7 28 808x454

کاروکاری کی رسم اور مالی فوائد کا گندا کھیل

39 views

جمن (فرضی نام) کی بیوی بہت خوش تھی کہ برادری کے سردار نے اس کی بیٹی کا رشتہ دینے کے عوض ملنے والی رقم سے مروجہ آدھا حصہ لینے سے انکار کردیا۔

تحریر  :  شاہ زمان بھنگر

جمن کی 14 سالہ بیٹی کو محض شک کی بنیاد پر بھائی نے برادری کے 15 سالہ لڑکے سے کاری قرار دیا تھا کیوں کہ لڑکی سے کہا گیا تھا کہ کسی اور گائوں سے آئے ہوئے رشتہ دار کی موجودگی میں گھر سے نہ نکلے، لڑکی جانے یا انجانے میں پانی بھرنے گائوں کے ہینڈ پمپ تک گئی تھی۔

جمن کا بیٹا پتہ چلتے ہی بہن کو مارنے لگا اور کاری کاری کہنے لگا تو ماں نے بیٹی کی جان بچانے کی خاطر اسے گائوں کے زمیندار کے گھر پنہچا دیا۔

لڑکی کے بھائی نے جا کر اپنے تایا کمال (فرضی نام) کو اطلاع دی جس کے بیٹے سے لڑکی کا وٹے سٹے کا رشتہ طے ہو چکا تھا۔

اب لڑکی کی قسمت کا فیصلہ تایا کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے ایک دم ہونے والی بہو کو کاری قرار دے دیا تو یہ بات فائنل ہوگئی کہ لڑکی بدکار تھی۔ نہ کسی گواہ کی ضرورت، نہ عدالت کی۔

نہ لڑکی، نہ اس کے ماں باپ، نہ ہی کسی گائوں کے فرد کو یہ اختیارحاصلہےکہ اس الزام اور سزا کو چیلنج کرے، لڑکی کو کاری قرار دینے کا اختیار صرف اس کے سسر کے ہاتھ میں تھا، سو اس نے استعمال کیا۔

اس کے بعد برادری کے سردار نے فیصلہ سنا دیا کہ اب کارو قرار دئے گئے نوجوان کے گھر والے تین جرمانے بھریں گے۔ 4 لاکھ کارو کاری کے روایت کے مطابق، 4 لاکھ اس بات کا جرمانہ کہ لڑکی کنواری تھی، مزید 4 لاکھ اس جرم کے کہ وہ رشتہ دار تھا۔

لڑکی کے سسر نے جرمانے کے 12 لاکھ میں سے 4 لاکھ کے عوض اپنے اس بیٹے کے لئے کہیں اور رشتہ طے کیا۔ اب بھی بیٹھے بٹھائے اس کے گھر 8 لاکھ روپے آگئے۔

جب مالی فائدے کا ذرا سا بھی امکان ہو تو لڑکی کو کاری قرار دینے میں تاخیر کیوں کی جائے؟

دوسری طرف جمن نے کاری قرار دی گئی بیٹی کا رشتہ مروج طریقہ کار کے مطابق گائوں سے دور دوسری برادری میں طئہ کرکے 4 لاکھ روپے لے لئے، جس میں سے برادری کی روایت کے مطابق آدھا حصہ سردار کو ملنا تھا مگر سردار نے لینے سے انکار کیا اور وجہ یہ بتائی کہ ایک تو جمن بھی ایک طرح سے ان کے گائوں کا رہنے والا تھا۔ دوسری وجہ یہ بتائی کہ اب انہوں نے ایسی رقم لینے کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔

گو کہ جمن کی برادری کے سردار نے یہ رقم نہیں لی، مگر اب بھی کئی برادریوں میں یہ روایت موجود ہے۔ کہیں کاری قرار دی گئی لڑکی کے رشتے کے عوض ملنے والی پوری رقم سردار کو ملتی ہے، کہں آدھی۔

جمن کے لئے ایک بڑا چئلنج اب بھی موجود ہے کہ کاری قرار دی گئی بیٹی کے عوض جس بھتیجی کا رشتہ وٹے سٹے میں اس کے بیٹے کو ملنا تھا، اب اس کا کیا بنے گا؟ کیا بیٹے کی شادی ہوگی بھی یا نہیں؟ اگر ہوئی بھی تو بھتیجی دلہن بن کر اس کے بیٹے کے ساتھ ہنسی خوشی رہ سکے گی؟ یا بھائی کمال اپنی بیٹی کو رہنے دے گا یا نہیں؟

مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ کسی ایک لڑکی پر دھرا گیا الزام ایک ہی وقت میں کیسے چار عورتوں کی زندگیوں کو جہنم بنا گیا۔۔ جس لڑکی پر الزام لگا، اس کو چار لاکھ میں بیچا گیا، ایسے گھر میں جہاں وہ ساری عمر اپنے اوپر لگے بدکاری کے الزام کو جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش میں گذارنے کے باوجود باعزت مقام نہیں پا سکے گی۔

اس کی ماں، جس کی ممتا تادم مرگ تڑپتی رہے گے۔

وہ بچی جس کا رشتہ چار لاکھ میں کمال کے بیٹے کے لئے خریدا گیا اور کمال کی وہ بیٹی جس کو جمن کے گھر بیاہ کر جانا ہے، ہمہ وقت اس خوف کا شکار رہیں گی کہ نہ جانے کب کوئی مرد ان پر کاری کی تہمت نہ لگادے۔

دوسری طرف کمال کی جیب میں 8 لاکھ روپے اور جمن کی جیب میں چار لاکھ روپے آگئے۔ کیا ایسی منافع بخش روایت کون ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے گا جبکہ مختلف واقعات میں اس “کالے” دھن میں برادری کے سردار کا بھی حصہ متعین ہو ؟

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *