24 1 808x454

وزیراعظم کو بھیجے گئے دھمکی آمیز خط میں کیا لکھا گیا ہے؟

67 views

ستائیس مارچ کو اسلام آباد میں جلسے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ایک خط لہرایا تھا جس سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت کو بیرونی ممالک کی جانب سے گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس مقصد کیلئے بے تحاشا پیسہ بھی بہایا جا رہا ہے

حرا  خالد

وزیراعظم  کا  اس  خط  کو  لہراتے  ہوئے  مزید  کہنا  تھا  کہ ہمیں خط لکھ کر دھمکی دی گئی  ہے  اور میرے پاس موجود خط اس کا ثبوت ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی سازش بیرون ملک تیار کی گئی، ملک میں سیاسی بحران آتے رہتے ہیں، یہ ایک فارن امپورٹڈ بحران ہے، لوگوں نے جو فیصلہ کرنا ہے کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ دھمکی آمیز خط اتحادی جماعتوں کو بھی دکھاؤں گا، اتحادیوں کے ایک ایک نمائندے کو بلا کرمراسلہ دکھاؤں گا، لوگ سمجھتے ہیں یہ ڈرامہ ہو رہا ہے، یہ ڈرامہ نہیں ہو رہا، خط کے اندر واضح ہے کہ یہ عالمی سازش ہے۔

آج  وزیراعظم عمران خان نے مبینہ دھمکی آمیز خط سینیئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کیا تھا جس پر سینئر صحافی وزیراعظم ہاؤس پہنچنا شروع ہوگئے تھے، اطلاعات یہ تھیں کہ 14سینئر صحافیوں کو وزیراعظم ہاؤس مدعو کیا گیا ہے  تاہم  بعد  میں  اس  ملاقات  کو  منسوخ  کر  دیا  گیا۔

حکومتی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ خط پبلک کرنے سے پہلے قانونی رائے لینا ضروری ہے۔

ذرائع کے مطابق قانونی رائے اگر اس بات کے حق میں ہوئی کہ یہ خط میڈیا پرسنز کو دکھانے سے سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہوتی تو خط میڈیا پرسنز کو دکھا دیا جائے گا۔

دوسری  جانب وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی  ہے۔ جس میں کہا  گیا ہے کہ دھمکی آمیزخط متعلقہ سول،فوجی قیادت کو بھجوا کر تحقیقات کرائی جائیں۔

 ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ عوام کو ذہنی تناؤ سے نکالنے کیلئے فوری مداخلت کی ضرورت ہے، دھمکی آمیز خط اتنہائی حساس اورسنجیدہ معاملہ ہے، دھمکی آمیزخط متعلقہ سول،  فوجی قیادت کو بھجوا  کر  تحقیقات کرائی جائیں۔

یاد  رہے  کہ  گذشتہ روز حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط چیف جسٹس آف پاکستان کو دکھانے کی پیشکش کی تھی ، وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ مقصد خط کی حقیقت آشکار کرنا ہے، دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ سات مارچ کو جیسے ہی خط ملا، مراسلے میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے ، عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی اور عمران خان وزیراعظم برقرار رہے تو خوفناک نتائج آسکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے خط کے حوالے سے بتایا تھا کہ مراسلے میں جوباتیں ہیں وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سے جڑی ہے ، اس مراسلے سے واضح ہے یہ پیغام عدم اعتماد سے جڑاہواہے، مراسلے سے واضح ہے بیرونی ہاتھ اور عدم اعتماد کی تحریک آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

وفاقی  وزیر  خارجہ  شاہ محمود نے دعوی  کیا  ہے  کہ  وزیر اعظم نے جو خط دکھایا ہے وہ عسکری قیادت سے شیئر کیا گیا ہے، ہمیں خط کے ذریعے ایک دھمکی آمیز پیغام دیاگیا، جس دن خط موصول ہوا وہ تاریخ بھی بتا سکتے ہیں۔

تاہم وزیر خارجہ نے یہ خط میڈیا کو کسی بھی طور دکھائے جانے کا امکان بھی رد کیا، اور کہا میرا نہیں خیال کہ یہ خط میڈیا کو آف دی ریکارڈ بھی دکھایا جائے گا۔

انھوں نے کہا یہ ایک خفیہ دستاویز ہے، اس کو ایسے نہیں دکھا سکتے، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ خط آف دی ریکارڈ دکھائیں گے، خط دکھانا وزیر اعظم کا اختیار اور صوابدید ہے، تاہم میرا نہیں خیال کہ یہ میڈیا کو دکھایا جا سکتا ہے

اپوزیشن  کی  جانب  سے  وزیراعظم  کے  اس  پراسرار  خط  کو  شدید  تنقید  کا  نشانہ  بنایا  جا  رہا  ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے دعویٰ سے کہا ہے کہ عمران خان نے جو خط دکھایا اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔

اپوزیشن کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بتائیں خط میں کیا ہے، اس کے لیے ڈھائی گھنٹے تقریر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خط میں کیا تھا، کچھ بھی نہیں تھا، بین الاقوامی سازشی جنہیں کہتا ہے، انہی سے قرضے لیتا ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اُن کے سامنے گروی رکھ دیا ہے اور کہتا ہے وہ میرے خلاف سازش کر رہے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم ایسی روایات کو جنم دیں گے کہ آنے والی نسلیں اس پر عمل کرسکیں، وہ روایات آئینی، قانونی اور اخلاقی روایات ہوں گی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *