Blog Cover jahur Blog 808x454

جھور” پوشیدہ تاریخ کی کہانی”

79 views

دستاویزی فلم “جھور” پوشیدہ تاریخ کی کہانی

تحریر: بلال حسین

 

سانحہ 16 دسمبر اور ہم

بلا کا حبس رگوں میں اُتر گیا اب کے ۔۔ نجانے زہر بھری یہ ہوا کہاں کی ہے

 

شکست خوردہ لوگوں کی کون سنتا ہے؟

جہاں سقوطِ ڈھاکہ تاریخ کی دردناک سچائی ہے ،وہیں لاکھوں  انسانوں کی مظلوم داستان بھی ہے-

سولہ دسمبر 1971 کا سانحہ ، انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ تھا ۔ سچائی اور ایمانداری کے ساتھ حقائق کو تاریخ کا حصہ بنایا جانا تھا لیکن سوختہ نصیبی کہ ہم نے من حیث القوم اپنی ذات کے سوا  سقوطِ ڈھاکہ کے متاثرین کی درد ناک زندگیوں کو یکسر فراموش کردیا ۔ یہ صرف کسی ملک کے دو لخت ہونے کا واقعہ نہیں تھا ۔۔ بلکہ انسانوں کی المناک داستان تھی ، جسے انسانی تاریخ کے اوراق پر آنے سے پہلے ہی مٹا دیا گیا ۔

“دنیا کا ایک اور بہت بڑا المیہ ہے کہ کامیاب لوگ ہی تاریخ لکھتے ہیں جو کامیابی کی دلیل تو دیتی ہے لیکن ناکام لوگوں کی سچائی کو مسخ کردیتی ہے ۔ “بالکل اسی طرح کا معاملہ مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان کے ہتھیار ڈالنے سے منسوب ہے ۔ یہ داستان فقط اُن ہزاروں  جنگی قیدیوں کی نہیں ہے بلکہ یہ اُن شکست خوردہ لوگوں کی غمناک داستان ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ کھودیا اور گزشتہ پچاس برسوں میں اُنہیں کبھی سنا نہیں گیا ، اُن سے کچھ کہا نہیں گیا ۔۔

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک ۔۔بات نہیں کہی گئی ، بات نہیں سنی گئی

 

راوا ڈاکیومنٹری فلمز کی پیشکش ؛ڈاکیومنٹری فلم “جھور”

تاریخ کی ورق گردانی کریں تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ ہم جس ترقی کے دور میں اپنی برق رفتار زندگی گزار رہے ہیں وہ گزرے ہوئے ماضی سے بالکل لاعلم اور بے خبر ہے ۔ وڈیو بلاگز سے پوڈکاسٹ تک سبھی لمحوں کا کھیل بن کر رہ گیا ہے ۔ گوگل اور دیگر انٹرنیٹ سرچ انجنوں کے الگوردم اس قدر تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں کہ ہم آج ہونے والا واقعہ دوسرے روز ہی بھلا دیتے ہیں اور پھر تاریخ میں ہونے والے واقعات کو فراموش کردینا اب ایک فطری عمل سمجھا جانے لگا ہے جو کہ قطعی طور پر غلط  ہے ۔ سقوطِ ڈھاکہ کا سانحہ تقسیم ِ ہند کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا اندوہناک اور افسوسناک امر تھا ۔ پاکستان میں آنے والے حکمرانوں نے اپنی حاکمیت کے خمار میں کبھی سچ کو جاننے کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی اور نہ ہی ہم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم میں سے کوئی اس کا من و عن ذمے دار بھی ہوسکتا ہے ۔ سیاسی رسہ کشی کے دوران ہونے والے قومی حادثے نے پاکستان کو دو لخت کردیا ۔ مشرقی پاکستان کے سانحے پر  آدھی صدی گزرجانے کے باوجود کسی سیاسی یا عسکری قیادت نے کبھی اِس بارے میں کھل کر بات ہی نہیں کی ۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے یہ بھی ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید ہی کبھی مل سکے ۔ لیکن راوا اسٹوڈیوز کے ذیلی  ادارے راوا ڈاکیومنٹری فلمز نے سانحہ سقوطِ ڈھاکہ پر غیر جانبدار ی کے ساتھ تحقیق کرتے ہوئے ایک دستاویزی فلم ” جھور” بنائی ہے ۔

جھور ایک طوفان ہے

جھور بنگالی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی “طوفان ” کے ہیں ۔ اس ڈاکیومنٹری فلم کی پروڈکشن خاصہ مشکل اور کٹھن کام تھا لیکن آرپا ٹیک کمپنی کے وینچر راوا ڈاکیومنٹری فلمز نے شب و روز اپنی انتھک محنت سے یہ ڈاکیومنٹری کو اِس قابل بنایا ہے کہ اب اس سے وہ تمام سوالات اور الزامات کا سد باب ممکن نظر آرہا ہے جس کے بارے میں پچاس برس گزرنے کے باوجود کوئی کھل کر بات نہیں کرسکا ۔

گو کہ یہ دستاویزی فلم پاکستان میں بنائی گئی ہے لیکن اِس میں پاکستان کی حمایت کا عنصر صرف اُتنا ہی شامل کیا گیا ہے جس کی گواہی تاریخ نے دی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے شیخ مجیب الرحمان تک جو بھی سیاسی اور غیر سیاسی واقعات رونما ہوئے ، جو بیانات کا تبادلہ ہوا اور جو خفیہ اور عوامی میٹنگز ہوتی رہیں اُن سب کا احوال اور اسباب اِس فلم میں بڑے فصیح اور بلیغ طریقے سے شامل کیے گئے ہیں ۔ اُس وقت کی عسکری قیادت جنرل یحیٰ خان سے لے کر جنرل امیر عبداللہ خان نیازی تک کے درمیان جو بھی لائحہ عمل طے پایا اور عالمی طاقتوں نے کس طرح سے مشرقی پاکستان میں بھارت کے ساتھ مل کر مداخلت کی ، اُس کی روداد تمام ثبوتوں اور گواہیوں کے ہمراہ اس فلم کا خاصہ ہیں ۔ مشرقی پاکستان میں کو بنگلہ دیش بنانے کی سازش کا اعتراف بھارت خود ہی کرچکا ہے لیکن دنیا اور خاص طور پر بنگلہ دیش ، بھارت اور پاکستان کی عوام اِس اندرونی کہانی سے ناواقف ہی رہے ۔

عالمی مصنفین اور تاریخ دان کیا کہتے ہیں

ڈاکیومنٹری فلم جھور میں عالمی شہرت یافتہ کتابوں سے مدد لی گئی ہے اور اُن بڑے نامور صحافیوں ، تاریخ دانوں ، محقق ، دانشوروں ، فوجی جرنیلوں کی تحقیق اور بیانات کو شامل کیا گیا ہے جس کا تعلق براہِ راست سانحہ مشرقی پاکستان سے ہے ۔ جس میں سر فہرست عالمی شہرت یافتہ بنگالی رائیٹر شرمیلا بوس کی کتاب ڈیڈ ریکننگ سے اقتباسات کو ڈاکیومنٹری میں شامل کیا گیا ہے ۔ اِس کے علاوہ ، ولیم ڈرمنڈ ، بنگالی تاریخ دان اور مصنف ڈاکٹر عبد المومن چوہدری ، سابق بھارتی آرمی چیف ، جنرل وی۔ کے ۔سنگھ  ، بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق آفیسر اشوکا رائینااور جنرل نیازی کی کتابوں کے حوالے موجود ہیں ۔ گنگا ہائی جیکنگ سے لے کر آپریشن سرچ لائٹ ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہونے والے واقعات کو اُن لوگوں نے بیان کیا ہے جو اُس وقت وہاں موجود تھے ۔ اُس وقت کے بھارتی آرمی چیف جنرل مانک شا نے جو کچھ پاکستانی آرمی کے لئے کہا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے  اور جس کی بھارت نہ چاہتے ہوئے بھی نفی نہیں کرسکتا ہے ۔

فلم جھور ماضی کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے

فیلڈ مارشل ایوب خان کے دورِ حکومت میں ہونے والی اگرتلہ سازش کو جس طرح سے کالعدم قرار دینے کا سیاسی ڈرامہ مغربی اور مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں نے رچایا اُس کا راز خود شیخ مجیب الرحمان کے قریبی ساتھی شوکت علی نے بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی میں افشاں کردیا ۔ یہی نہیں اور کئی ایسے پہلو ہیں جو عوام الناس کی نگاہوں سے اوجھل رہے اور جس پر کسی نے زحمت ہی نہیں کی کہ حقائق پر سے پردہ ہٹا کر دنیا کو سچ بتایا جائے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ مشرقی پاکستان جب بنگلہ دیش بن گیا تو پاکستان کو اِس محاذ پر ہزیمت اُٹھانی پڑی اور دنیا کا وطیرہ ہے کہ ہارے ہوئے لوگوں کا سچ کوئی سننے اور جاننے کو تیار نہیں ہوتا ۔

مشرقی پاکستان میں عالمی طاقتوں کی دلچسپی

راوا ڈاکیومنٹری فلمز نے اِس شکستہ حال  اور بے حد رسوائی والے مقدمے کو ایک بار پھر سے عوام کے سامنے پیش کرنے کا عزم کیا ہے ، اِس لئے نہیں کہ مقدمے کا فیصلہ کسی کے حق میں ہوجائے بلکہ مقدمے کے اُن پہلوؤں کو عوام کے سامنے لایا جائے جن پر کبھی جرح یا بحث ہی نہیں کی جاسکی ۔ کس طرح سویت یونین اور بھارت کے مابین ہونے والے معاہدے نے 1971 پاک بھارت جنگ میں اپنا کلیدی کردار اداکیا اور عین موقع پر سوپر پاور امریکہ نے پاکستان کو خواب دکھا کر چکنا چور کردیے ، یہ سب ڈاکیومنٹری فلم کے اہم حصے ہیں ۔

گمنام ساتھی جو راہ وفا میں مارے گئے

راوا ڈاکیومنٹری فلمز کی چھتری تلے بننے والی دستاویزی فلم ” جھور ” آواز ہے اُن لاکھوں گمنام مغربی اور مشرقی پاکستانیوں کی جو تاریک راتوں میں بے موت مارے گئے ۔ جن کے لخت جگروں کو اُن کے سامنے بے رحمی سے قتل کردیا گیا ، بچوں سے اُن کے ماں باپ کا سایہ چھین لیا گیا ، بے یارو مددگار انسانوں پر جو ظلم اور بربریت کی تصویر کشی کی گئی اُس کی عکاسی تو ضرور ہوئی لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اِن معصوم انسانوں کی قیمتی جانوں کا ذمے دار کون تھا ؟ ہزاروں پاکستانیوں اور اُن کے اہل خانہ کو بھارت نے کم و بیش ڈھائی برس جنگی قیدی بنائے رکھا لیکن عالمی طاقتوں کی انسانی ہمدردی کی حس حرکت میں نہ آسکی ۔ کسی ملک نے بھارت سے قطع تعلق کرنے کا فیصلہ کیا اور نہ ہی اِس بات پر کبھی بھارت پر دباؤ ڈالا کہ ہزاروں پاکستانیوں کو جنگی قید سے رہا کیا جائے اور وطن واپس بھیجا جائے ۔ جھور ، اُنہیں ساتھیوں کے نام ہے جو گمنام شہادتیں دے کر دارِ فانی سے کوچ کرگئے ، جن کی متیوں کو کاندھا دینے والا کوئی موجود نہیں  تھا ۔ اِس فلم میں آپ اُن لوگوں کی آپ بیتی بھی سنیں گے جنہوں نے مشرقی پاکستان  میں ہونے والی بربریت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے  ۔ اِس ڈاکیومنٹری کو دیکھ کر بڑی ذمے داری کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بڑے محتاط انداز میں سانحہ مشرقی پاکستان کی روداد سنائی گئی ہے ۔

ہم نے تاریخ کو سنجیدہ نہیں لیا

اگر آپ فلم کے کسی موضوع یا حصے سے اختلاف کرتے ہیں اور وہ اختلاف تحقیقی اور علمی سطح کا ہوتا ہے تو یہ ایک صحت مند علمیت کی علامت ہے ۔ اپنے ذاتی بغض کو کنارہ کرتے ہوئے اختلاف کیجئے ۔ پاکستان جیسے ملک میں تاریخ کو جس طرح سے پڑھایا جاتا ہے اُس کی وجہ سے بھی ہم حقائق کو اُس طرح سے قبول نہیں کرپاتے ہیں جیسا کہ اُن کا حق ہے اور نتیجہ اختلاف کی حد سے نکل کر ذاتیات اور بغض کے گھروں میں جا نکلتا ہے ۔ بھارت اور بنگلہ دیش نے ہمیشہ قومیت کی بات کی اور تعصب کے راستوں پر چلتے ہوئے ، اس قدر دُور نکل گئے کہ پڑوسی ہوتے ہوئے بھی پڑوس کے اصل دُکھ درد کا احساس تو کجا ، کبھی اچھے تعلقات بھی قائم نہ رکھ سکے ۔ جب تاریخ سے غلطیوں کا ازالہ کیا جائے گا تب ہی تینوں ممالک میں غربت ، بے روزگاری اور صحت عامہ کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جانا ممکن ہے ۔

راوا اسٹوڈیوز کی شاخ راوا ڈاکیومنٹری فلمز  کی بنائی گئی ڈاکیومنٹری فلم ” جھور” اپنی انفرادی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ پاکستان میں اِس طرح کی ڈاکیومنٹری فلمز کو  نا صرف پسند کیا جائے گا بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی ۔ فلم جھور کا مقصد صرف اُن پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے جو آج تک اوجھل رہے ۔ بقول ظہؔیرکاشمیری:

؎ ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے

 

 

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *