11 4 808x454

کیا 2025 میں پاکستان میں پانی ختم ہوجائے گا ۔۔؟؟

63 views

پانی  کو زندگی کی بنیادی اکائی  کی حیثیت حاصل ہے وہیں  دوسری طرف زندگی کی اسی بنیادی اکائی کی کمیابی اور آلودگی، صحت مند زندگی کے لئےشدید خطرہ ہیں۔

راوا اسپیشل

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں بائیس مارچ کو  پانی کا عالمی دن منایاجاتا ہے  ۔پانی کا عالمی دن منانے  کا آغازسال 1992 میں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو میں اقوامِ متحدہ کی ماحول اور ترقی کے عنوان سے منعقد کانفرنس کی سفارش پر ہوا تھا جس کے بعد سنہ 1993 سے ہر سال بائیس مارچ کو پانی کا عالمی منایا جاتا ہے۔

اس دن کو منانے کا بنیادی  مقصد پینے کے پانی کی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ اسے محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔

قابل تشویش  بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا میں پانی کے بحران کا شکار ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر  ہے ماہرین کے مطابق2025  تک  پاکستان میں پانی کا شدید بحران ہوگا۔

2025 تک پاکستان کی پانی کی طلب 274 ملین ایکڑ فٹ ،جبکہ پانی کی فراہمی 191 ملین ایکڑ فٹ تک ہوسکتی ہے۔

پاکستان میں پانی بحران کتنا سنگین ہوتا جارہا ہے اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے  کہ ملک کے  24 بڑے شہروں کی 80 فیصد آبادی کے پاس  صاف پانی تک رسائی کا کوئی ذریعہ  نہیں ہے، جبکہ  پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی کراچی کی کچی آبادیوں میں بسنےوالے ایک کروڑ 60 لاکھ گھروں میں پانی کی فراہمی ہی نہیں ہے ۔

یہ پرھیں: پاکستان کو موسمیاتی تغیرات کے باعث سالانہ 3.8 بلین ڈالر کا نقصان

ایک اور رپورٹ میں انکشاف ہوا  ہے کہ پاکستان میں 3 کروڑ  کی آبادی کی  صاف پانی تک رسائی نہیں ہے جبکہ فی شخص سالانہ پانی کی دستیابی(1 ہزار کیوبک) میٹر سے بھی کم ہے،اگر یہ فی شخص سالانہ 500 کیوبک میڑ تک پہنچ جاتا ہےتو عین ممکن ہے کہ 2025 تک پانی کی قطعی کمی واقع ہوجائے۔

پاکستان کی 85 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم

دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیوں، گلوبل وارمنگ، پانی کی آلودگی اور کمی جیسے مساٗئل نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 85 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ گھروں کے نل میں آنے والا پانی ہو یا ٹیوب ویلز، فلٹریشن پلانٹس ہوں یا پھر بوتلوں کا پانی(منرل واٹر)صحت کے لئے مضر ہوتے جا رہے ہیں۔ زیر زمین سیوریج لائنز اور صاف پانی کی پائپ لائنز مل جانے کی وجہ سے بھی پانی آلودہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر ۔۔

سیوریج سسٹم کے نقائص تو ایک طرف ہمارے ملک کے ندی، نالے، نہریں، دریا، جھیلیں اور سمندر بھی آلودہ ہوتے جارہے ہیں ۔دوسری طرف جدید صنعتوں نے بھی پانی کی آلودگی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان میں صاف پانی کی کمی اور نکاسی آب کا مناسب نظام نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ہر سال آلودہ پانی پینے سے سینکڑوں افراد ٹائفائیڈ، ہیضہ، اسہال، ہیپاٹائٹس اے اور ای جیسی موذی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ملکی معیشت کا ڈیڑھ فیصد اسپتالوں میں پانی سےپیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پرخرچ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں پانی کے بحران کی بڑی وجوہات

پاکستان میں پانی کے بحران کی بڑی وجوہات میں  آبپاشی کا ناقص نظام  ، شہری علاقوں میں بڑھتی  آبادی،  پانی  کے وسائل کی تقسیم میں بد انتظامی اور آب و ہوا(ماحولیاتی) تبدیلی شامل ہیں

پاکستان کی بڑھتی آبادی

آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں  بڑا ملک ہے جس کی آبادی   جولائی 2020 میں 22 کروڑ دس لاکھ تک ہوگئی ہے ۔ ملک کی موجودہ سالانہ شرح پیدائش دواعشاریہ 8 فیصد سے بھی زیادہ ہے، ماہرین کےمطابق آبادی میں اضافے سے ملکی وسائل پربوجھ میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں پانی کے بحران کی بڑی وجہ آبادی کا بڑھتا بوجھ ہے

آبپاشی کا ناقص نظام

پاکستان  کی معیشت کا نیادی انحصار ی زراعت پر ہی ہے۔ فرسودہ کاشتکاری کے رائج طریقہ کار کی وجہ سے فصلوں کی کاشت میں 95 فیصد ملک کا پانی استعمال ہوجاتا ہے جو نہایت تشویش طلب ہے ،آبپاشی کےاس  ناقص نظام کی وجہ سے 60 فیصد ملک کا پانی ضائع ہورہا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی بھی ملک میں پانی بحران کا اہم سبب

پاکستان بارش ،برف اور گلیشیئر پگھلنے سے اپنا پانی حاصل کرتا ہے کیونکہ ملک کا 92 فیصد حصہ نیم بنجر ہے لہذا پاکستان اپنی پانی کی فراہمی کے لئے بارش پر منحصر ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے مٹی میں موجود پانی بھی تیزی سے بخارات بن کر سوکھ رہا ہے، جس سے فصلوں کے لئے پانی کی طلب میں بھی اور اضافہ ہورہا ہے۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی خطرناک رپورٹ

پاکستان ریسرچ ان واٹر ریسورسس (پی سی آر ڈبلیو آر) کے مطابق ، 2005 میں پاکستان میں آبی قحط کی حد عبور کی جاچکی ہے ، دنیا کے سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں ہم چوتھے نمبر پر ہیں جہاں پانی کے استعمال کی شرح خطرناک حد تک ہے جبکہ پانی کی شدت کی شرح (فی یونٹ جی ڈی پی میں استعمال ہونے والے پانی کی مقدار) پریشان کن ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

پاکستان میں ایک اہم مسئلہ ڈیموں کی قلت

پاکستان میں ایک اہم مسئلہ ڈیموں کی قلت بھی ہے ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی مناسب نظام نہیں ہے، پاکستان پانی کا صرف10 فیصد ہی ذخیرہ کرپاتا ہے

آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر اداروں کی مختلف رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے، پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف 2بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔کیا یہ ہمارے لیے کافی ہے؟

سال 2017 میں ارسا نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کیلئے منگلا ڈیم کے حجم جتنے 3 مزید ڈیموں کی ضرورت ہوگی ۔پاکستان کو پانی کے شدید بحران سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو روکنے کے اقدامات بھی کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک نظر ادھر بھی بارش سے نہیں بلکہ سمندر سے ڈوب جائیگا کراچی

پاکستانی عوام کو پانی کے بحران  سے آگاہ کیا جانا چاہئے ، تاکہ وہ ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ گیلن پانی کی بچت کرسکیں۔

عوام کو حالات سے واقفیت کے لیے پروگرام اور پیغامات چلائے جائیں جس سےعوام انفرادی طور پراس مسئلے کو سمجھیں اور پانی کے تحفظ کی پوری کوشش کر سکیں۔

جبکہ ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور اس کے بے دریغ استعمال کو روکنے کیلئے نیشنل واٹرپالیسی کے مطابق واٹر ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی ضرورت ہے ۔ اس وقت ہم تربیلا ڈیم جیسے پانچ بڑے ڈیمز جتنا پانی ضائع کر رہے ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کو فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ بھی درپیش ہوسکتا ہے۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ملک میں  پانی کا بحران کس قدر سنگین ہم خود اپنی روزمرہ زندگی میں پانی کو احتیاط سے استعمال کرکے کچھ بہتری لاسکتے ہیں۔

کہیں یہ نہ ہو کہ کل ہمارے پاس ضرورت کے لیے بھی پانی دستیاب نہ ہو اور  ہم بوند بوند کو ترس رہے ہوں  اور اسوقت جو ہمارے پاس رہ جائے گا وہ ہوگا پچھتاوا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *