10 11 808x454

دی کشمیر فائلز۔۔۔ مسلمانوں کے خلاف بھارت کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا

82 views

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں لڑائی شروع ہونے کے بعد کشمیری پنڈتوں کے وادی چھوڑنے کی کہانی پر مبنی بالی ووڈ فلم دی کشمیر فائلز پر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پنڈتوں نے بھی اعتراض اٹھایا جارہا ہے۔

صبحین عماد

بھارت کی جانب سے کششمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان کسی سے ڈھکی چھپی نہیں یہ کون نہیں جانتا کہ بھارتی اپنے جھوٹے پروپیگنڈا اور مسلمانوں کو بندنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو  تیار رہتے ہیں۔

اب ایک بار پھر مودی نے کود کو معصوم اور مظلوم دکھانے کی ناکام کوشش کی ہے سفاک قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک لاکھ کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کے مقابلے میں صرف 19یا پھر35کشمیری ہندوپنڈت کیا مرگئے تو بھارتیوں نے فلم ہی بناڈا لی اورکشمیری مسلمانوں کو ظالم اورکشمیری ہندوئوں کومظلوم بناکر پیش کر دیا گیا۔

 اس فلم کا مقصد کشمیری مسلمانوں کو بد نام کرنا اوران کی شبییہ کومسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے لیکن بھارت کی جانب سے جو فلم بنائی گئی ہے اس نے پاکستان سمیت بھارتی پنڈتوں نے بھی تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔

کیونکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بسنے والے ہندوؤں کی ’ٹارگٹ کلنگ‘ پر مبنی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ نے ایک تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ اس فلم کی کہانی کو سن 1990 کے دوران کشمیری پنڈتوں کے خلاف مظالم کی ایک حقیقی عکاسی خیال کیا جارہا ہے جبکہ بھارتیوں اور موودی سرکار کی طرح یہ فلم کی داستان بھی ایک جھوٹ اور من گھڑت کہانی کے سوا کچھ نہیں  تاہم ناقدین کے مطابق اس فلم میں تاریخی حقائق کو مسخ کیا گیا ہے۔

فلمساز اور ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری کی فلم 1990 کی دہائی کے دوران پنڈتوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کو پیش کرتی ہے لیکن پنڈتوں کے رہنما سنجے تِکو جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی کشمیر نہیں چھوڑا، کہتے ہیں کہ فلم میں جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے وہ رونما ہوئےلیکن انہیں بہت بڑھا چڑھا کر اور اشتعال انگیز انداز میں دکھایا گیا ہے۔

دی کشمیر فائلزمیں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کشمیر ہندوؤں کی سرزمین تھی، جہاں مسلمانوں نے دہشت گردی کرکے پنڈتوں کی نسل کشی کرکے انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔

تیکو نے کہا کہ اس فلم میں کشمیری مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو کہ غلط ہے، مجھے یاد ہے کہ حالات خراب تھے، کشمیری مسلمانوں نے کتنے پنڈت خاندانوں کو بچایا۔

کشمیری بولنے والے ہندوؤں کو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پنڈت کہا جاتا ہے، مسلمانوں اور پنڈتوں کی زبان، فن اور ادب یکساں تھے۔ یہاں تک کہ پنڈت اور مسلمان گھروں میں بچوں کے پکارنے کے نام ایک جیسے رکھتے تھے۔

دوسری جانب سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے ہندوستان کی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1990 میں ہونے والے ان واقعات کی تحقیقات کرائے جس کے نتیجے میں کشمیر سے پنڈتوں کی نقل مکانی ہوئی۔ سنجے تِکو کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی سنگین صورتحال کو سمجھنے کے لیے کمرشل فلم کی نہیں بلکہ صحیح تحقیقات کی ضرورت ہے۔

جبکہ دوسری جانب اس فلم میں مسلمانوں کو عسکریت پسند دکھایا گیا ہے۔ فلم کو بی جے پی کی مکمل حمایت حاصل ہے اورکیوں نہ ہو مودی سرکار کی پاکستان اور مسلمانوں سے نفرت بھی کسی بھی ڈھکی چھپی تو نہیں، فلم نقادوں کی جانب سے اس فلم پر ملے جلے تجزیے بھی سامنے آرہے ہیں۔

فلم کی ریلیز کے بعد وزیر اعظم نریند مودی سمیت حکومتی وزرا اور حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور عام ہندو بھی اس کی تعریفیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور مسلمانوں کو غدار قرار دیا جا رہا ہے۔

جب کہ کچھ ناقدین نے اس فلم کو ’’جذبات سے کھیلنے کی کوشش‘‘ قرار دیا ہے۔ ناقدین نے کہا ہے کہ ’’کشمیر فائلز‘‘ فلم میں حقائق کو ’’غیر ذمہ داری‘‘ اور ’’اسلاموفوبیا‘‘ کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔

اب اس سب کے درمیان تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے ایک تھیٹر میں فلم کی نمائش کے دوران ایک انوکھا واقعہ پیش آیا تھا ۔ رپورٹس کے مطابق تھیٹر میں دو افراد نے مبینہ طور پر فلم کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے جس نے سوشل میڈیا سمیت بھارتیوں کو بھی آگ بگولہ کردیا لیکن یہ بات تو ے ہے اس فلم کو جتنی اہمیت دی جارہی ہے اس فلم کی کہانی مین جھول بھی اتنا ہی ہے اب اگر اس کی اصل معنوں میں تحقیقات کی جائے تو ہر بار کی طرح اس بار بھی مودی سرکار کو اپنے سر شرم سے جھکانے پڑ جائیں گے لیکن بات تو وہی ہے کہ ۔

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، بات چلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *