3 29 808x454

جماعت اسلامی دھرنا : حکومت سندھ نے گھٹنے ٹیک دیے، مذاکرات کا عندیہ

37 views

بلدیاتی  قانون  کے  خلاف  سندھ  اسمبلی  کے  سامنے  جماعت  اسلامی  کا  دھرنا  ستائیسویں  روز  میں  داخل  ہو  گیا  ہے  ،  ہزاروں  کی  تعداد  میں  کارکنان  اور  شہری  دھرنے  میں  شریک  ہیں۔

حرا  خالد

گزشتہ 27 روز سے جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے سامنے  بلدیاتی  قانون  کے  خلاف دھرنا جاری ہے، اس دوران جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور سندھ حکومت کے نمائندوں کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے لیکن ناکامی سے دوچار ہوئے، تاہم جماعت اسلامی نے بھی  سخت  موسمی  حالات  کے  باوجود احتجاج جاری  رکھا۔

اب  ذرائع  یہ  کہہ  رہے  ہیں  کہ  حکومت  سندھ  جماعت  اسلامی  کے  دھرنے  کا  دباؤ  برداشت  نہیں  کر  پا  رہی  اور  حکومتی  اراکین  بھی اس  معاملے  پر تقسیم  کا  شکار  نظر  آ  رہے  ہیں    ،  دوسری  جانب  جماعت  اسلامی  کی  جانب  سے  دھرنے  کو  بڑھانے  اور  اہم  شاہراہیں  بند  کرنے  کے  اعلان  کے  بعد  ایک  بار  پھر  سندھ  حکومت  کے  اراکین  مذاکرات  کا  راستہ  تلاش  کر  رہے  ہیں۔

اسی  حوالے  سے  وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کراچی میں  نجی  چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی سے بلدیاتی بل پر مذاکرات جاری ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ فون کے ذریعے لاڑکانہ سے جماعت اسلامی رہنمائوں سے رابطے جاری ہیں اور بلدیاتی بل سے متعلق جماعت اسلامی سے بڑے بریک تھرو کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے بعض اہم بلدیاتی ادارے میئر کے ماتحت کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، بلدیاتی قانون میں کم از کم 3 اہم شعبے میئر کے ماتحت کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اور حکومت سندھ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دوسری طرف حکومتی جماعت کے بعض وزرا مذاکراتی ٹیم میں شامل نہ کیے جانے اور اپنا کردار نہ ہونے پر ناخوش بھی ہیں۔

ذرائع کے مطابق جمعہ کو شہر کے اہم راستوں پر احتجاجی دھرنوں کے اعلان نے بھی پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھایا ہے، اب 48 گھنٹوں میں مذاکرات حتمی نتیجے پر پہنچنے کا امکان ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے بعد سندھ اسمبلی سے دھرنا ختم کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بلدیاتی قانون کے خلاف سیکنڈ فیز کا اعلان کیا تھا، انھوں نے کہا سندھ اسمبلی پر دھرنا جاری رہے گا، لیکن جمعہ 28 جنوری سے کراچی کی 5 اہم شاہراہیں بند کر دیے جائیں گے اور صرف ایمبولینس چلے گی۔

دوسری  جانب  جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے حکومتی افواہوں کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنا جاری ہے اور جاری رہے گا۔انکا  کہنا  تھا  کہ ہم چاہتے ہیں کہ شہر کے مسائل افہام و تفہیم سے حل ہوں۔ کراچی کے تمام ادارے اور محکمے میئر کے ماتحت کیے جائے۔سندھ حکومت نے جو ادارے 2013ء میں لیے تھے وہ بھی میئر کے ماتحت کیے جائیں۔

حافظ  نعیم  نے  واضح  کیا  کہ دھرنا ختم کرنے کا تاثر غلط ہے دھرنا جاری ہے اور جاری رہے گا۔ دھرنے کے مقام پر تحریری معاہدہ ہوگا اور سب کے سامنے ہوگا۔ معاہدے پر دستخط ہوں گے،اعلانات ہوں گے پھر دھرنا ختم ہوگا۔

 یہ دھرنا سازشوں کا اور لسانیت کا مقابلہ کرے گا۔ ہم جمہوری حق استعما ل کریں گے اور پر امن رہتے ہوئے جمعے کو دھرنے دیں گے۔ دھرنوں میں کوئی پتھرتک نہیں پھینکا جائے گا، کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی جائے گی۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے 27 ویں روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہےکہ جماعت اسلامی کا دھرنا امید کی  کرن ہے 28 تاریخ کو شہر بھر میں دھرنا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکا،اسکولز اور مدارس کے طلبہ و اساتذہ اور مختلف سیاسی ،سماجی ومذہبی تنظیموں کے وفودو میڈیا سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم بھی نمائشی مظاہرے کررہی ہیں ،بلاول بھی ریلیاں نکال رہے ہیں لیکن عوام کے بنیادی مسائل جن کا تعلق وفاقی اور صوبائی دونوں سے ہے حل نہیں کیے جارہے ہیں۔

بلاول ہم  سے کہتے ہیں کہ قانون کو کالا نہیں کہیں ،ہم پوچھتے ہیں کالے کو کالا نہیں کہیں گے تو کیا سفید کہیں گے ؟،بلاول کالے قانون کو سفید کردیں اس قانون کے ذریعے بلدیاتی اداروں اور میئر کے جو اختیارات غصب کیے ہیں ،شہری ادارے اور محکمے سندھ حکومت نے لے لیے ہیں وہ واپس کردیں ہم اسے کالا قانون کہنا بند کردیں گے ۔

 انہوں  نے  مزید  کہا  کہ ہم 27دن سے دھرنا دیے ہوئے ہیں جس میں کراچی میں رہائش پذیر ہر زبان بولنے والے اور اندرون سندھ و بلوچستان سے وفود خواتین ، بچے ،بزرگ اور ہر طبقے ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی اوراہل کراچی کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ لاشوں کے سوداگروں کو موقع مل گیا ہے، تباہ حال لوگوں کو مہاجر سندھ میں پھنسایا جارہا ہے، ہم لوگوں کے ساتھ موجود تھے، کورونا میں دبک کر بیٹھنے والے آج باتیں کرتے ہیں، جماعت اسلامی لوگوں کی امید کا مرکز ہے۔

جماعت  اسلامی  نے  کل بروز جمعہ 28جنوری کو نیشنل ہائی وے،سپر ہائی وے،شاہراہ فیصل،ماڑی پور،لسبیلہ چوک،ڈرگ روڈ پر دھرنا دے کرشاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔جس میں سوائے ایمبولینس کے کسی کو  بھی راستہ نہیں دیا جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *