1 1 4 808x454

یوٹرن اور چالان

79 views

تحریر  :  ریحان  مصطفیٰ

کل ایک دوست کو غصے سے جھنجھلاتے ہوئے پایاتو کچھ دیر تک تووجہ پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی لیکن پھر اپنی تمام تر جراتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھ ہی ڈالا کہ نصیب ِدُشمناں طبیعت میں یہ جلال کیسا،، مزاج کے بازار میں یہ گرمی کیوں؟یہ کہنا تھاکہ ہمارے دوست نے پاکستان کے نظام پروہ خطبہ دیا کہ ہمارے چاروں طبق روشن ہوگئے،،اس مرتبہ اُس کانشانہ تھی ٹریفک پولیس،اور اس کی وجہ تھی چالان۔۔

میں نے کہا بھائی چالان کی وجہ کیا قرار پائی کیا لائسنس نہیں تھا یاپھر آپ نے تیز رفتاری دکھا کر قانون توڑا ہوگا،،جب وہ سب چیزوں سے انکار کرچکے توخود گویاہوئے،  بولے میں نے یوٹرن لیا تھا وہ بھی غلط یوٹرن،ان کی بات سن کر میں سناٹے میں آگیا سمجھ ہی نہیں آرہاتھا کہ ہنسوں یا روؤں یا پھر اپنے دوست کو یہ سمجھاؤں کے یوٹرن لینے کا حق صرف ہمارے سیاست دانوں کو ہے جوگاہے بگاہے یوٹرن لیتے رہتے ہیں لیکن۔۔۔

ان کا یہ یوٹرن سفری نہیں بلکہ سیاسی ہوتاہے جو کار زارِسیاست میں ان کی گاڑی کوچلتا رکھتا ہے اگر یہ لوگ یوٹرن نہ لیں تو سیاست خود انہیں چلتا کردے کیونکہ جب ان کی زبانیں چلتی ہیں تو دیکھتی ہی نہیں کہ وہ حقیقت سے لگا بھی کھاتی ہیں کہ نہیں لیکن ان کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے وہ یہ کہ اپنے آپ کو بڑ ا پھنے خاں ثابت کیا جائے عوام کو سنہرے خواب دکھا کر اپنی حمایت کے حصار میں قید کرلیا جائے،کیونکہ ہم پاکستانیوں کامزاج یہی ہے کہ اگر دھوکے سے غلطی،یا چکنی چپڑی باتوں میں آکر کسی کی حمایت کربیٹھیں توپھر چاہے وہ اپنی باتوں سے ہزار مرتبہ مکر جائے کہے کتنا ہی پھر اس کی حمایت کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں،،

ہمارا یہ بیانیہ محض تبصر ہ نہیں تبدیلی کے دعویداروں کا ایک ایک عمل اس بات غمازی کرتادکھائی دے رہا ہے بڑے دعوے اور پلک جھکپتے میں سب کچھ اچھا کردینے کا جھانسہ دے کر عوام سے ووٹ سمیٹے گئے ان کا سیدھا سفر صرف پارلیمنٹ تک تھا پھر انکے یوٹر ن کاسلسلہ شروع ہو اوریہ سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے، گویا۔۔۔

  اُس  کی  ہر  بات میرے دل میں اتر جائے گی

 اپنی  باتوں سے  وہ ہر  بار مُکر  جائے  گا

بات کرکے مکر جانا بڑے وعدے کرپھر جانااوریوں تو ہمارے ہر سیاست دان کی رگ رگ میں بسا ہو اہے لیکن تبدیلی سرکار کے کپتان نے یو ٹرن کاجو طوفان بر پاکیا ہوا ہے اُس نے عوام کی امیدوں کے تما م درختوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا ہے،انکے ٹھیلوں،ٹہیوں اور دُکانوں سمیت آمد نی کے تمام ذرائع کے پرخچے اڑادئیے ہیں خوشگوار تبدیلی کی راہ دیکھنے والوں کی آنکھیں اب بجھنے لگی ہیں،لیکن کیا کیا جائے انا کے اُن ماروں کا جو اب بھی کیچڑ کو کیچپ،اور گوبر کوگلاب جامن قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں،، غلط فہمی کی ان تاریک راہوں میں اگر کوئی روشنی کی کرنیں بکھیرنے کی کوشش کرے تو یہ لوگ اسے اپنا دشمن اورمغلظات کاحق دار سمجھتے ہیں۔۔۔

چند ماہ میں واضح طو رمعاشی ابتری،معاشرتی بے چینی اور سیاسی افراتفری نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ باتوں سے تبدیلی کا جھانسہ دے کر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے والوں نے ملک و قوم کے لیے رسوائی کے دروازے ہی کھولے ہیں اور کپتان اب صرف فین کے کلب  اورسوشل میڈیا کے سہارے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے ورلڈ کپ کی چمک بھی اب ماند پڑ چکی ہے اور سابقہ حکومتوں کو قصوروار ٹہرانے کاراگ بھی اب بے وقت کی راگنی سمجھا جانے لگا ہے۔

وقت بے وقت لیے جانے والے یوٹرن اب بیک فائر بن کرحکومت کے گلے پڑ رہے ہیں کپتان کی صورتحال اُس ڈرائیور کی سی ہے جو کسی مہربان کی مہربانی کے طفیل گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان تو ہوچکاہے لیکن اسے معلوم نہیں کہ گاڑی کو چلانا کیسے ہے کہا ں رکنا ہے کہاں چلانا ہے کہا ں مڑنا ہے اور کہان یوٹرن لینا ہے۔۔

ڈرائیور کے اناڑی پن کا سارا خمیازہ اب تک عوام بھگت رہے ہیں،،کہیں ایسانہ ہو کہ ا ب ڈرائیور بھی پکڑا جائے،اورہمارے دوست کی طرح ا س کا بھی چالان ہوجائے،،ہمارے دوست نے صرف ایک یوٹرن لیا تھا تو چالان بھگتنا پڑ ایہاں تو یوٹرن کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے،،اگر اس ڈرائیور کے چالان ہونا شرو ع ہوئے تو بات صرف جرمانے تک محدود نہیں رہے گی گاڑی بھی ضبط ہوگی اور ڈرائیور بھی اندر ہوگا۔۔

یوٹرن  لینے کی عادت پڑ ہی گئی ہے تو یوٹرن لیجئے مہنگائی برساتی اُس معاشی پالیسی پر جس نے غریبوں کا جینا دوبھر کردیا ہے،یوٹرن لیجئے اُس میڈیا پالیسی پرجس نے ہزاروں صحافیوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کردئیے ہیں یوٹرن لیجئے گالم گلوچ کی اُس سیاست پر جس میں آپ خود کوفرشتہ دوسرے کو ابلیس بنا کرپیش کرتے ہیں۔شاید کہ آپ کے لیے بچت کی کوئی صورت نکل آئے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *