8 13 808x454

انسانیت کا قتل: لاش پڑی رہی باراتی کھانا کھاتے رہے۔۔ بےحسی کی ویڈیو وائرل

288 views

باراتیوں نے جیب کترا ہونے کے شبہے میں محنت کش کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناکر قتل کردیا اور اس کے بعد سفاکیت کے بھی سارے ہی پردے طاق پر رکھ دیے۔ واقعے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس۔

صبحین عماد

ظلم کی داستان اور انسانیت میں چھپے فرعونیت کے قصے کو لکھنے کو الٖفاظ آج  رو پڑے ہیں، قلم ہے جو ہاتھ جوڑے کھڑا ہے سیاہی نے بھی پناہ مانگ لی کہ یہ داستان بیان کرنا آسان نہ ہوگی۔

کہاں سے شروع کروں کہ انسان کیسے حیوان بن گیا یا یوں کہوں کہ حیوانوں کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا، کیسے کہوں کہ میرے ملک کے لوگوں کو یہ کیا ہوگیا کہ محض ایک شبے میں اپنے ہی جیسے ایک انسان کو پہلے قتل کیا پھر بے حسی کی حد کی بھی ہر حد پار کردی۔

پنجاب کے شہر پتوکی میں شادی کی تقریب کے دوران باراتیوں نے  ہال میں  موجود پاپڑ فروش کو تلخ کلامی کے بعد تشدد کا نشانہ بناکر بے دردی سے قتل کردیا مگر ظلم بس یہاں ختم نہیں ہوا۔

پولیس  کے مطابق باراتیوں نے پاپڑ فروش اشرف سلطان کو جیب کترا قرار دیکر اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے اسکی موت واقع ہوگئی۔

پولیس کے مطابق پاپڑ فروش اشرف کی لاش شادی ہال میں سرعام لاوارث حالت میں پڑی رہی ۔لاش پر مکھیاں بھنبھناتی رہیں اور لوگ مزے سے بارات کا کھانا کھاتے رہےاور کسی  نے  ایمبولینس بلانے یا لاش اسپتال منتقل کرنے  کی زحمت بھی نہیں کی اس بے حسی اور سفاکیت پر تو شاید شیطان بھی شرمندہ ہوگیا ہوگا یا خود کو آج انسان سے تو بہتر ہی تصور کررہا ہوگا ۔

پولیس کے مطابق مزدور کی لاش شادی ہال میں پڑی رہی اور لوگ کھانا کھانے میں مصروف رہے کسی کم ظرف نے ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی تو ایک کہرام مچ گیا لمحے کو لگا جیسے قیامت کا وقت آگیا،  پولیس نے مقتول کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا۔

واقعے کے بعد پولیس فوری طور پر حرکت میں آئی  اور مقدمہ درج کر کےہال کے منیجر سمیت 12 افراد کو حراست میں لے لیا ۔ڈی پی او قصور کے مطابق پولیس کی ٹیموں نے رات گئے کنگن پور، پتوکی اور سرائے مغل میں کارروائی کرکے ان افراد کو حراست میں لیا ہے۔

واقعے کی ایف آئی آر محمد اشرف عرف سلطان کے بہنوئی پرویز کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ پرویز کے مطابق شادی ہال کے باہر محمد اشرف پاپڑ فروخت کر رہا تھا کہ تکرار ہوگئی اور وہاں موقعے پر موجود افراد نے ان پر تشدد شروع کر دیا اور پھر انھیں ہال کے اندر لے گئے۔

محنت کش محمد اشرف کا تعلق تحصیل چونیاں کے علاقے جاگوالہ سے تھا ۔پولیس کے مطابق ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں ڈاکٹرز نے متوفی کے جسم پر تشدد کی تصدیق نہیں کی تاہم واقعے کی ہر پہلو سے انکوائری کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق جائے واردات سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، حتمی رپورٹ آنے کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے، حقائق بھی کیا ہی سامنے آئیں جانے والا اپنی جان س چلا گیا اب تو بس اس کے بعد قیامت ہی آئے گی ۔

پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے  لیا۔ آئی جی پنجاب کے مطابق ڈی پی او قصور واقعے کی تفتیش اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں، انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مزید افراد کو شامل تفتیش کرنے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔

دل دہلا دینے والے پے در پے سانحات نے پوری قوم کو انسانیت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

بات اب تواچھے برے کی یا برے برے کی رہی نہیں بلکہ اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کیا ہمارے ہاتھ میں انسانیت کا کوئی آخری درجہ بھی بچا ہے کہ نہیں؟؟ زرا سوچیے۔۔

جو عبرت سے بھی نہ سمجھے، دلائل بھی نہ مانے تو
قیامت خود بتائے گی،قیامت کیوں ضروری تھی

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *