کروڑوں شہریوں کو دکھ ہے کہ یہ دعا جمہوریہ کے 72ویں سال میں چھوڑ دی جائے گی۔ بی جے پی حکومت کی عدم برداشت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان کے رویہ اور اشتعال انگیز اقدامات کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

مہاتما گاندھی کے پڑپوتے گوپال کرشن گاندھی نے اس پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’یہ دعا کس کی بے عزتی ہے؟ اس سے ذلت کون محسوس کرتا ہے؟ زخم بھرنے والے اس گیت سے کس کو تکلیف ہو سکتی ہے؟ میں یقین نہیں کر سکتا کہ انتظامیہ اس گانے کی خوبصورتی، روحانیت اور انسانی اپیل اور اس دعا کو پسند کرنے والے لوگوں کے لیے اتنی بے حس ہے۔ گاندھی کو یہ گیت بہت پسند تھا۔

بھارت میں یوم جمہوریہ کے موقع پر حکومت مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں اعلیٰ سویلین ‘پدَم‘ ایوارڈ ز کا اعلان کرتی ہے۔ اس کے تحت تین درجات میں باالترتیب ‘پدم وبھوشن‘، ‘پدم بھوشن‘ اور ‘پدم شری‘ ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔ نریندر مودی حکومت نے بھارت کی 73ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر منگل کے روز مختلف شعبہ حیات سے وابستہ 128 افراد کو’پدم‘ ایوارڈ زدینے کا اعلان کیا۔ لیکن یہ ایوارڈز  بھی تنازعے کا شکار ہوگئے ۔

ایوارڈ یافتگان کی فہرست میں مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلی اور کمیونسٹ رہنما بدھا دیب بھٹاچاریہ کا نام بھی شامل تھا  اور انہیں دوسرے اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ ‘پدم بھوشن‘ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن ایوارڈز کے اعلان کے کچھ دیر بعد ہی سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ ایوارڈ نہیں لیں گے۔

بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر لندن میں کشمیریوں اور سکھوں نے احتجاجی ریلی نکالی  اور بھارتی ہائی کمیشن کے باہر جمع ہوکر نعرے بازی کی اور بھارتی ریاستی جبر و تشدد کو دنیا کے سامنے بیان کیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی یوم جمہوریہ ، کشمیریوں اور سکھوں کے لیے یوم سیاہ بن گیا، لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر بھرپور احتجاج کیا گیا، لندن کے وسط میں مودی سرکار اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف نعرے لگتے رہے۔

یاد  رہے  کہ  گزشتہ سال یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت میں افراتفری اور مظاہروں کی وجہ سے حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے بدھ کو یوم جمہوریہ کے موقع پر سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *